- ہوم
- کتابیں
- اربَعیْنِ حَنفِیَّہ
- حدیث نمبر 20
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ مُوْسیٰ قَالَ عَلَّمَنَا رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلوٰۃِ فَلْیَؤُمُّکُمْ أحَدُکُمْ وَاِذَا قَرَأَ الْاِمَامُ فَاَنْصِتُوْا۔رَوَاہُ أَحْمَدُ وَ مُسْلِمٌ ( الصحیح لمسلم،۱/۱۷۴ اَلدِّرَایَۃُ فِیْ تَخْرِیْجِ اَحَادِیْثِ الھِدَایَۃِ ۱/۱۶۴، مُسْنَدُ اَبِیْ عَوَانَہ۲/۱۳۳۔)
عن ابی موسی قال علمنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم قال اذا قمتم الی الصلوۃ فلیومکم أحدکم واذا قرا الامام فانصتوا۔رواہ أحمد و مسلم ( الصحیح لمسلم،۱/۱۷۴ الدرایۃ فی تخریج احادیث الھدایۃ ۱/۱۶۴، مسند ابی عوانہ۲/۱۳۳۔)
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا ابو موسیٰ اشعریرضی اﷲ عنہکہتے ہیں کہ رسول کریم و رؤف رحیمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے ہمیں سکھایا کہ جب تم نماز کے لئے اٹھو تو چاہیئے کہ تم میں سے ایک تمہارا امام بنے اور جب امام پڑھے تو تم چپ رہو ۔
اس کو امام احمدومسلم نے روایت کیا۔
شرح حدیث
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرائت امام کا حق ہے اور مقتدی کو خاموش رہنے کا حکم ہے ۔یہ حدیث قرآن کریم کی تفسیر ہے ۔اﷲ تعالیٰفرماتا ہے :اِذَا قُرِیَٔ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ o ترجمۂ کنزالایمان:اور جب قرآن پڑھا جائے تو اُسے کان لگاکر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو۔(الاعراف۹/۲۰۴ )
اس آیت سے یہ معلوم نہیں ہوتا تھاکہ پڑھنے والا کون ہو۔ حدیث مذکور نے یہ بیان کردیا کہ وہ پڑھنے والا امام ہے۔جب امام قرآن پڑھے تو تم خاموش رہو۔ معلوم ہوا کہ مقتدی ’فاتحہ‘ خلف الامام نہ پڑھے(یعنی امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ نہ پڑھے)۔ یہی صحیح ہے ۔ حضرت سیدناابوہریرہرضی اﷲ عنہنے بھی اس حدیث کو روایت کیا۔ فرمایا رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے :اِنَّمَا جُعِلَ الْاِمَامُِ لِیُؤْتَمَّ بِہِ فَاِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوْا وَاِذَا قَرَءَ فَاَنْصِتُوْا۔ترجمہ :امام اس لئے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو۔ جب وہ پڑھے تو تم چپ رہو۔(1 ) اس کو ابوداؤد، ابن ماجہ، نسائی وغیرہم نے روایت کیا۔ یہ حدیث بھی صحیح ہے۔ اس کو مسلم نے بھی صحیح کہا ہے ۔
-------------
∞(1)..(النسائی ۱/۱۱۲َ ۔)
ماخذ و مراجع
کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 20