Main Icon

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ - حدیث نمبر: 10

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ شَقِیْقِ بْنِ سَلَمَۃَ قَالَ شَھِدْتُّ عَلِیَّ ابْنِ أَبِيْ طَالِبٍ وَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ تَوَضَّاَ ثَلاثًا ثَلاثًا وَ اَفْرَدَ الْمَضْمَضَۃَ مِنَ الْاِسْتِنْشَاقِ ثُمَّ قَالَا ھٰکَذَا رَاَیْنَا رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تَوَضَّأَ ۔ رَوَاہٗ عَلِیُّ بْن السَّکَنِ فِي صِحَاحِہِ ، آثَارُالسُّنَنِ. (تَلْخِیْصُ الْحَبِیْرِ۱/۷۹، اَلْاَحَادِیْثُ الْمُخْتَارَہْ۱ /۵۷۲۔ )

عن ابی وائل شقیق بن سلمۃ قال شھدت علی ابن أبي طالب و عثمان بن عفان توضا ثلاثا ثلاثا و افرد المضمضۃ من الاستنشاق ثم قالا ھکذا راینا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم توضأ ۔ رواہ علی بن السکن في صحاحہ ، اثارالسنن. (تلخیص الحبیر۱/۷۹، الاحادیث المختارہ۱ /۵۷۲۔ )

حدیث ترجمہ

حضرت ابووائل شقیق بن سلمہرضی اﷲ عنہکہتے ہیں کہ میں حضرت سیدنا علی اور حضرت سیدنا عثمانرضی اﷲ عنہماکے پاس حاضر ہوا ان دونوں نے تین تین بار وضو کے اعضاء کو دھویا اور کلی کو ناک میں پانی ڈالنے سے علیٰحدہ کیا۔ پھر فرمایا کہ ہم نے رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ۔
اس حدیث کو ابن السکن نے اپنی صحاح میں روایت کیا ۔

شرح حدیث

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کلی الگ تین بار اور ناک میں الگ تین بار پانی ڈالنا چاہیئے۔یعنی دونوں کے لئے الگ الگ پانی لینا چاہیئے۔ امام اعظمرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِکا یہی مذہب ہے ۔اسی طرح ابوداؤد(1 )کی حدیث میں آیاہے کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کا سوال ہوا۔ تو انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت سیدنا عثمانرضی اﷲ عنہکو دیکھا کہ ان کو وضو کا سوال ہوا۔ تو آپرضی اﷲ عنہنے پانی منگوایا ۔ تو آپرضی اﷲ عنہکے پاس پانی کا برتن لایا گیا تو آپرضی اﷲ عنہنے اپنے داہنے ہاتھ پر اس کو جھکایا۔ یعنی اس برتن سے داہنا ہاتھ دھویا پھر آپرضی اﷲ عنہنے داہنے ہاتھ کو پانی میں ڈال کر تین بار کلی کی اور تین بار ناک میں پانی ڈالا پھر تین بار منہ دھویا۔ پھر تین بار دایاں ہاتھ دھویا اور بایاں ہاتھ تین بار دھویا ۔ پھر اپنا ہاتھ ڈال کر پانی لیا اور سر کا مسح کیا اور کانوں کے ظاہر و باطن کا ایک مسح کیا۔ پھر دونوں پاؤں دھوئے اور فرمایا کہ وضو کے سائل کہاں ہیں ؟ میں نے رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے۔ آثار السّنن میں اس حدیث کی سند کو صحیح لکھا ہے ۔ اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ مضمضہ(کُلّی کرنا)اور استنشاق(ناک میں پانی چڑھانا)الگ الگ کرنا چاہیئے البتہ جن روایتوں میںجَمَعَ بَیْنَ الْمَضْمَضَۃِ وَ الْاِسْتِنْشَاقِآیا ہے وہ جواز پر محمول ہیں لیکن افضل فصل(الگ الگ کرنا)ہے۔--------------------------
(1 )..السّنن لابی داؤد باب صفۃ وضؤ النّبيا۱/۷۱

ماخذ و مراجع

کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 10