- ہوم
- کتابیں
- اربَعیْنِ حَنفِیَّہ
- حدیث نمبر 31
حدیث مبارکہ
عَنْ وَائِلِ بْنِ حَجَرٍ قَالَ صَلَّیْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَلَمَّا قَعَدَ وَتَشَھَّدَ فَرَشَ قَدَمَہُ الْیُسْریٰ عَلَی الاَرْضِ وَ جَلَسَ عَلَیْھَا ۔ رَوَاہُ الطَّحَاوِِیْ ( شرح معانی الاثار للطحاوی ۱۸۴ ۔)
عن وائل بن حجر قال صلیت خلف رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم فلما قعد وتشھد فرش قدمہ الیسری علی الارض و جلس علیھا ۔ رواہ الطحاوی ( شرح معانی الاثار للطحاوی ۱۸۴ ۔)
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا وائلرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں میں نے رسول کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیچھے نماز پڑھی جب آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیٹھے اور تشہد پڑھا تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بایاں قدم زمین پر بچھایا اور اس پر بیٹھے۔
اس کو طحاوی نے روایت کیا ۔
شرح حدیث
اسی طرح عبدﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے آیا ہے ۔آپرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ نماز کی سنت میں یہ ہے کہ دایاں پاؤں کھڑا کیا جائے اور اس کی انگلیوں کا قبلہ رخ ہونااور بائیں پاؤں پر بیٹھنا (نماز کی سنن میں سے ہے )۔ اس کو نسائی نے روایت کیا۔(1 )جس حدیث میں قعدہ اخیرہ میںتَوَرُّکْ( 2)آیا ہے وہ ہمارے علماء کے نزدیک حالت پیری(3 ) پر محمول ہے یا کسی عذر پر یابیان جواز کے لئے اور ہوسکتا ہے کہ سلام کے بعد آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس طرح بیٹھے ہوں۔قَالَہٗ عَلِیُّ نِالْقَارِیٔ فِی الْمِرْقَاۃِ۔
--------------
∞(1).. النسائی ۲/۲۳۶۔(2).. یعنی بایاں پاؤں نیچے سے نکال کر سرین پر بیٹھنا (جیسے عورتیں بیٹھتی ہیں)۔(3).. کِبر سنِی یعنی بڑھاپے کی حالت۔
ماخذ و مراجع
کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 31