Main Icon

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ - حدیث نمبر: 40

حدیث مبارکہ

عَنْ مُعَاوِیَۃَ قَالَ ، قَالَ رسول اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مَنْ یُرِدِ اﷲُ بِہٖ خَیْرًا یُفَقِّھْہُ فِیْ الدِّیْنِ وَاِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَ اﷲ یُعْطِيْ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ( صحیح البخاری ۱؍۳۹ ، ۲؍۹۳۹، ۶؍۲۶۶۷ ، الصحیح لِمسلم ۲؍۷۱۹۔ )

عن معاویۃ قال ، قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم من یرد اﷲ بہ خیرا یفقھہ فی الدین وانما انا قاسم و اﷲ یعطي۔ متفق علیہ( صحیح البخاری ۱؍۳۹ ، ۲؍۹۳۹، ۶؍۲۶۶۷ ، الصحیح لمسلم ۲؍۷۱۹۔ )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا معاویہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے رسول کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ جس شخص کے حق میںاﷲ تعالیٰبہتری کا ارادہ رکھتا ہے اسے دین کی سمجھ دیتا ہے ۔یعنی اسے عالم فقیہ بنادیتا ہے۔ سوائے اس کے نہیں میں تقسیم کرنے والا ہوں(1)اورخدا تعالیٰ دیتا ہے۔ یعنی ہر وہ چیز کہ خدا دیتا ہے اس کو میں تقسیم کرنے والا ہوں ۔

شرح حدیث

( 1) شارحِ بخاری فقیہ ِ اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدیعلیہ الرحمۃحدیث ’’اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَاللّٰہُ یُعْطِیْ‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ کہ یہاں صرف ’’ قاسم ‘‘ ہے اور بخاری کتاب الجہاد میں تعلیقاً قاسم کے ساتھ خازن بھی ہے(بخاری ۱؍۴۳۹) ، معانی کا قاعدہ ہے کہ فعل یا شبہ فعل کا متعلق بھی اس کا مفعول وغیرہ جب محذوف ہوتا ہے تو وہ عموم کا افادہ (فائدہ دیا) کرتا ہے ۔یہاں قاسم (وہاں)خازن، یُعطی تینوں کے مفعول محذوف ۔آج تک جوکچھ ملا، یاآئندہ ملے گا ان سب کا دینے والاﷲ تعالیٰہے اور ان سب کا خازن میں ہوں اور ان سب کا بانٹنے والا میں ہوں۔ جس طرحاﷲ تعالیٰکے معطی ہونے میں کسی قسم کی کوئی تخصیص(مخصوص کرنا) جائز نہیں ۔اسی طرح حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قاسم وخازن ہونے میں کسی قسم کی تخصیص جائز نہیں ۔ جس طرح تمام مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ عالم کی ہر نوع ہر فرد خواہ وہ فرشتے ہوں ۔خواہ وہ انسان خواہ جن ہوں خواہ اور کچھ سب کو سب کچھاﷲتعالیٰکی عطاء سے ملا اور ملے گا ۔ اِ سی طرح یہ اعتقاد بھی واجب کہ سب کو بلااستثناء جو کچھ ملا یا ملے گا وہ سب حضور اقدس کے دیئے سے ملا۔اس لیئے جن لوگوں نے اسے علم کے ساتھ خاص کیا یہ درست نہیں ۔ حیات بھی از قسم عطا ہے تو سب کو حیات بھی حضور کے ہاتھوں ملی تو ثابت ہوا کہ ہر ذی حیات سے پہلے حضور اقدس موجود تھے۔ اور آپ کی تخلیق سارے عالم سے پہلے ہوئی۔ خواہ وہ آدم ہوں خواہ جبرئیل و دیگر ملائکہعلیہم السلام۔ امام احمد بن حنبل و امام بخاری کے استاذ امام عبد الرزاقعلیہم الرحمۃنے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔یَا جَابِرُ اِنَّ اﷲ َ تَعَالیٰ قَدْ خَلَقَ قَبْلَ الاَشْیَاءِ نُوْرَ نَبِیِّکَ مِنْ نُوْرِہٖ۔ اے جابر !اﷲ تعالیٰنے تمام چیزوں سے پہلے تیرے نبی کے نور کو اپنے نور سے پیدا کیا۔اَلْمَوَاھِبُ الُدنّیۃ۱/۵۵،مدارج النبوۃ ۲/۲،شَرْحُ الْمَوَاھِبِ لِزرْقَانِیْ۱/ ۴۶،نُزْھَۃُ الْقَاِریْ شَرْحُ الْبُخَارِیْ۴۲۵تا ۴۲۶۔
کنجیاں اپنے خزانوں کی خدا نے دی تمہیں
اپنے رب کے اذن سے تم مالک و مختار ہو
معلوم ہوا کہ جس کو جو کچھ ملتا ہے حضور سرورِدوعالم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی کے ہاتھوں ملتا ہے ۔اور وہ ہر ایک کو حسبِ مراتب عطا فرماتے ہیں ۔ انہیں علم ہے کہ فلاں اس قابل ہے اور فلاں اس قابل۔وَ اللّٰہُ تَعَالیٰ اَعْلَمُ
ھٰذَا اٰخِرُ مَا أَرَدْنَا فِيْ ھٰذَا الْبَابِ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ بِنِعْمَتِہٖ تَتَمَّ الصَّالِحَاتُ۔
عظمتِ امام الائمہ سیدنا امام اعظمسیدنا امام اعظم ابو حنیفہ نے اپنی زندگی میں پچپن حج کئے جب آخری بار حج کی سعادت حاصل کی تو خدام کعبہ مشرفہ نے آپرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکی خواہش پر آپرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے لئے باب الکعبہ کھول دیا آپ بصد عجز ونیاز اندر داخل ہوئے اوربیت اﷲکے دو ستونوں کے درمیان کھڑے ہو کر دو رکعت میں پورا قرآن ختم کیا ۔ پھر دیر تک رو رو کر مناجات کرتے رہے ۔ آپ مشغول دعا تھے کہبیت اﷲکے ایک گوشہ سے آواز آئی۔ ’’تم نے اچھی طرح ہماری معرفت حاصل کی اور خلوص کے ساتھ خدمت کی ۔ ہم نے تم کو بھی بخشا اور قیامت تک جو تمھارے مذہب پر ہوگا (یعنی جوتمھاری تقلید کرے گا ) اس کو بھی بخش دیا‘‘۔ (الخیرات الحسان)
امام بخاری کے دادا استاذ سیّدنا
عبد اﷲبن مبارکرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمنے فرمایافَلَعْنَۃُ رَبِّنَا اَعْدَادَ رَمْلٍ عَلٰی مَنْ رَدَّ قَوْلَ اَبِیْ حَنِیْفَۃَترجمہ: ہمارے رب کی لعنت ہوریت کے ذروں کی تعداد میں ، اس (شخص )پر جو ابو حنیفہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے فرمان کو رد کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 40