- ہوم
- کتابیں
- اربَعیْنِ حَنفِیَّہ
- حدیث نمبر 26
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ ، قَالَ رَسُوْلُ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِذَا قَالَ الْاِمَامُ سَمِعَ اﷲ ُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُوْلُوْا اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ فَإِنَّہٗ مَنْ وَافَقَ قَوْلُه‘ قَوْلَ الْمَلٰئِکَۃِ غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ ( صحیح البخاری ۳؍۱۱۷۹، الصحیح لمسلم ۱؍۳۰۶۔)
عن ابي ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال ، قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم اذا قال الامام سمع اﷲ لمن حمدہ فقولوا اللھم ربنا لک الحمد فإنہ من وافق قوله‘ قول الملئکۃ غفر لہ ما تقدم من ذنبہ ۔ متفق علیہ ( صحیح البخاری ۳؍۱۱۷۹، الصحیح لمسلم ۱؍۳۰۶۔)
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے فرمایا رسول کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب امامسَمِعَ اﷲ لِمَنْ حَمِدَہٗکہے تو تماَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُکہو ۔بے شک جس شخص کا قول فِرشتوں کے قول کے موافق ہو اس کے اگلے سب گناہ بخشے جاتے ہیں ۔
اس کو بخاری و مسلم نے روایت کیا۔
شرح حدیث
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مقتدی صرفرَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُکہے ۔اسےسَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗکہنے کی ضرورت نہیں ۔سَمِعَ اللّٰہُکہنا امام کا وظیفہ ہے ۔
حضرت سیدنا عامر شعبیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے پانچ سو صحابہ کرامرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمکی زیارت کی۔
وہ فرماتے ہیںلَا یَقُوْلُ الْقَوْمُ خَلْفَ الْاِمَامِ سَمِعَ اللّٰہ ُ لِمَنْ حَمِدَہُ وَلَکِنْ یَّقُوْلُوْنَ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ۔ اَخْرَجَہُ اَبُوْ دَاؤُدکہ امام کے پیچھے مقتدیسَمِعَ اللّٰہُنہ کہیں ۔ وہ صرفرَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُکہیں ۔اس کو ابوداؤد نے روایت کیا۔( 2)اور احادیث میں جو دعا ءرَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُسے زیادہ آئی ہے وہ یا تو اس حدیث سے پہلے پر محمول ہے یا حالت انفراد پر یا تَطَوُّعْ( 2)پر محمول ہے ۔
-----------------
∞(1)..ابوداؤد ۱؍۲۲۴۔(2)..نوافل۔
ماخذ و مراجع
کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 26