- ہوم
- کتابیں
- اربَعیْنِ حَنفِیَّہ
- حدیث نمبر 6
حدیث مبارکہ
عَنْ عَلِیِّ بْنِ شَیْبَانَ قَالَ قَدِمْنَا عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اَلْمَدِیْنَۃَ فَکَانَ یُؤَخِّرُ الْعَصْرَ مَا دَامَتِ الشَّمْسُ بَیْضَاءَ نَقِیَّۃً ۔رَوَاہُ أَبُوْدَاؤُدُ وَسَکَتَ عَنْہُ۔
عن علی بن شیبان قال قدمنا علی رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم المدینۃ فکان یؤخر العصر ما دامت الشمس بیضاء نقیۃ ۔رواہ أبوداؤد وسکت عنہ۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ :-حضرت علی بن شیبانرضی اﷲ عنہکہتے ہیں کہ ہم مدینہ شریف میں رسول کریم ، رؤف رحیمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپعَلَیْہِ السَّلامعصر کی نماز میں تاخیر فرماتے تھے جب تک سورج صاف اور روشن رہتا ۔ (1 )--------------------------
(1 ) ..سنن ابی داؤد ۱/۱۱۱
شرح حدیث
اس کو ابوداؤد نے روایت کیا اور اس پر سکوت فرمایا۔ابوداؤد جس حدیث پر سکوت فرماتے ہیں وہ ان کے نزدیک حسن ہوتی ہے ۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز عصر کو تاخیر سے پڑھنا مستحب ہے ۔اور تاخیر کی حد بھی معلوم ہوگئی کہ سورج کے زرد ہونے سے پہلے پڑھے جبکہ آفتاب صاف اور روشن ہو۔ اتنی تاخیر نہ کرے کہ وقت مکروہ ہوجائے۔ اسی کی تائید میں وہ حدیث ہے جو امام احمد وترمذی نے بسند صحیح اُمِّ سَلَمَہْرضی اﷲ عنہاسے روایت کیا ہے ۔وہ فرماتی ہیں کہ جناب رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنماز ظہر کو تم سے جلدی پڑھتے تھے اور تم نماز عصر جناب رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمسے جلدی پڑھتے ہو (1 )۔ معلوم ہوا کہ نماز عصر میں تاخیر کرنا مستحب ہے ۔ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکا یہی طریقہ تھا اور یہی امام اعظمرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِکا مذہب ہے ۔
عبد الرزاق اپنی مُصَنَّفْ میں ثَوْرِیْ سے وہ ابو اسحاق سے وہ عبدالرحمن بن یزید سے روایت کرتے ہیں کہ عبداﷲبن مسعودرضی اﷲ عنہعصر کی نماز میں تاخیر کیا کرتے تھے۔ ( 2)
اسی طرح عبد الواحد بن نافع کہتے ہیں کہ میں مسجد مدینہعَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلٰوۃُ وَ السَّلاَمُمیں داخل ہوا تو مؤذِّن نے نماز عصر کے لئے اذان دی ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے مؤذِّن کو ملامت کی اور فرمایاکہ میرے باپ نے مجھے خبردی ہے کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنماز عصر کی تاخیر کا حکم دیا کرتے تھے میں نے پوچھا کہ یہ بزرگ کون ہیں لوگوں نے کہا یہ عبداﷲبن رافع بن خدیج ہیں ۔اس حدیث کو دارقطنی اور بیہقی نے روایت کیا ۔ (صحیح بہاری جلد ۲ ص ۳۵۹)
معلوم ہوا کہ نماز عصر میں تاخیر مستحب ہے اور جن حدیثوں میں عصر کا سویرے (جلدی)پڑھنا آیا ہے وہ ان احادیث کے منافی نہیں کیونکہ سورج کے تَغَیُّر سے پہلے عصر پڑھ لینے سے غروب تکنَحْرٌ طَبْخٌ اَکْلٌ(ذبح کرنا‘ پکانااور کھانا)سب کچھ ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ اہل بادیہ (دیہاتی)یہ سب کا م جلدی کرلیتے ہیں ۔--------------------------
(1 ) ..جامع الترمذی ابواب الصلوۃ ۱ / ۲۳۔
(2 ) ..مصنف عبدالرزاق ۱؍۳۰۶۔
ماخذ و مراجع
کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 6