Main Icon

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ - حدیث نمبر: 11

حدیث مبارکہ

عَنْ اِبْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ مَنْ تَوَضَّأَوَمَسَحَ بِیَدَیْہِ عَلیٰ عُنُقِہٖ وَقَی الْغُلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔رَوَاہٗ اَبُو الْحَسَنِ بْنِ فَارِسٍ بِاَسْنَادِہٖ وَ قَالَ ھٰذَا اِنْ شَاءَ اﷲ تَعَالیٰ حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ۔ (تَلْخِیْصُ الْحَبِیْرِ ۱؍۹۳۔)

عن ابن عمر أن النبي صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم قال من توضاومسح بیدیہ علی عنقہ وقی الغل یوم القیامۃ۔رواہ ابو الحسن بن فارس باسنادہ و قال ھذا ان شاء اﷲ تعالی حدیث صحیح۔ (تلخیص الحبیر ۱؍۹۳۔)

حدیث ترجمہ

حضرت ابن عمررضی اﷲ عنہکہتے ہیں کہ رسول کریم ،رؤف رحیمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا جو شخص وضو کرے اور اپنے دونوں ہاتھوں سے گردن کا مسح کرے وہ قیامت کے دن طوق سے محفوظ رکھا جائے گا ۔

شرح حدیث

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گردن کا مسح کرنا مستحب امر ہے ۔ چونکہ اس میں مواظبت(ہمیشگی) ثابت نہیں اس لئے سنت نہیں۔اس کی تائید میں وہ حدیث ہے جس کو دیلمی نے مسند فردوس میں ابن عمررضی اﷲ عنہماسے روایت کیا ہے کہ نبیصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا:مَنْ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلیٰ عُنُقہٖ وَقَی الْغُلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ترجمہ: کہ جو شخص وضو ٔ کرے اور گردن کا مسح کرے وہ قیامت کے دن طوق سے محفوظ رہے گا۔
احیاء السنن ص ۳۸
اِس کی تائید میں وہ حدیث ہے جس کو امام محمد
رحمہ اﷲنے روایت کیا کہ طلحہ اپنے باپ سے وہ اس کے جد سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکو دیکھا کہ آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمسر کا مسح کرتے یہاں تک کہ قذال(کیاڑی کا اول حصہ)( گدّ ی) تک پہنچ جاتے جو کہ متصل ہے گردن کی اگلی جانب کو۔ ابن تیمیہ نےمنتقیص ۱۸ میں اس حدیث سے مسح گردن کے ثبوت پر استدلال کیا ہے ۔ نیز ابو عبید کتاب الطہور میں موسی بن طلحہ سے روایت کرتے ہیں :اَنَّہقَالَ مَنْ مَسَحَ قَفَاہُ مَعَ رَاسِہٖ وَقَی الْغُلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ موسیٰ بن طلحہ فرماتے ہیں جو شخص پشتِ گردن کا مسح سر کے ساتھ کرے وہ قیامت کے دن طوقِ نار سے محفوظ رہے گا (تلخیص ص ۳۴) علامہ زیلعی نے تخریج ہدایہ کے ص ۸ میں مسند بزار کی روایت سے رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکے وضو کی حکایت نقل کی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں :ثُمَّ مَسَحَ عَلیٰ رَأْسِہٖ ثَلٰثاً وَ ظَاھِرِ اُذُنَیْہِ ثَلٰثاً وَظَاھِرِ رَقَبَتِہِ۔اس حدیث میں ظاہر گردن کا مسح ثابت ہوتا ہے۔ بہر حال مسح گردن مستحب ہے بدعت نہیں ۔شیخ ابن الہمام فتح القدیر میں فرماتے ہیں :اَلْاِسْتِحْبَابُ یَثْبُتُ بِالضَّعِیْفِ غَیْرَ الْمَوْضُوْعِ۔ترجمہ:کہ حدیث ضعیف سے استحباب ثابت ہوتا ہے۔امام نووی کتاب الاذکار ص ۱۶ میں فرماتے ہیں :قَالَ الْعُلَمَاءُ مِنَ الْمُحَدِّثِیْنَ وَالْفُقَھاءِ وَغَیْرُھُمْ یَجُوْزُ وَ یَسْتَحِبُّ الْعَمَلُ فِي الْفَضَائِلِ وَالتَّرْغِیْبِ وَالتَّرْھِیْبِ بِالْحَدِیْثِ الضَّعِیْفِ مَالَمْ یَکُنْ مَوْضُوْعًا۔ترجمہ:مُحَدِّثِیْن و فُقَہَاء وغیرہم فرماتے ہیں کہ ضعیف حدیث پر فضائلِ اعمال اور ترغیب(اعمالِ صالحہ کیلئے شوق بڑھانا)و ترہیب(گناہوں کے عذاب سے ڈرانا)میں عمل کرنامستحب ہے ۔ہاں موضوع (من گھڑت روایت)پر عمل جائز نہیں تو حدیثِ مسح گردن اگرچہ ضعیف ہے اس پر عمل کرنا محدثین و فقہاء کے نزدیک مستحب ہے اس لئے کہ یہ فضائل اعمال میں سے ہے ۔ اس زمانہ کے مدعیان عمل بالحدیث پر افسوس ہے کہ انہوں نے مسح گردن بالکل ترک کردیا ہے ۔ بلکہ بدعت(1 )کہتے ہیں ۔اﷲ تعالیٰان کو سمجھ دے۔-----------------------------
∞(1 )..بدعت, بُرا طریقہ بدعت کے بارے میں حضرت ابو حجیفہ αرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے کہ αرسول اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:جس نے اچھا طریقہ ایجاد کیا کہ اس کے بعد لوگ اس پر عمل پیرا ہوئے تو سب عمل کرنیوالوں کے برابر اس کو ثواب ملے گا اور ان کے ثواب میں کمی نہ ہوگی ۔ اور جس نے برا طریقہ نکالا کہ لوگ اس کے بعد اس روش پر چلے تو سب کا گناہ اس کے سر ہوگا جبکہ ان کے گناہوں سے کچھ کم نہ ہوگا۔(سّنن ابن ماجہ ، المقدّمۃ ، ۱/۱۹ )اس حدیث ِ پاک کی روشنی میں معلوم ہوا کہ بدعت اچھے یا بُرے طریقہ کو کہتے ہیں ۔جن احادیث میں بدعت کی مذمت آئی ہے اُس سے مراد بُری بدعت ہے ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 11