Main Icon

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ - حدیث نمبر: 12

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِيَ اﷲ ُ تَعَالیٰ عَنْھَا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مَنْ اَصَابَہٗ قَیْئٌ أَوْ رُعَافٌ أَوْ قَلْسٌ أَوْمَذْيٌ فَلْیَنْصَرِفْ فَلْیَتَوَضَّاْ ثُمَّ لِیَبْنِ عَلیٰ صَلَوٰتِہٖ وَھُوَ فِيْ ذٰلِکَ لَایَتَکَلَّمْ۔ رَوَاہُ ابْنُ مَاجَهْ۔

عن عائشۃ رضي اﷲ تعالی عنھا قالت قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم من اصابہ قیئ أو رعاف أو قلس أومذي فلینصرف فلیتوضا ثم لیبن علی صلوتہ وھو في ذلک لایتکلم۔ رواہ ابن ماجه۔

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتُنَاعائشہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے فرمایارسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے جس شخص کوقے یانکسیریاقلس(منہ بھرقے) آجاوے یا مذی نکلے تو وہ نماز سے ہٹ جائے پھر وضو کرے پھر اپنی نماز پر بناکرے اور اس کے درمیان کلام نہ کرے ۔ (1 )اس کو ابن ماجہ نے روایت کیا ۔--------------------------
(1 )..سنن ابن ماجہ ۔ باب ماجاء فی البناء علی الصّلوۃص۶۹۔

شرح حدیث

یہ حدیث مرسل صحیح ہے اسی کی تائید میں وہ حدیث جس کو عبد الرزاقرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنے مصنف میں سیدنا ابن عمررضی اﷲ عنہماسے روایت کیا کہ انہوں نے کہا جب کسی شخص کو نکسیر آجاوے نماز میں یا قے کا غلبہ ہوجائے یا مذی پائے سو وہ شخص ہٹ جائے پھر وضو کرے پھر اپنی جگہ آجائے اور باقی نماز کو گذشتہ نماز پر مبنی کرکے تمام کرے ۔ جب تک کلام نہ کیا ہو ۔ اس کی سند صحیح ہے۔ معلوم ہوا کہ منہ بھرقے( 1) اور نکسیر (ناک سے خون آنا)اور مذی (ایسا مادہ کہ جو شہوت کے غلبہ سے نکلتا ہے)سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔ یہی مذہب ہے امام اعظم ابو حنیفہرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِکا ۔--------------------------
∞(1 )..یعنی جسے بِلا تکلّف نہ روکا جاسکے ۔ (عالمگیری ۱؍۲۰۴) ، قے کے احکام پیشِ خدمت ہیں ۔ (الف) وُضو کی حالت میں (جان بوجھ کر کریں یا خود بخود ہوجائے دونوں صورتوںمیں)ا گر مُنہ بھر قے آئی اور اس میں کھانا، پانی یا صَفْراء (کڑوا پانی ) آیا تو وضو ٹوٹ جائے گا(الدّرالمختار ۳/۳۹۳)(ب) اگر بَلْغَم کی منہ بھرقے ہوئی تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ (الدرالمختار ۳/۳۹۴) (ج) بہتے خون کی قے وضو توڑ دیتی ہے ۔ (د) بہتے خون کی قے سے وضو اس وقت ٹوٹے گا جب خون تھوک سے مغلوب نہ ہو ۔ (الشّامی ۱/۲۶۷) یعنی خون کی وجہ سے قے سُرخ ہور ہی ہے تو خون غالب ہے وضو ٹوٹ گیا اور اگر تھوک زیادہ ہے اورخون کم تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اس کی نشانی یہ ہے کہ پوریقے جو تھوک پر مشتمل ہے وہ زرد (پیلی) ہے ۔ (ہ) اگر قے میں جما ہوا خون نکلا اور وہ منہ بھر سے کم ہے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ ( بہارِ شریعت ۲/ ۱۸) منہ بھر قے (علاوہ بلغم کے ) بالکل پیشاب ہی کی طرح ناپاک ہے ۔ اس کا کوئی چھینٹا کپڑے یا جسم پر نہ گرنے پائے اس کی احتیاط فرمائیں ۔آج کل لوگ اس میں بڑی بے احتیاطی کرتے ہیں ،کپڑوں پر چھینٹے پڑنے کی کوئی پرواہ نہیں کرتے اورمنہ وغیرہ پر جو ناپاک قے لگ جاتی ہے اُس کو بھی بلا جھجک اپنے کپڑوں سے پونچھ لیتے ہیں ۔αاﷲ
عَزَّوَجَلَّہمیں ہر قسم کی نجاست سے بچائے ۔ امین بجاہ النبی الامینα صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔

ماخذ و مراجع

کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 12