- ہوم
- کتابیں
- اربَعیْنِ حَنفِیَّہ
- حدیث نمبر 15
حدیث مبارکہ
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِيْ لَیْلٰی قَالَ حَدَّثَنَا اَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اَنَّ عَبْدَ اﷲِ بْنَ زَیْدِنِ الْاَنْصَارِيْ جَاءَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اﷲِرَاَیْتُ فِي الْمَنَامِ کَانَ رَجُلاً قَامَ وَعَلَیْہِ بُرْدَانِ اَخْضَرَانِ فَقَامَ عَلٰی حَائِطٍ فَأَذَّنَ مَثْنیٰ مَثْنیٰ وَ اَقَامَ مَثْنیٰ مَثْنیٰ ۔ رَوَاہُ ابْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ فِی الْمُصَنَّفِ وَ الْبَیْھَقِیُّ فِی سُنَنِہٖ. ( ابن ابی شیبہ ۱/۱۸۵، السنن البیھقی ۱/۴۲۰۔)
عن عبد الرحمن بن ابي لیلی قال حدثنا اصحاب محمد صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم ان عبد اﷲ بن زیدن الانصاري جاء إلی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم فقال یا رسول اﷲرایت في المنام کان رجلا قام وعلیہ بردان اخضران فقام علی حائط فأذن مثنی مثنی و اقام مثنی مثنی ۔ رواہ ابن ابی شیبۃ فی المصنف و البیھقی فی سننہ. ( ابن ابی شیبہ ۱/۱۸۵، السنن البیھقی ۱/۴۲۰۔)
حدیث ترجمہ
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکے اصحاب نے ہمیں حدیث بیان کی کہ عبداﷲبن زید انصاریرضی اﷲ عنہحضورعَلَیْہِ السَّلامکے پاس آئے اور عرض کی کہ یارسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّممیں نے خواب میں دیکھا ہے گویا ایک شخص کھڑا ہے اور اس پر دو سبز کپڑے ہیں ۔وہ دیوار پر کھڑا ہوا۔اس نے دو دو مرتبہ اذان دی اور دو دو مرتبہ اقامت کہی۔ اس کو ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور بیہقی نے سنن میں روایت کیا۔
شرح حدیث
جوھر النقیمیں ہے کہ ابن حزم نے فرمایا کہ اس حدیث کی سند نہایت صحیح ہے ۔یہ حدیث اذان میں اصل ہے ۔ اس میں ترجیع(پہلے پست اورپھر بلند آواز سے شھادتین (یعنی اَشْھَدُ والے کلمات) دہرانا)نہیں۔معلوم ہوا کہ ترجیع سنت نہیں ۔قَالَ ابْنُ الْجَوْزِیْ۔ حضرت سیدنا بلالرضی اﷲ عنہجو کہ سرور عالمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکے سامنے اذان دیا کرتے تھے۔اگر ترجیع مسنون ہوتی تو حضورعَلَیْہِ السَّلامحضرت سیدنا بلالرضی اﷲ عنہکو امر فرماتے اورحضرت سیدنا بلالرضی اﷲ عنہکم سے کم ایک بار تو ترجیع کے ساتھ اذان دیتے ۔ابو محذورہرضی اﷲ عنہ( 1)جس کی اذان میں ترجیع آئی ہے وہ دربارہ تعلیم ہے ۔ کہ ابو محذورہرضی اﷲ عنہنے اپنی آواز کو اتنا لمبانہ کیاکہ جتنا حضورعَلَیْہِ السَّلامکا ارادہ تھا۔ اس لئے فرمایا کہاِرْجِعْ وَ أمْدُدْ مِنْ صَوْتِکَ۔ پھر کہہ اور آواز بلندکر ۔علاوہ اس کے خود ابو محذورہرضی اﷲ عنہسے اذان بلا ترجیع آئی ہے۔ امام طحاوی نے عبد العزیز بن رفیع سے روایت کیا ہے ۔ اس نے کہا میں نے سنا ابو محذورہرضی اﷲ عنہکو، وہ دو دوبار آذان اور دو دو بار اقامت کہتے تھے۔ جو ہر النقی میں اس حدیث کو صحیح کہا ہے ۔ اور یہی مذہب ہے امام اعظمرحمہ اﷲکا ۔
وہ جو بعض روایات میں آیا ہے کہتخفض بھا صوتک ثم ترفع صوتک۔( ان میں اپنی آواز پست کر پھر بلند کر)وہ ضعیف ہے۔ اس میں حارث بن عبید ابو قدامہ راوی ہے جس کو امام احمد مضطرب الحدیث اور ابن معین ضعیف کہتے ہیں۔ نسائی نے بھی کہا ہے کہ وہ قوی نہیں--------------------------
∞( 1)..حافظ ابو عمر ابن عبد البر لکھتے ہیں : حضرت ابو محذورہ قرشی αرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے نام میں کافی اختلاف ہے ، بہر حال اکثریت کی تحقیق یہ ہے کہ ان کا نام سمرہ بن سعیدہے ۔ ۸ھ میں جب αرسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمغزوۂ حنین سے واپس ہورہے تھے ، اسی اثناء میں حضرت ابو محذورہ اپنے دس مشرک ساتھیوں کے ساتھ گزر رہے تھے ، راستے میں αرسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکے مؤذن کی آواز سنی ، حضرت ابو محذورہ نے اذان کی نقل اتارنا شروع کردی، حضرت ابو محذورہ بلند آواز اور خوش الحان تھے اور بطور تمسخر اذان کی نقل اتار رہے تھے ، ان کی قسمت نے یاوری کی اور سرکار ِ ابد قرارα صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے ان کی آواز سن لی ان کو بلایا۔۔۔
ماخذ و مراجع
کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 15