Main Icon

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ - حدیث نمبر: 23

حدیث مبارکہ

عَنْ وَائِلِ بْنِ حَجَرٍ أَنَّہٗ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَلَمَّا بَلَغَ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلاَ الضَّآلِیْنَ قَالَ اٰمِیْن اَخْفٰی بِھَا صَوْتَہٗ۔ رَوَاہٗ الْحَاکِمُ وَ الطَّبْرَانِیْ وَ الدَّارَقُطْنِیْ وَ اَبُوْ یَعْلٰی وَ اَحْمَدُ (جامع الترمذی۶۳، نصب الرایۃ ۱/۳۶۹۔)

عن وائل بن حجر أنہ مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم فلما بلغ غیر المغضوب علیھم ولا الضآلین قال امین اخفی بھا صوتہ۔ رواہ الحاکم و الطبرانی و الدارقطنی و ابو یعلی و احمد (جامع الترمذی۶۳، نصب الرایۃ ۱/۳۶۹۔)

حدیث ترجمہ

حضرت وائل بن حجر سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکے ساتھ نماز پڑھی۔حضورصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمجب’’غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لاَ الضَّالِّیْن‘‘کو پہنچے تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے پوشیدہ آواز سے آمین کہی ۔
اس حدیث کو حاکم ،طبرانی ،دارقطنی ، ابو یعلی اور امام احمد نے روایت کیا۔ یہ حدیث آمین کے اخفا میں نص ہے ۔اس کی سند صحیح ہے ۔

شرح حدیث

حدیثِ سمرہ بن جندبرضی اﷲ عنہاس کی تائید کرتی ہے کہ جب وہ نماز پڑھاتے تو دوبار خاموش ہوتے۔ایک بار جب نماز شروع کرتے دوسری بار جب ’’وَ لاَ الضَّالِّیْن‘‘کہتے ۔لوگوں نے اس پر انکار کیا تو انہوں نے ابی بن کعبرضی اﷲ عنہکو لکھا۔ حضرت سیدنا ابی بن کعبرضی اﷲ عنہنے جواب میں لکھا کہ سمرہرضی اﷲ عنہجیسا کرتے ہیں ٹھیک ہے ۔ اس حدیث کو دارقطنی و احمد نے بسند صحیح روایت کیا۔ ابو داؤد کی روایت میں سمرہ بن جندب نے ان دونوں سکتوں کو رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمسے بیان کیا۔ظاہر ہے کہ پہلا سکتہ ثناء کے لئے تھا ۔ معلوم ہوا کہ آمین پوشیدہ تھی۔ اس حدیث کی سند آثار السنن میں صالح لکھی ہے ۔
امام طحاوی ابو وائل سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا عمر و علی
رضی اﷲ عنہما بسم اﷲشریف اور اعوذ اور آمین میں جہر نہیں کرتے تھے۔ طبرانی کبیر میں ابووائل سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا علی و عبداﷲبن مسعودرضی اﷲ عنہما بسم اﷲاور اعوذ اور آمین بلند آواز سے نہیں کہتے تھے۔ جوہر التقی میں بحوالہ ابن جریر طبری ابووائل سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا عمر و علیرضی اﷲ عنہمابسم اﷲاور آمین اونچی نہیں کہتے تھے ۔
حدیث وائل بن حجر پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں شعبہ نے تین خطائیں کیں ۔اول یہ کہ اس نے حجر ابی العنبس کہاہے حالانکہ وہ حجر بن عنبس ہے ۔ جس کی کنیت ابو السکن ہے ۔دوسرا یہ کہ شعبہ نے اس حدیث میں علقمہ بن وائل کو زیادہ کیا ہے ۔ حالانکہ حجر بن عنبس عن وائل بن حجر صحیح ہے ۔تیسرا یہ کہ اس نے
خَفَضَ بِھَا صَوْتَہٗکہا ہے حالانکہمَدَّ بِھَا صَوْتَہٗہے۔ اور یہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ علقمہ نے اپنے باپ سے نہیں سنا۔ بلکہ وہ اپنے باپ کی موت کے چھ مہینے بعد پیدا ہوئے۔
پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ حجر بن عنبس کی کنیت ابو العنبس بھی ہے ۔اور ابو السکن بھی۔ ایک شخص کی دو کنیتیں ہونا بعید نہیں ہے ۔ابن حبان کتاب النقات میں فرماتے ہیں ۔
حَجَرُ بْنُ عَنْبَسٍ اَبُو السَّکُنُ الْکُوْفِیْ وَ ھُوَ الَّذِیْ یُقَالُ لَہٗ حَجَرٌ اَبُو الْعَنْبَسِ یَرْوِیْ مِنْ عَلِیٍّ وَ وَائِلِ بْنِ حَجَرٍ رَوَی عَنْہُ سَلَمَۃُ بْنُ کُھَیْلٍ اِنْتَہٰی۔ آثار السنن ص۹۶۔حجر بن عنبس ابو السکن کوفی وہ ہیں جنہیں ابوالعنبس بھی کہا جاتا ہے ۔ ابو داؤد نے آمین کے باب میں ثوری سے بھی حجر بن عنبس کی کنیت ابو العنبس نقل کی ہے ۔ بیہقی نے سنن میں بھی ایسا ہی لکھاہے۔دارقطنی نے تو وکیع اور محاربی سے یہی نقل کیا ہے کہ انہوں نے ثوری سے اس کی کنیت ابوالعنبس روایت کی۔ کشف الاستار عن رجال معانی الآثار میں بھی ایسا ہی لکھا ہے ۔ معلوم ہوا کہ حجر بن عنبس کی کنیت ابو العنبس بھی ہے ۔ اس میں شعبہ کی خطا نہیں ہے ۔نہ شعبہ اس میں منفرد ہیں۔ بلکہ محمد بن کثیر اور وکیع اور محاربی بھی یہی نقل کرتے ہیں ۔
دوسرے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ بعض روایات میں تصریح یہ ہے کہ حجر بن عنبس نے علقمہ سے بھی سنا ہے اور خود وائل سے بھی اس حدیث کو سنا ہے ۔چنانچہ امام احمد نے اپنے مسند میں روایت کیا ہے ۔
عَنْ حَجَرٍ اَبِی الْعَنْبَسِ قَالَ سَمِعْتُ عَلْقَمَۃَ بْنَ وَائِلٍ یُحَدِّثُ عَنْ وَائِلٍ وَ سَمِعْتُ مِنْ وَائِلٍ قَالَ صَلّٰی بِنَا رسولُ اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ۔( 1)ابوداؤدطیالسی نے بھی ایسا ہی روایت کیا ہے ۔ ابو مسلم کجی نے بھی اپنی سنن میں ایسا ہی روایت کیا ہے (آثار السنن) تو معلوم ہوا کہ شعبہ نے اس میں بھی خطا نہیں کی۔ کیونکہ حجر نے یہ حدیث علقمہ سے بھی سنی اس لئے اس نے علقمہ کا ذکر کیا۔ اور وائل سے بھی سنی۔اس لئے کسی وقت علقمہ کا ذکر نہیں کیا۔ اور حدیث ۱۷ میں ہم مفصل ذکر کر آئے ہیں کہ علقمہ نے اپنے باپ سے سنا ہے فلا نعیدہ ۔
رہی یہ بات کہ سفیان
مَدَّ بِھَا صَوْتَہٗکہتے ہیں اور شعبہخَفَضَ بِھَاتوکس کی روایت کو ترجیح ہوگی۔ میں کہتا ہوں کہ شعبہ کی روایت کو ترجیح ہے۔ اس لئے کہ شعبہ تدلیس کو اچھا نہیں سمجھتے تھے بلکہ فرماتے تھے کہ میں آسمان سے گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاؤں تو اس سے بہتر ہے کہ میں تدلیس کروں (تذکرۃ الحفاظ) اور سفیان ضعفاء ( 2)سے بھی تدلیس کیا کرتے تھے۔تو شعبہ کی روایت میں تدلیس کا شبہ نہیں اس لئے اس کو ترجیح ہوگی۔ اور سفیان کی روایت میں تدلیس کا شبہ ہے ۔ دوسری وجہ ِترجیح یہ ہے کہ آمین دعا ہے اوراصل دعا میں اخفا ہےاﷲ تعالیٰفرماتاہے:αاُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَ خُفْیَۃً۔(الاعراف۸/۵۵)ترجمۂ کنزالایمان: اپنے رب سے دعا کرو گڑگڑاتے اور آہستہ ۔ اور اکثر صحابہ وتابعینرضی اﷲ عنہمآمین خفیہ کہتے تھے ۔جیسا کہجوہر التقی ص۱۳۲میں ہے اس لئے شعبہ کی روایت راجح ہوگی۔
نیز حدیث
مَدَّ بِھَا صَوْتَہٗکے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ آپ آمین کو بہ لغت مدپڑھتے تھے نہ قصر۔ علاوہ اس کے آمین کی ایک حد بھی حدیث میں آئی ہے وہحَتّٰی سَمِعَ مَنْ یَلِیہِ مِنَ الصَّفِّ الْاَوَّلِہے ۔ کہ صف اول کے وہ لوگ جن کے لئے حضور نبی کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے تعلیم کے لئے آواز دراز فرمائی۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ حضورصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکے مقتدیوں کا آمین بالجہرہرگز ثابت نہیں ۔تو آج کل مدعیان عمل بالحدیث کا امام کے پیچھے زور سے آمین کہنا محض بے دلیل ہے۔
---------------------
∞(1).. ترجمہ :حجر بن عنبس سے روایت ہے ،کہتے ہیں میں نے علقمہ بن وائل کو وائل سے حدیث بیان کرتے ہوئے سُنا اور میں نے وائل سے (بھی) سُنا کہ وہ کہتے ہیں ہمیں رسول کریم αصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم
نے نماز پڑھائی۔(2)..ضعیف کی جمع ہے ۔اس کے معنی کمزور کے ہیں ،یہاں مراد فنِ اصول حدیث میں ضعیف راوی ہیں ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 23