Main Icon

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ - حدیث نمبر: 16

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم إِذَا افْتَتَحَ الصَّلوٰۃَ کَبَّرَ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّیٰ یُحَاذِيَ إِبْھَامَیْہِ اُذُنَیْہِ ثُمَّ یَقُوْلُ سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالیٰ جَدُّکَ وَ لاَ إِلٰہَ غَیْرُکَ ۔ رَوَاہٗ الدَّارَقُطْنِیْ وَ قَالَ اِسْنَادُہٗ کُلُّھُمْ ثِقَاتٌ کَذَا فِی الزّیْلَعِیْ. (الدار قطنی ۱؍۳۰۰۔ )

عن انس قال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم إذا افتتح الصلوۃ کبر ثم رفع یدیہ حتی یحاذي إبھامیہ اذنیہ ثم یقول سبحانک اللھم وبحمدک وتبارک اسمک وتعالی جدک و لا إلہ غیرک ۔ رواہ الدارقطنی و قال اسنادہ کلھم ثقات کذا فی الزیلعی. (الدار قطنی ۱؍۳۰۰۔ )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا انسرضی اﷲ عنہفرماتے ہیں کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمجب نماز کوشروع کرتے تو تکبیر کہتے پھر دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکے انگھوٹھے دونوں کانوں کے برابر ہوجاتے پھرسُبْحَانَک اللّٰھُمَّآخر تک پڑھتے ۔اس کو دارقطنی نے روایت کیا۔اس کے سب رواۃثقہ ہیں۔

شرح حدیث

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تکبیر تحریمہ کیلئے ہاتھ کانوں کے برابر اٹھانے چاہئیں ۔ ایسا ہی ابوداؤد میں وائل کی حدیث میں آیا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکو جب شروع کیا نماز کو تو دونوں ہاتھ کانوں کے برابرتک اٹھاتے ۔ کہا وائل نے میں ان کے پاس آیا تو دیکھا کہ اپنے ہاتھوں کو سینوں تک اٹھاتے ہیں ۔ اور ان پر بارانیاں اور لوئیاں تھیں ۔ یعنی سردی کے سبب ہاتھوں کو باہر نہیں نکالتے تھے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن روایتوں میں مونڈھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا آیا ہے وہ عذر سردی سے تھا یا یہ کہ مونڈھوں کے برابر ہاتھ ہوں۔ اور دونوں انگھوٹھے کانوں کے برابر ہوں۔ چنانچہ ابوداؤد میں وائل کی حدیث میں آیا ہے کہ اس نے نبی کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکو دیکھا جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ نے دونوں ہاتھ اٹھائے۔ یہاں تک کہ مونڈھوں کے مقابل ہوگئے اور برابر کیا دونوں ابہاموں (انگوٹھوں) کو اپنے کانوں کے ۔شرح مسند امام ص ۲۴۴۔

ماخذ و مراجع

کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 16