Main Icon

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ - حدیث نمبر: 25

حدیث مبارکہ

عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اﷲِ بْنُ مَسْعُودٍرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ اَلا أُصَلِّيْ بِکُمْ صَلوٰۃَ رَسُوْلِ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَصَلَّی وَلَمْ یَرْفَعْ یَدَیْہِ إِلَّا مَرَّۃً ۔ اَبُوْ دَاوٗدَ (١٠٤ابوداؤد ۱؍۱۰۹، جامع ا لترمذی ۲؍۴۰، النسائی ۱؍۱۹۵۔ )

عن علقمۃ قال قال عبد اﷲ بن مسعودرضی اﷲ تعالی عنہ الا اصلي بکم صلوۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم فصلی ولم یرفع یدیہ إلا مرۃ ۔ ابو داود (١٠٤ابوداؤد ۱؍۱۰۹، جامع ا لترمذی ۲؍۴۰، النسائی ۱؍۱۹۵۔ )

حدیث ترجمہ

حضرت علقمہرضی اﷲ عنہکہتے ہیں کہ عبداﷲبن مسعودرضی اﷲ عنہنے فرمایا کہ میں تمہیںرسول اﷲصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکی نماز پڑھ کرنہ دکھاؤں ؟ پھر نماز پڑھی اور ایک بار (تحریمہ ) کے سوا ہاتھ نہ اٹھائے۔اس حدیث کو ابوداؤد، ترمذی و نسائی نے روایت کیا۔

شرح حدیث

ترمذی نے اس کو حسن کہا اور فرمایا کہ اس حدیث پر بہت صحابہ و تابعینرضی اﷲ عنہمکا عمل ہے ۔اور سفیان ثوریعلیہ الرحمۃاور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ اس حدیث کے سب راوی ثقہ ہیں۔ابن حزم نے اس کو صحیح کہا ہے ۔ بعض محدثین نے عاصم بن کلیب پر کچھ کلام کیا ہے ۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ وہ ثقہ ہے۔ نسائی اور یحیٰ بن معین نے ان کو ثقہ کہا ۔مسلم نے صحیح میں اس کی روایت کی ۔ ابن حبان نے اس کو ثقات میں ذکر کیا۔ ابوحاتم نے اس کو صالح کہاوَالْبِسَطُ فِیْ تَرْوِیْحِ الْعَیْنَیْنِ لِلْعَلاَّمَۃِ الْفَیْضِ فُوْرِیْامام طحاوی حضرت سیدنا عمررضی اﷲ عنہسے بسندصحیح روایت کرتے ہیں کہ بجز تکبیر تحریمہ کے وہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ اسی طرح حضرت سیدنا علیرضی اﷲ عنہسے بسند ِصحیح امام طحاوی و ابن ابی شیبہ نے روایت کیا کہ وہ پہلی تکبیر کے وقت رفع یدین کرتے تھے ۔ پھر نہیں کرتے تھے۔اسی طرح عبداﷲبن مسعودرضی اﷲ عنہبھی رفع یدین نہیں کرتے تھے ۔
الحاصل خلفاء اربعہ
رضی اﷲ عنہمسے بھی رفع یدین بسند صحیح ثابت نہیں ۔اگر یہ فعل سنت ہوتا تو خلفاء اربعہ کا اس پر ضرورعمل ہوتا۔ معلوم ہوا کہ یہ سنت نہیں ۔ دیکھو بخاری کی حدیث میں آتا ہے :کَانَ رسول صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یُصَلِّیْ وَ ھُوَ حَامِلُ اُمَامَۃٍ( 1)کہ حضورصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمامامہ کو (جو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکی نواسی تھیں)اٹھاکر نماز پڑھتے تھے ۔ یہاں بھیکَانَ یُصَلِّیْہے ۔ اور رفع یدین کی حدیث میں بھیکَانَ یُصَلِّیْہے ۔ اگر رفع یدین ہر نماز میں سنت ہے تو نواسی کو اٹھانا بھی ہر نماز میں سنت ہونا چاہیئے ۔تو ان مدعیان عمل بالحدیث کیلئے لازم ہے کہ ہر نماز میں اپنی نواسی یا کم سے کم لڑکی کو اٹھاکر نماز پڑھیں۔ کیونکہ حضورصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمسے ثابت ہے۔ بلکہ رفع یدین کے بارے میں تو نہ کرنے کی بھی حدیث آئی ہے لیکن لڑکی کو اٹھانے کی نہ ممانعت آئی ہے نہ کسی حدیث میں آیا ہے کہ فلاں نماز میں آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے کسی لڑکی کو نہیں اٹھایا۔فَمَا ھُوَ جَوَابُکُمْ فَھُوَ جَوَابُنَا؟
------------
∞(1)..صحیح البخاری ۱؍۱۹۳۔

ماخذ و مراجع

کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 25