DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Maryam Ayat 47 Translation Tafseer

رکوعاتہا 6
سورۃ ﰍ
اٰیاتہا 98

Tarteeb e Nuzool:(44) Tarteeb e Tilawat:(19) Mushtamil e Para:(16) Total Aayaat:(98)
Total Ruku:(6) Total Words:(1085) Total Letters:(3863)
47

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَۚ-سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْؕ-اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا(۴۷)
ترجمہ: کنزالعرفان
فرمایا: بس تجھے سلام ہے۔ عنقریب میں تیرے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں گا بیشک وہ مجھ پربڑا مہربان ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ:فرمایا: بس تجھے سلام ہے۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے چچا آزر کا جواب سن کر فرمایا ’’تجھے دور ہی سے سلام ہے ۔ عنقریب میں  تیرے لیے اپنے رب عَزَّوَجَلَّسے معافی مانگوں  گا کہ وہ تجھے توبہ اور ایمان کی توفیق دے کر تیری مغفرت فرمادے ، بیشک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔( خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۴۷، ۳ / ۲۳۷)

آزر کے لئے دعائے مغفرت کاوعدہ کرنے کی وجہ:

            حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے چچا آزر کے لئے جو مغفرت کی دعا فرمائی اس کا ذکر سورۂ شُعراء کی آیت نمبر 86 میں  ہے اور یہاں  یہ یاد رہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا اپنے چچا آزر سے یہ کہنا کہ’’ عنقریب میں  تیرے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں  گا‘‘ اس وجہ سے تھا کہ آپعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس کے ایمان لانے کی تَوَقُّع تھی اور جب آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر اس کا ایمان نہ لانا واضح ہو گیا تواس کے بعد آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آزر سے بیزار ہو گئے اورپھر کبھی اس کے لئے مغفرت کی دعا نہ کی۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

’’وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُۚ-فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُؕ-اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ‘‘(توبہ:۱۱۴)

ترجمۂکنزُالعِرفان:اور ابراہیم کا اپنے باپ کی مغفرت کی دعا کرنا صرف ایک وعدے کی وجہ سے تھا جو انہوں  نے اس سے کر لیا تھا پھر جب ابراہیم کے لئے یہ بالکل واضح ہوگیا کہ وہ  اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے ۔ بیشک ابراہیم بہت آہ و زاری کرنے والا ، بہت برداشت کرنے والا تھا۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links