DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Maryam Ayat 12 Translation Tafseer

رکوعاتہا 6
سورۃ ﰍ
اٰیاتہا 98

Tarteeb e Nuzool:(44) Tarteeb e Tilawat:(19) Mushtamil e Para:(16) Total Aayaat:(98)
Total Ruku:(6) Total Words:(1085) Total Letters:(3863)
12

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍؕ-وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ(۱۲)
ترجمہ: کنزالعرفان
اے یحیٰ ! کتاب کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو اور ہم نے اسے بچپن ہی میں حکمت عطافرما دی تھی۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ:اے یحیٰ !کتاب کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو ۔} حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادت کے بعد جب آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی عمر دو سال ہوئی تو  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’ اے یحیٰ ! کتاب توریت کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو اور اس پر عمل کی بھرپور کوشش کرو اور ہم نے اسے بچپن ہی میں  حکمت عطا فرما دی تھی جب کہ آپ کی عمر شریف تین سال کی تھی ، اس وقت میں   اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نے آپ کو کا مل عقل عطا فرمائی اور آپ کی طرف وحی کی ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا کا یہی قول ہے اور اتنی سی عمر میں  فہم و فراست اور عقل و دانش کا کمال، خَوارقِ عادات (یعنی انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات) میں  سے ہے اور جب  اللہ تعالیٰ کے کرم سے یہ حاصل ہو تو اس حال میں  نبوت ملنا کچھ بھی بعید نہیں ، لہٰذا اس آیت میں  حکم سے نبوت مراد ہے اور یہی قول صحیح ہے ۔ بعض مفسرین نے اس سے حکمت یعنی توریت کا فہم اور دین میں  سمجھ بھی مراد لی ہے۔( جلالین، مریم، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۲۵۴، خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۱۲، ۳ / ۲۳۰، مدارک، مریم، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۶۶۹، تفسیر کبیر، مریم، تحت الآیۃ: ۱۲، ۷ / ۵۱۶-۵۱۷، ملتقطاً)

 ہماری پیدائش کا اصلی مقصد:

            حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ میرے بھائی حضرت یحیٰعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر رحم فرمائے، جب انہیں  بچپن کی حالت میں  بچوں  نے کھیلنے کے لئے بلایا تو آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے (ان بچوں  سے) کہا: کیا ہم کھیل کے لئے پیدا کئے گئے ہیں ؟ (ایسا نہیں  ہے، بلکہ ہمیں  عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور یہی ہم سے مطلوب ہے۔ جب نابالغ بچہ اس طرح کہہ رہا ہے تو )اس بندے کا قول کیسا ہونا چاہئے جو بالغ ہو چکا ہے۔( ابن عساکر، حرف الیاء، ذکر من اسمہ یحی، یحی بن زکریا بن نشوی۔۔۔ الخ، ۶۴ / ۱۸۳)

            اس سے معلوم ہوا کہ ہمیں  پیدا کئے جانے کا اصلی مقصد یہ نہیں  کہ ہم کھیل کود اور دُنْیَوی عیش و لذّت میں  اپنی زندگی بسر کریں  بلکہ ہماری پیدائش کا اصلی مقصد یہ ہے کہ ہم  اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں  ۔اسی چیز کو قرآنِ مجید میں  اس طرح بیا ن کیا گیا ہے کہ :

’’اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ‘‘(مومنون:۱۱۵)

ترجمۂکنزُالعِرفان:  تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں  بیکار بنایااور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں  جاؤ گے؟

 اور ارشاد فرمایا کہ:

’’وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ‘‘ (ذاریات:۵۶)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور میں  نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں ۔

             اللہ تعالیٰ ہمیں  فضول اور بیکار کاموں  اور اُخروی تیاری سے غافل کر دینے والے اُمور سے بچنے اور ہمیں  اپنی اطاعت و عبادت میں  زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links