DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Imran Ayat 52 Translation Tafseer

رکوعاتہا 20
سورۃ ﷆ
اٰیاتہا 200

Tarteeb e Nuzool:(89) Tarteeb e Tilawat:(3) Mushtamil e Para:(33-4) Total Aayaat:(200)
Total Ruku:(20) Total Words:(3953) Total Letters:(14755)
52-53

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِؕ-قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِۚ-اٰمَنَّا بِاللّٰهِۚ-وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ(۵۲)رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ(۵۳)
ترجمہ: کنزالعرفان
پھر جب عیسیٰ نے ان (بنی اسرائیل) سے کفر پایا تو فرمایا: اللہ کی طرف ہو کر کون میرا مددگار ہوتا ہے؟ مخلص ساتھیوں نے کہا: ’’ ہم اللہ کے دین کے مددگار ہیں ۔ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور آپ اس پر گواہ ہوجائیں کہ ہم یقینامسلمان ہیں ۔ اے ہمارے رب! ہم اس کتاب پر ایمان لائے جو تو نے نازل فرمائی اورہم نے رسول کی اِتّباع کی پس ہمیں گواہی دینے والوں میں سے لکھ دے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ: پھر جب عیسیٰ نے ان سے کفرپایا ۔} یعنی جب حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دیکھا کہ یہودی اپنے کفر پر قائم ہیں اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں اور اتنی روشن آیات اور معجزات سے بھی ان پر کوئی اثر نہیں ہوا اور اس کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے پہچان لیا تھا کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی وہ مسیح ہیں جن کی توریت میں بشارت دی گئی ہے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کے دین کو منسوخ کریں گے، تو جب حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعوت کا اظہار فرمایا تو یہ ان پر بہت شاق گزرا اور وہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ایذاا ورقتل کے درپے ہوئے اور انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ کفر کیا۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس وقت فرمایا کہ کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف ہوکر میرا مددگار بنے ۔ اس پر حواریوں نے آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مدد کا وعدہ کیا۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۵۲، ۱ / ۲۵۳)

             حواری وہ مخلصین ہیں جو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دین کے مددگار تھے اور آپ پر اوّل ایمان لائے، یہ بارہ اَشخاص تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بوقت ِمصیبت اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندوں سے مدد مانگنا سنت ِپیغمبر ہے۔ حواریوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے اور پھر کہا کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہمارے مسلمان ہونے پر گواہ بن جائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان و اسلام ایک ہی ہیں اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پہلے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا دین اسلام تھا ، یہودیت و نصرانیت نہیں۔ اسی لئے ایمان لانے والوں نے اپنے آپ کو مسلمان کہا، عیسائی نہیں۔

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links