DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Imran Ayat 174 Translation Tafseer

رکوعاتہا 20
سورۃ ﷆ
اٰیاتہا 200

Tarteeb e Nuzool:(89) Tarteeb e Tilawat:(3) Mushtamil e Para:(33-4) Total Aayaat:(200)
Total Ruku:(20) Total Words:(3953) Total Letters:(14755)
173-174

اَلَّذِیْنَ  قَالَ  لَهُمُ  النَّاسُ  اِنَّ  النَّاسَ  قَدْ  جَمَعُوْا  لَكُمْ  فَاخْشَوْهُمْ  فَزَادَهُمْ  اِیْمَانًا  ﳓ  وَّ  قَالُوْا  حَسْبُنَا  اللّٰهُ  وَ  نِعْمَ  الْوَكِیْلُ(۱۷۳)فَانْقَلَبُوْا  بِنِعْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  وَ  فَضْلٍ  لَّمْ  یَمْسَسْهُمْ  سُوْٓءٌۙ-وَّ  اتَّبَعُوْا  رِضْوَانَ  اللّٰهِؕ-وَ  اللّٰهُ  ذُوْ  فَضْلٍ  عَظِیْمٍ(۱۷۴)
ترجمہ: کنزالعرفان
یہ وہ لوگ ہیں جن سے لوگوں نے کہا کہ لوگوں نے تمہارے لئے (ایک لشکر) جمع کرلیاہے سوان سے ڈرو توان کے ایمان میں اور اضافہ ہوگیااور کہنے لگے: ہمیں اللہ کافی ہے اورکیا ہی اچھا کارساز ہے۔ پھر یہ اللہ کے احسان اور فضل کے ساتھ واپس لوٹے ، انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچی اور انہوں نے اللہ کی رضا کی پیروی کی اوراللہ بڑے فضل والا ہے ۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{ اَلَّذِیْنَ  قَالَ  لَهُمُ  النَّاسُ: یہ وہ لوگ ہیں جن سے لوگوں نے کہا ۔ } شانِ نزول: جنگ اُحد سے واپس ہوتے ہوئے ابوسفیان نے نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوپکار کر کہہ دیا تھا کہ اگلے سال ہماری آپ کی مقامِ بدر میں جنگ ہوگی۔ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کے جواب میں فرمایا: ’’اِنْ شَآءَ اللہ‘‘ جب وہ وقت آیا اور ابوسفیان اہلِ مکہ کو لے کر جنگ کے لیے روانہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں خوف ڈالا اور انہوں نے واپس ہونے کا ارادہ کیا ۔ اس موقع پر ابوسفیان کی نُعَیْم بن مسعود سے ملاقات ہوئی جو عمرہ کرنے آیا تھا۔ ابوسفیان نے اس سے کہا کہ اے نُعَیْم ! اِس زمانہ میں میری لڑائی مقامِ بدر میں محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے ساتھ طے ہوچکی ہے اور اس وقت مجھے مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ میں جنگ میں نہ جاؤں بلکہ واپس چلاجاؤں۔ لہٰذا تم مدینے جاؤ اور حکمت و تدبیر کے ساتھ مسلمانوں کو میدانِ جنگ میں جانے سے روک دو۔ اس کے عوض میں تجھے دس اونٹ دوں گا۔ نُعَیْم نے مدینہ پہنچ کر دیکھا کہ مسلمان جنگ کی تیاری کررہے ہیں ، یہ دیکھ کر اُن سے کہنے لگا کہ تم جنگ کے لئے جانا چاہتے ہو ، اہلِ مکہ نے تمہارے لئے بڑے لشکر جمع کئے ہیں۔ خدا کی قسم !تم میں سے ایک بھی سلامت واپس نہ آئے گا۔ حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’خدا کی قسم، میں ضرور جاؤں گا چاہے میرے ساتھ کوئی بھی نہ ہو۔ چنانچہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ستر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو ساتھ لے کر ’’ حَسْبُنَا اﷲُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ ‘‘ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے اور بدر میں پہنچے ، وہاں آٹھ دن قیام کیا، مال تجارت ساتھ تھااسے فروخت کیا اورخوب نفع ہوا اور پھر سلامتی کے ساتھ مدینہ طیبہ واپس آئے اور جنگ نہیں ہوئی۔ چونکہ ابو سفیان اور اہلِ مکہ خوف زَدہ ہو کر مکہ مکرمہ کو واپس ہوگئے تھے اس واقعہ کے متعلق یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی۔(خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۷۲، ۱ / ۳۲۵-۳۲۶)

            اس واقعہ کو بدر ِصغریٰ کا واقعہ کہتے ہیں۔ اِس واقعہ سے بھی صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی عظمت واضح ہوتی ہے کہ جب انہیں کافروں کے بڑے بڑے لشکروں سے ڈرایا جارہا ہے تو بجائے ڈرنے اور بزدلی دکھانے کے ان کی ہمت اور جوانمردی اور بڑھ جاتی ہے ، ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ان کی زبانوں پر ایک ہی وظیفہ جاری ہوتا ہے کہ ہمیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کافی ہے اور وہی سب سے اچھا کارساز ہے۔

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links