DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Imran Ayat 14 Translation Tafseer

رکوعاتہا 20
سورۃ ﷆ
اٰیاتہا 200

Tarteeb e Nuzool:(89) Tarteeb e Tilawat:(3) Mushtamil e Para:(33-4) Total Aayaat:(200)
Total Ruku:(20) Total Words:(3953) Total Letters:(14755)
14

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِؕ-ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ(۱۴)
ترجمہ: کنزالعرفان
لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو آراستہ کردیا گیا یعنی عورتوں اور بیٹوں اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے ڈھیروں اور نشان لگائے گئے گھوڑوں اور مویشیوں اور کھیتیوں کو( ان کے لئے آراستہ کردیا گیا۔) یہ سب دنیوی زندگی کا سازوسامان ہے اور صرف اللہ کے پاس اچھا ٹھکاناہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ: لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو آراستہ کردیا گیا۔} لوگوں کیلئے من پسند چیزوں کی محبت کو خوشنما بنادیا گیا، چنانچہ عورتوں ، بیٹوں ، مال و اولاد، سونا چاندی، کاروبار، باغات، عمدہ سواریوں اور بہترین مکانات کی محبت لوگوں کے دلوں میں رچی ہوئی ہے اور اِس آراستہ کئے جانے اوران چیزوں کی محبت پیدا کئے جانے کا مقصد یہ ہے کہ خواہش پرستوں اور خدا پرستوں کے درمیان فرق ظاہر ہوجائے ،چنانچہ سورۂ کہف ، آیت7 میں صراحت سے ارشاد فرمایا: اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا(۷)(سورۃ الکہف:۷)

ترجمۂکنزُالعِرفان:بیشک ہم نے زمین پر موجود چیزوں کو اس لئے زینت بنایا تاکہ ہم لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں عمل کے اعتبار سے کون اچھا ہے۔

            چنانچہ یہ چیزیں ایسی مرغوب ہوئیں کہ کافر تو بالکل ہی آخرت سے غافل ہو گئے اور کفر میں جاپڑے جبکہ دوسرے لوگ بھی انہی چیزوں کی محبتوں کے اسیر ہوگئے حالانکہ یہ تو دنیاوی زندگی گزارنے کا سامان ہے کہ اس سے کچھ عرصہ نفع پہنچتا ہے پھر یہ سامانِ دنیا فنا ہوجاتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ دنیا کے سامان کو ایسے کا م میں خرچ کرے جس میں اس کی عاقبت کی درستی اور آخرت کی سعادت ہو۔یہ تمام چیزیں اگر دنیا کے لئے رکھی جائیں تو دنیا ہیں اور اگراطاعت ِ الٰہی میں ر اپنے دین کی حفاظت اوراللہ تعالیٰ کی اطاعت میں معاونت کیلئے ہوں تو یہی چیزیں قرب ِ الٰہی کا ذریعہ ہیں جیسے حضرت عثما نِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مال دنیا نہیں ، دین تھا۔ اس کے ساتھ فرمایا کہ’’ دنیا کا سامان تو محض ایک سامان ہی ہے، رغبت و محبت اور حرص و طلب کے قابل تو رضائے الٰہی کا مقام یعنی جنت ہے لہٰذا  اس کی رغبت کرنی چاہیے اور اس کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمارے لئے اس آیت میں بہت اعلیٰ درس ہے ۔ ہم مسلمانوں کی اکثریت بھی انہی دنیاوی چیزوں کی محبت میں مبتلا ہے، اہلِ خانہ اور اولاد کی وجہ سے حرام کمانا، مال و دولت کو اپنا مقصودِ اصلی سمجھنا، اسی کیلئے دن رات کوشش کرنا،بینک بیلنس بڑھانا، اپنے اثاثوں میں اضافہ کرنا، بہترین لباس، عمدہ مکانات اورشاندار گاڑی ہی تقریباًہر کسی کا نَصبُ العَین اور مقصود و مطلوب ہے۔ اس آیت مبارکہ کو سامنے رکھ کر ہمیں بھی اپنی زندگی پر کچھ غور کرنا چاہیے۔ [1]



...[1]اپنی زندگی قرآن وسنّت کے احکامات کے مطابق گزارنے کے لئے امیرِ اہلِسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے عطا کردہ ،، مدنی انعامات،، پر عمل بہت مفید ہے۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links