بیٹیوں کو مہمان نوازی کا سلیقہ سکھائیں


بیٹیوں کو مہمان نوازی کا سلیقہ سکھائیں


اسلامی تہذیب و تمدن میں مہمان نوازی کو ایک عظیم صفت اور نیکی شمار کیا گیا ہے۔ اللہ کے آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا فرمان ہے: جو اللہ اور قِیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے تو اسے چاہیے کہ مہمان کا اِکرام (عزت) کرے۔ ([1]) یہ تعلیم صرف مَردوں کے لیے نہیں بلکہ خواتین، خصوصاً بیٹیوں کے لیے بھی ہے، کیونکہ وہی مستقبل کی مائیں، معلمات اور معاشرتی ستون بنتی ہیں۔ مہمان نوازی صرف کھانے یا چائے پیش کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک اخلاقی خوبی، دینی تربیت اور تہذیبی روایت ہے، یہ دل کی وُسعت، حسنِ اَخلاق اور دوسروں کے لیے احترام کا مظہر ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کے دل میں مہمان نوازی کا جذبہ پیدا کریں۔ وہ خوش اخلاقی سے پیش آئیں، مسکراتے ہوئے سلام کریں، ادب سے بات کریں اور اپنی حیثیت کے مطابق مہمان کی خدمت میں لگ جائیں۔

اپنے عمل سے سکھائیے:

 جب گھر میں مہمان آئیں، والدہ اور والد ان کے ساتھ حسنِ سلوک کریں تاکہ بیٹی مشاہدہ سے سیکھے۔ماں باپ کو چاہیے کہ وہ بیٹیوں کو عملی طور پر مہمان نوازی میں شامل کریں ، چاہے کسی کے لیے چائے بنانا ہو، دسترخوان لگانا ہو، یا مسکراہٹ کے ساتھ پانی پیش کرنا ہو۔ مہمان کے چھوٹے کاموں کی ذمہ داری دیں تاکہ وہ خدمت کا جذبہ محسوس کرے۔ یاد رہے کہ بیٹی سے صرف خواتین اور محارم کی مہمان نوازی کروائی جائے۔ مہمان غیر محرم ہو تو مہمانوں کے لیے چائے اور دیگر لوازمات کا انتظام کروائیں اور غیر محرم مہمان کے سامنےجانے سے منع کریں۔ جب بیٹی مہمان نوازی سیکھتی ہے، تو وہ دراصل محبت بانٹنے کا فن سیکھتی ہے یہ خوبی آگے چل کر اُس کی ازدواجی زندگی میں بھی برکت کا سبب بنتی ہے، کیونکہ جو بیٹی اپنے گھر میں مہمانوں کی خدمت کرنا جانتی ہے، وہ کل کو اپنے سسرال میں بھی عزت و محبت کی مثال بن جاتی ہے۔ جب بیٹی مہمان کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، اس کی تعریف کریں تاکہ وہ اس عمل کو پسند کرے اور اسے دہرانا چاہے۔

مہمان نوازی اور روحانی تربیت:

 بیٹیوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ مہمان نوازی صرف دنیاوی فائدہ نہیں بلکہ آخرت میں بھی اجر کا باعث ہے۔ حضرت ابراہیم  علیہ السّلام  کو ابُو الضِّيفان (یعنی بہت مہمان نواز) کہا جاتا ہے۔ آپ بہت مہمان نواز تھے، آپ کی عادتِ کریمہ تھی کہ اکیلے کھانا نہیں کھاتے تھے، مہمان آتا، اس کے ساتھ بیٹھ کر ہی کھانا کھاتے، اگر کبھی مہمان نہ آتا تو خُود باہَر جا کر کسی کو ڈھونڈتے، مہمان کو ساتھ لاتے اور اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔ مہمان نوازی کو دلچسپ بنائیں جب بیٹیوں میں مہمان نوازی کا شوق پیدا ہوتا ہے تو وہ نہ صرف گھر بلکہ معاشرے میں بھی محبت، عزت اور حسنِ سلوک کی مثال بنتی ہیں۔ ایسی ہی بیٹیوں کا گھرانا مستقبل میں بہترین تربیت گاہ ثابت ہوتا ہے جو اپنی اولاد و زیرِ تربیت بچیوں کو یہی اقدار سکھاتی ہیں، یوں ایک باوقار اور بااخلاق نسل پروان چڑھتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف دینی اجر کا باعث ہے بلکہ اخلاقی تربیت اور معاشرتی وقار کا نشان بھی ہے۔یاد رکھیے! مہمان نوازی صرف ایک عمل نہیں، بلکہ ایک کردار ہے۔ مہمان نوازی تعلقات کو مضبوط بناتی ہے، معاشرے میں محبت اور بھائی چارہ کو فروغ دیتی ہے، اور مثبت ماحول پیدا کرتی ہے۔ مہمان کو اللہ کی رحمت سمجھ کر اس کا استقبال کریں۔

مہمان نوازی کو فضیلت سمجھیں:

مہمان نوازی کو سعادت اور فضیلت سمجھیں، نہ کہ بوجھ۔ نبیِّ پاک  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا فرمان ہے جب کوئی مہمان کسی کے یہاں آتا ہے تو اپنا رِزق لے کر آتا ہے اور جب اس کے یہاں سے جاتا ہے تو صاحبِ خانہ کے گناہ بخشے جانے کا سبب ہوتا ہے۔([2])امام نَوَوِی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مہمان نوازی کرنا آدابِ اسلام اور انبیا و صالحین کی سنّت ہے۔ ([3])

مہمان نوازی کی تیاری کریں:

گھر کو صاف ستھرا رکھیں تاکہ مہمان آنے پر آپ کو کوئی فکر نہ ہو۔ ایک مہمان نواز میزبان ہونے کے لیے پہلے سے تیاری ضروری ہے۔

خلوصِ نیت کا اظہار کریں:

 مہمانوں سے مسکرا کر ملیں، ان کی ضروریات اور آرام کا خیال رکھیں۔ مہمان آئے تو اپنے کاموں میں مصروف رہنے کے بجائے اس کو ٹائم دیں، اس کے ساتھ بات چیت کریں کہ اس سے دوستانہ اور پُرلطف ماحول بنتا ہے۔ لیکن یاد رہے مہمان ہو یا کوئی بھی، جھوٹ، غیبت اور گناہوں بھری گفتگو سے ہمیشہ بچیں۔

 مہمان کے سامنے کھانا پیش کرنے کےآداب:

 (1)کھانا حاضر کرنے میں جلدی کی جائے (2)کھانے میں اگر پھل بھی ہوں تو پہلے پھل پیش کئے جائیں کیونکہ طِبّی لحاظ (Medical Point of View) سے پھل پہلے کھانا زیادہ مُوافِق ہے (3)مختلف اقسام کے کھانے ہوں تو حتی الامکان سب کھانے اکٹھے پیش کیے جائیں (4)جب تک کہ مہمان کھانے سے ہاتھ نہ روک لے تب تک دسترخوان نہ اُٹھایا جائے (5)مہمانوں کے سامنے اتنا کھانا رکھا جائے جو انہیں کافی ہو کیونکہ کفایت سے کم کھانا رکھنا مُرَوَّت کے خلاف ہےاور ضَرورت سے زیادہ رکھنا بناوٹ و دِکْھلاوا ہے۔([4])اللہ پاک ہمیں میزبانی اورمہمانی کے آداب کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم



([1])بخاری، 4/105، حدیث:6019

([2])کشف الخفاء،2/33، حدیث:1641

([3])شرح النووی علی المسلم، 2/18

([4])احیاء العلوم، 2/22 تا 23 ملخصاً


Share