DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah An Nisa Ayat 83 Translation Tafseer

رکوعاتہا 24
سورۃ ﷇ
اٰیاتہا 176

Tarteeb e Nuzool:(92) Tarteeb e Tilawat:(4) Mushtamil e Para:(4-5-6) Total Aayaat:(176)
Total Ruku:(24) Total Words:(4258) Total Letters:(16109)
83

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖؕ-وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْؕ-وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا(۸۳)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور جب امن یا خوف کی کوئی بات ان کے پاس آتی ہے تو اسے پھیلانے لگتے ہیں حالانکہ اگر اس بات کو رسول اور اپنے بااختیار لوگوں کی خدمت میں پیش کرتے تو ضرور اُن میں سے نتیجہ نکالنے کی صلاحیت رکھنے والے اُس (خبر کی حقیقت) کوجان لیتے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ضرور تم میں سے چند ایک کے علاوہ سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ: اور جب امن یا خوف کی کوئی بات ان کے پاس آتی ہے۔} یہاں اگرچہ ایک خاص سیاق و سباق میں ایک چیز بیان کی گئی ہے لیکن اِس میں جو حکم بیان کیا گیا ہے یہ ہماری زندگی کے ہزاروں گوشوں میں اصلاح کیلئے کافی ہے۔ خلاصہ کلام یہ فرمایا گیا کہ جب کبھی امن مثلاًمسلمانوں کی فتح یا خوف مثلاً مسلمانوں کی شکست کی کوئی بات لوگوں کے پاس آتی ہے جو فساد کا باعث بن سکتی ہے تو وہ فوراً اُسے پھیلانے لگتے ہیں حالانکہ اگر اس بات کو یہ لوگ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور اپنے بااختیار لوگوں جیسے اکابر صحابہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُم  جو صاحبِ رائے اور صاحبِ بصیر ت ہیں کی خدمت میں پیش کرتے اور خود کچھ دخل نہ دیتے تو سمجھدار لوگ ضرور اپنی عقل و دانش یا اپنی تحقیق کی روشنی میں اُ س خبر کی حقیقت کوجان لیتے اور یوں بات کا بتنگڑ بننے کی بجائے حقیقت ِ حال کھل کر سامنے آجاتی ۔

زندگی کی اصلاح کا ایک اہم اصول:

             اس آیت کو سامنے رکھ کر ہم اپنے گھروں کے معاملات بلکہ ملکی و بین الاقوامی معاملات اور صحافتی معاملات کو جانچ سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں کا حال یہ ہے کہ ایک بات کو کوئی شخص اچھالتا ہے اور پھر وہ موجودہ میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں گردش کرنے لگتی ہے اور کچھ عرصے بعد پتہ چلتا ہے کہ اس بات کا کوئی سر پیر ہی نہیں اور وہ سراسر جھوٹی ہے۔ مسلمانوں کو اور اسلام کو بدنام کرنے کیلئے ایسی سازشیں ، افواہیں اور خبریں دن رات پھیلائی جارہی ہیں حتّٰی کہ بعض جگہوں پر یہ بات پھیلائی گئی ہے کہ مسلمانوں کا مذہب یہ ہے کہ کوئی مسلمان اس وقت تک جنت میں نہیں جائے گا جب تک وہ کسی ایک کافر کو قتل نہیں کرلے گا۔ اَ لْاَمان وَالْحفیظ، کیسا جھوٹ اور کیسی دیدہ دلیری ہے۔ کفار کے ممالک میں مسلمانوں کا جو تشخص پھیلایا جارہا ہے وہ بھی اسی طرح کی جھوٹی افواہوں کے ذریعے ہے اور پھر ایسی ہی باتیں سن کر مغرب سے مرعوب کچھ پڑھے لکھے سمجھے جانے والے ہمارے لوگ اِن باتوں کو اسلام کے نام پر پیش کرکے اِسلام کو بدنام کرتے ہیں۔ یہی معاملہ گھروں میں ہے کہ کسی نے کچھ بات کہی ، وہ پھیلتے پھیلتے دس مرتبہ اضافوں کے ساتھ ایسی ہوگئی کہ خاندانوں میں لڑائیاں چھڑگئیں اور تباہیاں مچ گئیں۔ ایسی سینکڑوں باتوں کا ہم سب کو تجربہ ہوگا۔ ان سب کیلئے قرآن نے یہ اصول دیا ہے کہ جب ایسی کوئی بات پہنچے تو اہلِ دانش اور سمجھدار لوگوں تک پہنچا دی جائے وہ غور و فکر اور تحقیق سے اس کی حقیقت ِ حال معلوم کرلیں گے اور یوں بات کا بتنگڑ اور رائی کا پہاڑ نہیں بنے گا۔ حضرت حفص بن عاصم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے۔(مسلم، باب النہی عن الحدیث بکلّ ما سمع، ص۸، الحدیث: ۵(۵))

ایک اہم مسئلہ:

           مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں اس بات پر دلیل ہے کہ قیاس جائز ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک علم تو وہ ہے جو قرآن و حدیث سے صراحت سے حاصل ہوتا ہے اور ایک علم وہ ہے جوقرآن و حدیث سے اِستِنباط و قیاس کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔یہ بھی معلوم ہواکہ امور دینیہ میں ہر شخص کو دخل دینا جائز نہیں جو اِس کا اہل ہووہی اِس میں غور کرے۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links