DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah An Nisa Ayat 126 Translation Tafseer

رکوعاتہا 24
سورۃ ﷇ
اٰیاتہا 176

Tarteeb e Nuzool:(92) Tarteeb e Tilawat:(4) Mushtamil e Para:(4-5-6) Total Aayaat:(176)
Total Ruku:(24) Total Words:(4258) Total Letters:(16109)
126

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطًا۠(۱۲۶)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور اللہ ہر شے کو گھیرے ہوئے ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطًا: اور اللہ ہر شے کو گھیرے ہوئے ہے۔} اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر شے کو محیط ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا علم اور قدرت ہر شے کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور کسی شے کے جتنے پہلو ہوسکتے ہیں وہ تمام کے تمام اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علم میں ہیں کوئی اس سے خارج نہیں۔ یہاں علمی اِفادے کے طور پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی ایک عبارت پیشِ خدمت ہے ، فرماتے ہیں ’’ علم و قدرتِ الٰہی ہر شے کو محیط ہونے کے بھی یہ معنی نہیں کہ ا س کے علم و قدرت ہر جگہ مُتَمَکِّن ہیں کہ جگہ یا طرف میں ہونا جسم و جِسمانِیَّت کی شان ہے اور وہ اور اس کے صفات ان سے مُتَعالی، بلکہ اِحاطۂ علم کے معنی یہ ہیں کہ ہر شے واجب یا ممکن یامُمتَنِع معدوم یا موجود حادث یا قدیم اسے معلوم ہے ۔احاطۂ قدرت کے معنی یہ ہیں کہ ہر ممکن پر اسے قدرت ہے۔(فتاوی رضویہ، ۱۴ / ۶۲۰)

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links