DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah An Nisa Ayat 17 Translation Tafseer

رکوعاتہا 24
سورۃ ﷇ
اٰیاتہا 176

Tarteeb e Nuzool:(92) Tarteeb e Tilawat:(4) Mushtamil e Para:(4-5-6) Total Aayaat:(176)
Total Ruku:(24) Total Words:(4258) Total Letters:(16109)
17

اِنَّمَا  التَّوْبَةُ  عَلَى  اللّٰهِ  لِلَّذِیْنَ  یَعْمَلُوْنَ  السُّوْٓءَ  بِجَهَالَةٍ  ثُمَّ  یَتُوْبُوْنَ  مِنْ  قَرِیْبٍ  فَاُولٰٓىٕكَ  یَتُوْبُ  اللّٰهُ  عَلَیْهِمْؕ-وَ  كَانَ  اللّٰهُ  عَلِیْمًا  حَكِیْمًا(۱۷)
ترجمہ: کنزالعرفان
وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی دیر میں توبہ کرلیں ایسوں پر اللہ اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{ثُمَّ  یَتُوْبُوْنَ  مِنْ  قَرِیْبٍ:پھر تھوڑی دیر میں توبہ کر لیں۔} اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت ہے کہ گناہ کے بعد توبہ کرنے پر معاف فرما دیتا ہے اور موت کے وقت تک توبہ قبول فرماتا ہے ۔ یہاں فرمایا گیا کہ جو گناہ کرکے تھوڑی دیر میں توبہ کرلیں تو یہاں تھوڑی دیر سے مراد ایک آدھ گھنٹا یا دو چار سال نہیں بلکہ موت سے پہلے جب بھی توبہ کرلی وہ قریب ہی شمار ہوگی ۔ ہاں جب موت کا عالَم طاری ہوجائے اور غیب کا معاملہ ظاہر ہوجائے تو اس وقت توبہ مقبول نہیں۔

{وَ  كَانَ  اللّٰهُ  عَلِیْمًا  حَكِیْمًا:اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔} اسلام میں توبہ کا قانون بنانا عین حکمت و علم پر مَبنی ہے ۔ جن دینوں میں توبہ نہیں ان کے ماننے والے گناہ پر زیادہ دلیر ہوتے ہیں کیونکہ مایوسی جرم پر دلیر کر دیتی ہے اور معافی کی امید توبہ پر ابھارتی ہے۔ جس شخص کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی ہو اسے سب سے جدا قید میں رکھا جاتا ہے تا کہ کسی اور کو قتل نہ کر دے کیونکہ وہ اپنی زندگی سے مایوس ہوچکا ہے اور جسے ایک مقررہ مدت تک سزا کے بعد رہائی کا حکم ہو اسے دیگر مجرموں کے ساتھ قید میں رکھا جاتا ہے، اس سے یہ خطرہ نہیں ہوتا کیونکہ اسے رہائی کی امید ہے۔[1]



1توبہ کی ترغیب اورفضائل واحکام وغیرہ جاننے کے لئے کتاب’’ توبہ کی روایات وحکایات ‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ کیجئے۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links