DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah An Nisa Ayat 6 Translation Tafseer

رکوعاتہا 24
سورۃ ﷇ
اٰیاتہا 176

Tarteeb e Nuzool:(92) Tarteeb e Tilawat:(4) Mushtamil e Para:(4-5-6) Total Aayaat:(176)
Total Ruku:(24) Total Words:(4258) Total Letters:(16109)
6

وَ  ابْتَلُوا  الْیَتٰمٰى  حَتّٰۤى  اِذَا  بَلَغُوا  النِّكَاحَۚ-فَاِنْ  اٰنَسْتُمْ  مِّنْهُمْ  رُشْدًا  فَادْفَعُوْۤا  اِلَیْهِمْ  اَمْوَالَهُمْۚ-وَ  لَا  تَاْكُلُوْهَاۤ  اِسْرَافًا  وَّ  بِدَارًا  اَنْ  یَّكْبَرُوْاؕ-وَ  مَنْ  كَانَ  غَنِیًّا  فَلْیَسْتَعْفِفْۚ-وَ  مَنْ  كَانَ  فَقِیْرًا  فَلْیَاْكُلْ  بِالْمَعْرُوْفِؕ-فَاِذَا  دَفَعْتُمْ  اِلَیْهِمْ  اَمْوَالَهُمْ  فَاَشْهِدُوْا  عَلَیْهِمْؕ-وَ  كَفٰى  بِاللّٰهِ  حَسِیْبًا(۶)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور یتیموں (کی سمجھداری) کو آزماتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل ہوں تو اگر تم ان کی سمجھداری دیکھو تو ان کے مال ان کے حوالے کردو اور ان کے مال فضول خرچی سے اور (اس ڈر سے) جلدی جلدی نہ کھاؤ کہ وہ بڑے ہو جائیں گے اور جسے حاجت نہ ہو تو وہ بچے اور جو حاجت مند ہو وہ بقدر مناسب کھاسکتا ہے پھر جب تم ان کے مال ان کے حوالے کرو تو ان پر گواہ کرلو اور حساب لینے کے لئے اللہ کافی ہے ۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ  ابْتَلُوا  الْیَتٰمٰى: اور یتیموں کو آزماتے رہو۔}اس آیتِ مبارکہ میں یتیموں کے حوالے سے بہت واضح احکام دئیے ہیں ، چنانچہ فرمایا کہ جن یتیموں کا مال تمہارے پاس ہو ان کی سمجھداری کو آزماتے رہو جس کی ایک صورت یہ ہے کہ ان کا مال دے کر وقتاً فوقتاً انہیں دیکھتے رہو کہ کیسے خرچ کرتے ہیں۔ یوں انہیں آزماتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں یعنی بالغ ہوجائیں تو اگر تم ان میں سمجھداری کے آثار دیکھو کہ وہ مالی معاملات اچھے طریقے سے کرلیتے ہیں تو ان کے مال ان کے حوالے کردو۔ یہاں تک ان کے بارے میں حکم دینے کے بعد اب سرپرستوں کو بطورِ خاص چند ہدایات دی ہیں چنانچہ فرمایا کہ یتیموں کے مال کو فضول خرچی سے استعمال نہ کرو اور ان کامال جلدی جلدی نہ کھاؤ اس ڈر سے کہ جب وہ بڑے ہو جائیں گے تو چونکہ تمہیں اُن کے مال واپس کرنا پڑیں گے لہٰذا جتنا زیادہ ہوسکے ان کا مال کھا جاؤ، یہ حرام ہے۔ مزید ہدایت یہ ہے کہ یتیم کا سرپرست اگر خودمالدار ہویعنی اسے یتیم کا مال استعمال کرنے کی حاجت نہیں تو وہ اُس کا مال استعمال کرنے سے بچے اور جو حاجت مند ہو وہ بقدر مناسب کھاسکتا ہے یعنی جتنی معمولی سی ضرورت ہو ۔ اس میں کوشش یہ ہونی چاہیے کہ کم سے کم کھائے۔ (جَمَل، النساء، تحت الآیۃ: ۶، ۲ / ۱۳)

                آیت کے آخر میں مزید پہلے والے حکم کے بارے میں فرمایا کہ جب تم یتیموں کے مال اُن کے حوالے کرنے لگو تو اِس بات پر گواہ بنالو تاکہ بعد میں کوئی جھگڑا نہ ہو۔ یہ حکم مستحب ہے۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links