DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Kahf Ayat 82 Translation Tafseer

رکوعاتہا 12
سورۃ ﰌ
اٰیاتہا 110

Tarteeb e Nuzool:(69) Tarteeb e Tilawat:(18) Mushtamil e Para:(15-16) Total Aayaat:(110)
Total Ruku:(12) Total Words:(1742) Total Letters:(6482)
82

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًاۚ-فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا ﳓ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَۚ-وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْؕ-ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًاؕ۠(۸۲)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور بہرحال دیوار (کا جہاں تک تعلق ہے) تو وہ شہرکے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس دیوارکے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکالیں (یہ سب ) آپ کے رب کی رحمت سے ہے اور یہ سب کچھ میں نے اپنے حکم سے نہیں کیا ۔ یہ ان باتوں کا اصل مطلب ہے جس پر آپ صبر نہ کرسکے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ اَمَّا الْجِدَارُ:اور بہرحال دیوار۔} حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے تیسرے فعل یعنی دیوار سیدھی کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا ’’اور بہرحال دیوار کا جہاں  تک تعلق ہے تو وہ شہرکے دو یتیم لڑکوں  کی تھی جن کے نام اصرم اور صریم تھے اور اس دیوار کے نیچے ان دونوں  کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو  اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ دونوں  اپنی جوانی کو پہنچیں  اور اُن کی عقل کا مل ہوجائے اور وہ قوی و توانا ہوجائیں  اور اپنا خزانہ نکالیں  یہ سب اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے ہے اور جو کچھ میں  نے کیا وہ میری اپنی مرضی سے نہ تھا بلکہ  اللہ  عَزَّوَجَلَّکے حکم سے تھا۔یہ ان باتوں  کا اصل مطلب ہے جس پر آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام صبر نہ کرسکے۔( خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۲، ۳ / ۲۲۱-۲۲۲، ملخصاً)

یتیم کے ساتھ نیکی کرنے کا ثواب:

            اس سے معلوم ہو اکہ یتیموں  کے ساتھ نیکی کرنی چاہئے اور ان کے ساتھ ایسا معاملہ کرنا چاہئے جس میں  ان کا بھلا ہو۔ اَحادیث میں  یتیم کے ساتھ نیکی کرنے والے کے لئے بہت اجر و ثواب بیان کیا گیا ہے ، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضور اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’مسلمانوں  میں  سے جو شخص کسی یتیم کے کھانے پینے کی کفالت کرے تو  اللہ تعالیٰ اسے جنت میں  داخل کرے گا مگر یہ کہ وہ کوئی ایسا گناہ کرے جس کی بخشش نہ ہو۔( ترمذی، کتاب البرّ والصلۃ، باب ما جاء فی رحمۃ الیتیم وکفالتہ، ۳ / ۳۶۸، الحدیث: ۱۹۲۴)اور حضرت عبد اللہ بن عمررَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ گھر وہ ہے جس میں  کوئی یتیم ہو اور ا س کی عزت کی جاتی ہو۔( معجم الکبیر، عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی  اللہ عنہما۔۔۔ الخ، محمد بن طلحۃ عن ابن عمر، ۱۲ / ۳۸۸،  الحدیث: ۱۳۴۳۴)

{وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا:اور اس دیوار کے نیچے ان دونوں  کا خزانہ تھا۔} ترمذی شریف کی حدیث میں  ہے کہ اس دیوار کے نیچے سونا اور چاندی مدفون تھا۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الکہف،  ۵ / ۱۰۳، الحدیث: ۳۱۶۳)

عبرت انگیز عبارات:

            حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَافرماتے ہیں   کہ اس (خزانے) میں  سونے کی ایک تختی تھی، اس پر ایک طرف لکھا تھا ’’اس شخص کا حال عجیب ہے جسے موت کا یقین ہو، اسے (اپنی قلیل اور مختصر زندگی پر) خوشی کس طرح ہوتی ہے۔ اس شخص کا حال عجیب ہے جو قضاو قدر کا یقین رکھتا ہو ،اس کو (نعمت چھن جانے اور مصیبت آنے پر) غصہ کیسے آتا ہے۔ اس شخص کا حال عجیب ہے جسے رزق کا یقین ہو، وہ کیوں  (اسے حاصل کرنے کی) مشقت میں  پڑتا ہے۔ اس شخص کا حال عجیب ہے جسے حساب کا یقین ہو ،وہ(اپنے حساب سے) کیسے غافل رہتا ہے (اور دنیا کا مال و متاع زیادہ کرنے میں  کیوں  مشغول ہوتا ہے)۔ اس شخص کا حال عجیب ہے جسے دنیا کے زوال و تغیر کا یقین ہو، وہ (اس پر) کیسے مطمئن ہوتا ہے اور اس کے ساتھ لکھا تھا ’’ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ  اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ‘‘اور دوسری جانب اس لَوح پر لکھا تھا ’’میں اللہ ہوں  میرے سوا کوئی معبود نہیں ، میں  یکتا ہوں  میرا کوئی شریک نہیں  ،میں  نے خیرو شر کو پیدا کیا ، تواس کے لئے خوشی ہے جسے میں  نے خیر کے لئے پیدا کیا اور اس کے ہاتھوں  پر خیر جاری کی، اس کے لئے تباہی ہے جسے میں  نے شر کے لئے پیدا کیا اور اس کے ہاتھوں  پر شر جاری کیا۔( خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۲، ۳ / ۲۲۱)

{وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا:اور ان کا باپ نیک آدمی تھا۔} اس کا نام کاشِح تھا اور یہ شخص پرہیزگار تھا۔( خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۲، ۳ / ۲۲۱)علماء فرماتے ہیں  وہ ان بچوں  کاآٹھویں  یا دسویں  پشت میں  باپ تھا۔( فتاویٰ رضویہ، ۲۳ / ۲۴۰)

باپ کے تقویٰ اور پرہیزگاری کا فائدہ:

            یاد رہے کہ باپ کے تقویٰ و پرہیز گاری کے نتیجے میں  ا س کی اولاد در اولاد کو دنیا میں  فائدہ ہوتا ہے، جیساکہ حضرت  عبداللّٰہبن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی   عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’بے شک  اللہ تعالیٰ آدمی کے نیک ہونے کی وجہ سے اس کی اولاد در اولاد  کی بہتری فرما دیتا ہے اور اس کی نسل اور اس کے ہمسایوں  میں  اس کی رعایت فرما دیتا ہے کہ  اللہ  تعالیٰ کی طرف سے پردہ پوشی اور امان میں  رہتے ہیں ۔( در منثور، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۲، ۵ / ۴۲۲)

            اور حضرت محمد بن منکدر رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  نے فرمایا ’’  اللہ تعالیٰ بندے کی نیکی سے اس کی اولاد کو اوراس کی اولاد کی اولاد کو اور اس کے کنبہ والوں  کو اور اس کے محلہ داروں  کو اپنی حفاظت میں  رکھتا ہے۔( خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۲، ۳ / ۲۲۱)

             یونہی باپ کا نیک پرہیزگار ہونا آخرت میں  بھی اس کی اولاد کو نفع دیتا ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ‘‘(طور:۲۱)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی (جس)  اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی توہم ان کی اولاد کو ان کےساتھ ملادیں  گے اور ان( والدین) کے عمل میں  کچھ کمی نہ کریں  گے۔

            حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بیشک  اللہ تعالیٰ مومن کی ذُرِّیَّت کو اس کے درجہ میں  اس کے پاس اٹھالے گا اگرچہ وہ عمل میں  اس سے کم ہو تا کہ اس کی آنکھیں  ٹھنڈی ہوں ۔( جامع الاحادیث، حرف الہمزۃ، ۲ / ۴۹۵، الحدیث: ۶۸۳۵)

             حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جب آدمی جنت میں  جائے گا تواپنے ماں  باپ،بیوی اور اولاد کے بارے میں  پوچھے گا۔ ارشاد ہوگا کہ وہ تیرے درجے اور عمل کو نہ پہنچے۔ عرض کرے گا ’’اے میرے رب ! عَزَّوَجَلَّ، میں  نے اپنے اور ان کے سب کے نفع کے لئے اعمال کئے تھے۔ اس پر حکم ہوگا کہ وہ اس سے ملادئیے جائیں ۔( معجم صغیر، باب العین، من اسمہ: عبد اللّٰہ، ص۲۲۹، الجزء الاوّل)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’جب عام صالحین کی صلاح (یعنی تقویٰ و پرہیزگاری) ان کی نسل واولاد کو دین ودنیا وآخرت میں  نفع دیتی ہے تو صدیق وفاروق وعثمان وعلی وجعفر وعباس وانصار کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ کی صلاح کا کیا کہنا جن کی اولاد میں  شیخ، صدیقی وفاروقی وعثمانی وعلوی وجعفری وعباسی وانصاری ہیں ۔ یہ کیوں  نہ اپنے نسبِ کریم سے دین ودنیا وآخرت میں  نفع پائیں  گے۔ پھر  اللہ اکبر حضرات عُلْیَہ سادات کرام اولادِ امجاد حضرت خاتونِ جنت بتول زہرا کہ حضور پُر نور، سیدالصالحین ،سید العالمین ،سید المرسلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ وَسَلَّمَ کے بیٹے ہیں  کہ ان کی شان تو ارفع واعلیٰ وبلند وبالا ہے۔( فتاوی رضویہ، ۲۳ / ۲۴۳-۲۴۴)

{ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا:یہ ان باتوں  کا اصل مطلب ہے ۔} حضرت عبد اللہ بن احمد نسفیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’بعض لوگ (اس آیت کی وجہ سے ) ولی کو نبی پر فضیلت دے کر گمراہ ہوگئے اوردر حقیقت ولی کو نبی پر فضیلت دینا کفر ِجَلی ہے، ان لوگوں  نے یہ خیال کیا کہ حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو حضرتِ خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے علم حاصل کرنے کا حکم دیا گیا حالانکہ حضرت خضرعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ولی ہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نبی ہیں  اور اگر ایسا نہ ہو جیسا کہ بعض کا گمان ہے تو یہ  اللہ  تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حق میں  اِبتلا یعنی آزمائش ہے۔( مدارک، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۲، ص۶۶۱)

حضرت خضرعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام زندہ ہیں  :

            یہاں  یہ یاد رہے کہ اکثر علماء کا مَوقف یہ ہے ،نیز مشائخ صوفیہ اور اصحابِ عرفان کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامزندہ ہیں ۔ شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاویٰ میں  فرمایا کہ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جمہور علماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں  ۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت خضر اور حضرت الیاس عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دونوں  زندہ ہیں  اور ہر سال زمانۂ حج میں  ملتے ہیں  ۔ یہ بھی منقول ہے کہ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چشمۂ حیات میں  غسل فرمایا اور اس کا پانی پیا۔ و اللہ تعالٰی اعلم(خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۲، ۳ / ۲۲۲)

            اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’چار نبی زندہ ہیں  کہ اُن کو وعدۂ الٰہیہ ابھی آیا ہی نہیں ، یوں  تو ہر نبی زندہ ہے: اِنَّ  اللہ حرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاءِ فَنَبِیُّ  اللہ حَیٌّ یُّرْزَقُ۔ بے شک  اللہ نے حرام کیا ہے زمین پر کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جسموں کوخراب کرے تو  اللہ کے نبی زندہ ہیں  روزی دیئے جاتے ہیں ۔( ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاتہ ودفنہ صلی  اللہ علیہ وسلم، ۲ / ۲۹۱، الحدیث: ۱۶۳۷)اَنبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر ایک آن کو محض تصدیقِ وعدئہ الٰہیہ کے لیے موت طاری ہوتی ہے، بعد اِس کے پھر اُن کو حیاتِ حقیقی حِسّی دُنْیَوی عطا ہوتی ہے۔ خیر اِن چاروں  میں  سے دو آسمان پر ہیں  اور دو زمین پر۔ خضر و الیاس عَلَیْہِمَا السَّلَام زمین پر ہیں  اور ادریس و عیسیٰ  عَلَیْہِمَا السَّلَام آسمان پر۔( ملفوظات، حصہ چہارم، ص۴۸۴)

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links