DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Kahf Ayat 20 Translation Tafseer

رکوعاتہا 12
سورۃ ﰌ
اٰیاتہا 110

Tarteeb e Nuzool:(69) Tarteeb e Tilawat:(18) Mushtamil e Para:(15-16) Total Aayaat:(110)
Total Ruku:(12) Total Words:(1742) Total Letters:(6482)
19-20

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْؕ-قَالَ قَآىٕلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْؕ-قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍؕ-قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْؕ-فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا(۱۹)اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا(۲۰)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور ویسا ہی ہم نے انہیں جگایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے حالات پوچھیں ۔ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا: تم یہاں کتنی دیر رہے ہو؟ چند افراد نے کہا: کہ ہم ایک دن رہے ہیں یا ایک دن سے کچھ کم وقت۔ دوسروں نے کہا: تمہارا رب خوب جانتا ہے جتنا تم ٹھہرے ہوتو اپنے میں سے ایک کو یہ چاندی دے کرشہر کی طرف بھیجو تاکہ وہ دیکھے کہ وہاں کون سا کھانا زیادہ عمدہ ہے پھر تمہارے پاس اسی میں سے کوئی کھانا لے آئے اور اسے چاہیے کہ نرمی سے کام لے اور ہرگز کسی کو تمہاری اطلاع نہ دے۔ بیشک اگر انہوں نے تمہیں جان لیا تو تمہیں پتھر ماریں گے یا تمہیں اپنے دین میں پھیر لیں گے اور اگر ایسا ہوا تو پھر تم کبھی بھی فلاح نہ پاؤگے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ: اور یوں  ہی ہم نے انہیں  جگایا۔} یہاں  سے اب بقیہ واقعے کی تفصیل بیان کی گئی ہے، تفسیرات کی روشنی میں  آیت کا خلاصہ یوں  ہے کہ فرمایا ’’ جیسا ہم نے انہیں  سلایا ویسا ہی ایک مدت ِ دراز کے بعد ہم نے انہیں  جگایا تاکہ آپس میں  ایک دوسرے سے حالات پوچھیں  اور اللّٰہ تعالیٰ کی قدرتِ عظیمہ دیکھ کر ان کا یقین زیادہ ہو اور وہ اس کی نعمتوں  کا شکر ادا کریں ۔ چنانچہ جب وہ بیدار ہوئے تو ان میں  سے ایک کہنے والے یعنی مَکْسِلْمِینَا جو اُن میں  سب سے بڑے اور ان کے سردارتھے کہنے لگے: تم یہاں  کتنی دیر رہے ہو؟ چند افراد نے کہا: کہ ہم یہاں  ایک دن رہے ہیں  یا ایک دن سے کچھ کم وقت۔ کیونکہ وہ غار میں  طلوعِ آفتاب کے وقت داخل ہوئے تھے اور جب اُٹھے تو آفتاب قریب ِغروب تھا، اس سے انہوں  نے گمان کیا کہ یہ وہی دِن ہے۔ بقیہ لوگوں  نے کہا: تمہارا رب خوب جانتا ہے جتنا تم ٹھہرے ہوکہ تھوڑا عرصہ ہوا ہے یا زیادہ ،تو اپنے میں  سے ایک کو یہ چاندی دے کرشہر کی طرف بھیجو تاکہ وہ جاکر دیکھے کہ وہاں  کون سا کھانا زیادہ عمدہ ہے جس میں  حرمت کا کوئی شبہ نہ ہو پھر وہی کھانا لے آئے اور جانے والے کو چاہیے کہ آنے جانے میں نرمی سے کام لے اور ہرگز کسی کو تمہاری اطلاع نہ دے۔ اصحاب ِ کہف اپنے ساتھ دقیانوسی سکے لے کر گئے تھے اورسوتے وقت انہیں  اپنے سرہانے رکھ لیا تھا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسافر کو خرچ ساتھ میں  رکھنا طریقۂ تَو کل کے خلاف نہیں  ہے۔ اسباب ساتھ رکھے اور بھروسہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ پر رکھے۔( مدارک، الکھف، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۶۴۵، خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۱۹، ۳ / ۲۰۵، ملتقطاً)

{اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ:بے شک اگر انہوں  نے تمہیں  جان لیا ۔} اصحاب ِ کہف نے آپس میں  کہا کہ اگر انہوں  نے تمہیں  جان لیا تو تمہیں  پتھر ماریں  گے اور بری طرح قتل کریں  گے یا جبروستم سے تمہیں   اپنے دین میں  پھیر لیں  گے اور اگر ایسا ہوا تو پھر تم کبھی بھی فلاح نہ پاؤگے۔

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links