DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Kahf Ayat 29 Translation Tafseer

رکوعاتہا 12
سورۃ ﰌ
اٰیاتہا 110

Tarteeb e Nuzool:(69) Tarteeb e Tilawat:(18) Mushtamil e Para:(15-16) Total Aayaat:(110)
Total Ruku:(12) Total Words:(1742) Total Letters:(6482)
29

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ- فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْۙ-اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًاۙ-اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَاؕ-وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَؕ-بِئْسَ الشَّرَابُؕ-وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا(۲۹)
ترجمہ: کنزالعرفان
اورتم فرما دو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے بیشک ہم نے ظالموں کے لیے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی اور اگروہ پانی کے لیے فریاد کریں تو ان کی فریاد اس پانی سے پوری کی جائے گی جو پگھلائے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو اُن کے منہ کوبھون دے گا۔ کیا ہی برا پینا اور دوزخ کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ قُلْ:اور فرمادو۔} یعنی تم فرمادو کہ حق تمہارے ربعَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے اور حق و باطل ظاہر ہوچکا ہے لہٰذا میں  تو مسلمانوں  کو ان کی غربت کے باعث تمہاری دل جوئی کے لئے اپنی مجلس مبارک سے جدا نہیں  کروں  گا، جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے اور خود ہی اپنے انجام کو سوچ لے اور سمجھ لے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے ظالموں  یعنی کافروں  کے لیے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں  انہیں  گھیر لیں  گی اور اگروہ پیاس کی شدت سے پانی کے لیے فریاد کریں  تو ان کی فریاد اس پانی سے پوری کی جائے گی جو پگھلائے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو اُن کے منہ کوبھون دے گا۔ کیا ہی برا پینا ہے اور دوزخ کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ، حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا: وہ روغن زیتون کی تلچھٹ کی طرح گاڑھا پانی ہے۔( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۲۹، ۳ / ۲۰۹) اور ترمذی کی حدیث میں  ہے کہ جب وہ منہ کے قریب کیا جائے گا تو منہ کی کھال اس سے جل کر گر پڑے گی۔( ترمذی، کتاب صفۃ جہنّم، باب ما جاء فی صفۃ شراب اہل النار، ۴ / ۲۶۲، الحدیث: ۲۵۹۲)اور بعض مفسرین کا قول ہے کہ وہ پگھلایا ہوا رانگ اور پیتل ہے۔( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۲۹، ۳ / ۲۰۹)

گناہگار مسلمانوں  کے لئے نصیحت:

            اس آیتِ مبارکہ میں  ہر اس مسلمان کے لئے بھی بڑی نصیحت ہے جو ظلم اور گناہ کرنے میں  مصروف ہے، اسے اپنے گناہوں  پر ندامت و شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے توبہ و استغفار کرنا اور نیک اعمال میں  مصروف ہوجانا چاہئے ورنہ یاد رکھے کہ مرنے کے بعد کا سفر انتہائی طویل ہے، جہنم کی گرمی بڑی شدید ہے، اہلِ جہنم کا پانی پگھلے ہوئے تانبے کی طرح اور جہنمیوں  کی پیپ ہے اور جہنم کی قید بہت سخت ہے۔ جہنم کے سب سے کم عذاب کے بارے میں  حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جہنم میں  سب سے کم عذاب جس شخص کو ہو گا اسے آگ کی دو جوتیاں  پہنائی جائیں  گی جن کی گرمی کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔( مسلم، کتاب الایمان، باب اہون اہل النار عذاباً، ص۱۳۴،  الحدیث: ۳۶۱(۲۱۱))اور حضرت نعمان بن بشیررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اہلِ جہنم میں  سب سے کم عذاب اس شخص کو ہو گا جسے آگ کی دو جوتیاں  تسموں  سمیت پہنائی جائیں  گی جس کی وجہ سے اس کا دماغ ایسے کھول رہا ہو گا جیسے پتیلی میں  پانی جوش سے کھولتا ہے، وہ سمجھ رہا ہو گا کہ سب سے زیادہ عذاب مجھے دیا گیا ہے حالانکہ اسے سب سے کم عذاب (دیا گیا) ہوگا۔( مسلم، کتاب الایمان، باب اہون اہل النار عذاباً، ص۱۳۴،  الحدیث: ۳۶۴(۲۱۳)) جب سب سے کم عذاب والے کا یہ حال ہو گا تو اس شخص کا حال کیا ہو گا جسے اس سے زیادہ عذاب دیاجا رہا ہو گا۔

ایک بچے کی عبرت انگیز حکایت:

            یہاں  ایک بچے کی عبرت انگیز حکایت ملاحظہ ہو ، چنانچہ حضرت مالک بن دینار رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : میں  ایک بچے کے پاس سے گزرا، وہ مٹی کے ساتھ کھیل رہاتھا اور (اس دوران) کبھی وہ ہنسنا شروع کر دیتا اور کبھی رونے لگ جاتا تھا۔ میں  نے ارادہ کیا کہ اسے سلام کروں  تو میرے نفس نے مجھے منع کیا، میں  نے کہا: اے نفس! نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَبچوں  اور بڑوں  کو سلام کیا کرتے تھے ،پھر میں  نے اسے سلام کیا تو اس نے کہا ’’وعلیک السلام ورحمۃ اللّٰہ، اے مالک!۔ میں  نے کہا: آپ نے مجھے کیسے پہچانا؟ اس نے کہا: عالَمِ مَلکوت میں  میری روح نے آپ کی روح سے ملاقات کی تھی تو اس نے مجھے پہچا ن کروا دی جو زندہ ہے اور اسے کبھی موت نہیں  آئے گی۔ میں  نے کہا: نفس اور عقل میں  فرق کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: نفس وہ ہے جس نے آپ کو سلام کرنے سے منع کیا اور عقل وہ ہے جس نے آپ کو سلام کرنے پر ابھارا۔ میں  نے کہا: تم مٹی سے کیوں  کھیل رہے ہو؟ اس نے کہا: میں  مٹی سے اس لئے کھیل رہا ہوں  کہ ہم اسی سے پیدا ہوئے اور اسی کی طرف لوٹ کر جائیں  گے۔ میں  نے کہا :تم کبھی روتے اور کبھی ہنستے کیوں  ہو؟ اس نے کہا: جب مجھے اپنے رب کاعذاب یاد آتا ہے تو میں  رونا شروع کر دیتا ہوں  اور جب مجھے اس کی رحمت یاد آتی ہے تو میں  ہنسنے لگتا ہوں ۔ میں  نے کہا: اے میرے بچے! تمہارے نامہ اعمال میں  تو کوئی گناہ نہیں  جس کی وجہ سے تم رؤو، کیونکہ تم تو مُکَلَّف ہی نہیں  ہو۔ اس نے کہا: آپ ایسی بات نہ کریں  کیونکہ میں  نے اپنی والدہ کو دیکھا ہے کہ وہ بڑی لکڑیوں  کو چھوٹی لکڑیوں  کے ذریعے ہی جلاتی ہے۔( روح البیان، الکہف، تحت الآیۃ: ۲۹، ۵ / ۲۴۲)

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links