DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Kahf Ayat 39 Translation Tafseer

رکوعاتہا 12
سورۃ ﰌ
اٰیاتہا 110

Tarteeb e Nuzool:(69) Tarteeb e Tilawat:(18) Mushtamil e Para:(15-16) Total Aayaat:(110)
Total Ruku:(12) Total Words:(1742) Total Letters:(6482)
39

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُۙ-لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِۚ-اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ(۳۹)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تو اپنے باغ میں گیا تو کہتا: (یہ سب وہ ہے) جو اللہ نے چاہا، ساری قوت اللہ کی مدد سے ہی ہے۔ اگر تو مجھے اپنے مقابلے میں مال اور اولاد میں کم دیکھ رہا ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ:تو کہتا: جو اللّٰہ نے چاہا۔} مسلمان نے اس کافر کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ ایسا کیوں  نہ ہوا کہ تو اس سارے باغ اور اَسباب پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قدرت و نعمت کا معترف ہوتا اور اگر توباغ دیکھ کر مَاشَآءَ اللّٰہ کہتا اور اعتراف کرتا کہ یہ باغ اور اُس کے تمام مَحاصل و مَنافع اللّٰہ تعالیٰ کی مَشِیَّت اور اس کے فضل وکرم سے ہیں  اور سب کچھ اس کےاختیار میں  ہے، چاہے اس کو آباد رکھے اور چاہے ویران کرے ،ایسا کہتا تو یہ تیرے حق میں  بہتر ہوتا ۔اگر تو مجھے اپنے مقابلے میں  مال اور اولاد میں  کم سمجھ رہا تھا اور اس وجہ سے تکبر میں  مبتلا تھا اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا توتو نے ایسا کیوں  نہیں  کہا جو اوپر بیان ہوا۔( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۳۹، ۳ / ۲۱۱، ملخصاً خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۳۹، ۳ / ۲۱۱، ملخصاً)

مسلمان اور کافر کا فرق:

            یہاں  سے مسلمان اور کافر کا فرق واضح ہوا کہ کافر اپنے مال و دولت اور کامیابی کو اپنی کوششوں  کا نتیجہ سمجھتا ہے جبکہ مسلمان اپنی ہر کامیابی کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے فضل و کرم کی طرف منسوب کرتا ہے اور یہی تَوکّل ہے کہ اَسباب تواختیار کئے جائیں  لیکن نتیجہ اور ثَمرہ کی تَوقّع اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے کی جائے اور مُؤثّرِ حقیقی اسی کی ذات کو سمجھا جائے۔

آفات سے بچنے کا وظیفہ:

            حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جو شخص کوئی پسندیدہ چیز دیکھ کر ’’ مَا شَآءَ اللّٰهُۙ-لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ‘‘ کہے تو اسے نگاہ، نقصان نہیں  پہنچائے گی۔( کنز العمال، کتاب السحر والعین والکہانۃ، قسم الاقوال، الفصل الثانی، ۳ / ۳۱۶، الحدیث: ۱۷۶۶۶، الجزء السادس)

            حضرت عقبہ بن عامررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اللّٰہ تعالیٰ کسی بندے کو کوئی نعمت عطا کرے اور وہ چاہے کہ نعمت باقی رہے تو وہ کثرت سے ’’لَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ‘‘ کہے، پھر حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے یہ آیت تلاوت فرمائی ’’ وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُۙ-لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ‘‘(معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ احمد، ۱ / ۵۸، الحدیث: ۱۵۵)

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links