DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Anam Ayat 91 Translation Tafseer

رکوعاتہا 20
سورۃ ﷱ
اٰیاتہا 165

Tarteeb e Nuzool:(55) Tarteeb e Tilawat:(6) Mushtamil e Para:(07-08) Total Aayaat:(165)
Total Ruku:(20) Total Words:(3442) Total Letters:(12559)
91

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍؕ-قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًاۚ-وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْؕ-قُلِ اللّٰهُۙ-ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ(۹۱)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور یہودیوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا اس کی قدر کرنے کا حق تھا جب انہوں نے کہا : اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نہیں نازل کی۔ تم فرماؤ: وہ کتاب کس نے اتاری تھی جسے موسیٰ لے کر آئے تھے؟ نور اور لوگوں کے لیے ہدایت تھی، جس کے تم نے الگ الگ کاغذ بنالیے تھے، کچھ ظاہر کرتے ہواور بہت کچھ چھپالیتے ہواور تمہیں وہ سکھایا جاتا ہے جو نہ تم کو معلوم تھا اورنہ تمہارے باپ دادا کو۔ تم کہو: ’’اللہ ‘‘پھر انہیں ان کی بیہودگی میں کھیلتے ہوئے چھوڑ دو۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{ وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ:اور یہودیوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت اپنے حِبْرُالاحْبار یعنی سب سے بڑے عالم مالک ابنِ صیف کو لے کرنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بحث کرنے آئی۔ تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے فرمایا، میں تجھے اُس پر وردگار کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر توریت نازل فرمائی ،کیا توریت میں تو نے یہ دیکھا ہے؟ ’’ اِنَّ اللہَ یُبْغِضُ الْحِبْرَ السَّمِیْنَ‘‘ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّکو موٹا عالم ناپسند ہے۔ وہ کہنے لگا، ’’ہاں ، یہ توریت میں ہے‘‘۔ حضورِ اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا:’’ تو موٹا عالم ہی تو ہے ۔اس پروہ غضبناک ہو کر کہنے لگاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کسی آدمی پر کچھ نہیں اُتارا۔اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور اس میں فرمایا گیا : وہ کتاب کس نے اُتاری جو موسیٰ لائے تھے؟ تو وہ لاجواب ہوگیا اور یہودی اُس پر برہم ہوگئے اور اس کو جھڑکنے لگے اور اس کو اُس کے عہدے سے معزول کردیا۔ (تفسیر بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۹۱، ۲ / ۹۴، مدارک، الانعام، تحت الآیۃ: ۹۱، ص۳۳۱-۳۳۲، ملتقطاً)

            مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ خیال رہے کہ موٹے پادری سے مراد وہ پادری تھے جو حرام خوری کرکے خوب موٹے تازے ہو جاتے تھے۔

اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ یہودیوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ویسی قدر نہ کی جیسا اس کی قدر کرنے کا حق تھا اور اس کی معرفت سے محروم رہے اور بندوں پر اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم کو نہ جانا۔ انہوں نے کہا : اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کسی انسان پر کوئی چیز نہیں نازل کی۔ اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، تم انہیں جواب دو کہ اگراللہ عَزَّوَجَلَّ نے کوئی کتاب نہیں اتاری تو وہ کتاب کس نے اتاری تھی جسے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاملے کر آئے تھے؟ جو سراپا نور اور لوگوں کے لیے ہدایت تھی اور جس کے تم نے الگ الگ کاغذ بنالیے تھے اور ان میں سے کچھ کو ظاہر کرتے ہو جس کا اظہار اپنی خواہش کے مطابق سمجھتے ہو جبکہ محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور ان کے دین کے بارے میں بہت کچھ چھپالیتے ہو اور اے یہودیو! تمہیں محمد مصطفی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعلیم اور قرآنِ کریم کے ذریعے وہ کچھ سکھایا جاتا ہے جو نہ تم کو معلوم تھا اور نہ تمہارے باپ دادا کو۔ مزید فرمایا کہ پھر یہودی اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سوال کا جواب نہ دے سکیں توتم خود جواب دے دینا کہ تورات کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نازل کیا تھا اور جیسے تورات کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نازل فرمایا تھا ایسے ہی قرآن کو بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہی نازل فرمایا ہے اوریہ جواب دینے کے بعد انہیں ان کی بیہودگی میں کھیلتے ہوئے چھوڑ دو کیونکہ جب آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حجت قائم کردی اور وعظ و نصیحت کا حق ادا کردیا اور ان کے لئے کسی عذر اور بہانے کی گنجائش نہ چھوڑی اوراس پر بھی وہ باز نہ آئیں تو انہیں ان کی بے ہودگی میں چھوڑ دیں۔یہ کفار کے حق میں وعید و تہدید ہے۔

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links