DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Anam Ayat 141 Translation Tafseer

رکوعاتہا 20
سورۃ ﷱ
اٰیاتہا 165

Tarteeb e Nuzool:(55) Tarteeb e Tilawat:(6) Mushtamil e Para:(07-08) Total Aayaat:(165)
Total Ruku:(20) Total Words:(3442) Total Letters:(12559)
141

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍؕ-كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ ﳲ وَ لَا تُسْرِفُوْاؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ(۱۴۱)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور وہی ہے جس نے کچھ باغات زمین پر پھیلے ہوئے اور کچھ نہ پھیلے ہوئے (تنوں والے) اور کھجور اور کھیتی کو پیدا کیا جن کے کھانے مختلف ہیں اور زیتون اور انار (کو پیدا کیا، یہ سب) کسی بات میں آپس میں ملتے ہیں اور کسی میں نہیں ملتے۔ جب وہ درخت پھل لائے تو اس کے پھل سے کھاؤ اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق دو اور فضول خرچی نہ کرو بیشک وہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ:اور وہی ہے جس نے باغ پیدا کیے۔} اللہ تعالیٰ نے کچھ باغات ایسے پیدا فرمائے جو زمین پر پھیلے ہوئے ہیں جیسے خربوزہ، تربوز اور دیگر بیل بوٹے وغیرہ اور کچھ ایسے پیدا فرمائے جو زمین پر پھیلے ہوئے نہیں بلکہ تنے والے ہیں جیسے آم، امرود اور مالٹا وغیرہ کے باغات، اسی طرح کھجور اور کھیتی، انار اور زیتون کوپیدا فرمایا اور اس میں اللہ  عَزَّوَجَلَّ کی عجیب قدرت ہے کہ ان پھلوں میں تاثیر اور ذائقے کے اعتبار سے  تو فرق ہوتا ہے لیکن رنگ اور پتوں کے اعتبار سے بہت مشابہت ہوتی ہے۔

{ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ:اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق دو۔} یہاں فصلوں کا حق ادا کرنے کا حکم ہے، اس میں سب سے اول تو عشر یعنی پیدا وار کا دسواں حصہ یا نصف عشر یعنی پیداوار کا بیسیواں حصہ داخل ہے اور اس کے علاوہ مساکین کو کچھ پھل وغیرہ دینا بھی پیداوار کے حقوق میں آتا ہے۔

زمین کی ہر پیداوار میں زکوٰۃ ہے:

            اِس آیت میں اس بات کی دلیل بھی ہے کہ ہر پیداوار میں زکوٰۃ ہے، چاہے پیداوار کم ہو یا زیادہ، اس کے پھل سال تک رہیں یا نہ رہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کسی قید کے بغیر فرمایا ’’ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ‘ ‘ اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق دو۔ اور حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، رسولُ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو زمین بارش، نہر اور چشموں سے سیراب ہو اس میں عشر ہے اور جو پانی کھینچ کر سیراب کی جائے اس میں نصف عشر ہے۔ (ابن ماجہ، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الزروع والثمار، ۲ / ۳۸۹، الحدیث: ۱۸۱۷)

{ وَ لَا تُسْرِفُوْا:اورفضول خرچی نہ کرو۔} مفسرین نے فضول خرچی کے مختلف مَحْمَل بیان فرمائے ہیں ، چنانچہ مفسر سُدِّی کا قول ہے کہ اگر کل مال خرچ کر ڈالا اور اپنے گھروالوں کو کچھ نہ دیا اور خود فقیر بن بیٹھا تو یہ خرچ بے جا ہے اور اگر صدقہ دینے ہی سے ہاتھ روک لیا تو یہ بھی بے جا اور داخلِ اسراف ہے ۔ حضرت سعید بن مسیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بھی ایسا ہی قول ہے۔ حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا قول ہے کہ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کے سوا اور کام میں جو مال خرچ کیا جائے وہ قلیل بھی ہو تو اسراف ہے۔ امام زہری  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا قول ہے کہ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ معصیت میں خرچ نہ کرو۔ امام مجاہدرَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کہا کہ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حق میں کوتاہی کرنا اسراف ہے اور اگر ابو قبیس پہاڑ سونا ہو اور اس تمام کو راہِ خدا میں خرچ کر دو تو اسراف نہ ہوگا اور ایک درہم معصیت میں خرچ کرو تو وہ اسراف ہے۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۴۱، ۲ / ۶۲-۶۳)

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links