DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Anam Ayat 79 Translation Tafseer

رکوعاتہا 20
سورۃ ﷱ
اٰیاتہا 165

Tarteeb e Nuzool:(55) Tarteeb e Tilawat:(6) Mushtamil e Para:(07-08) Total Aayaat:(165)
Total Ruku:(20) Total Words:(3442) Total Letters:(12559)
79

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ(۷۹)
ترجمہ: کنزالعرفان
میں نے ہر باطل سے جدا ہو کر اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{ اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ :میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے جھوٹے معبودوں سے بیزاری ظاہر کرنے کے بعد اپنا عقیدہ اور دینِ حق کا اعلان فرما دیا چنانچہ فرمایا کہ’’ میں نے ہر باطل سے جدا ہو کر اپنا منہ اس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یعنی اسلام کے سوا باقی تمام ادیان سے جدا رہ کرمیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سامنے جھکنے والا ہوں۔

حنیف کے معنی:

            اس آیت میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے خود کو حنیف فرمایا۔ حنیف کے معنی ہیں ’’ تمام جھوٹے دینوں سے صاف اور ہرباطل سے جدا۔ ‘‘

دینِ حق کے اِستحکام کی صورت:

             اس سے معلوم ہوا کہ دینِ حق کا قیام واستحکام جب ہی ہوسکتا ہے جب کہ تمام باطل دینوں سے بیزاری اور دینِ حق پر پختگی ہو۔ دین کے معاملے میں پلپلے پن کا مظاہرہ کرنے ، سب کو اپنی اپنی جگہ درست ماننے اور سب مذاہب میں اتفاق اور اتحاد پیدا کرنے کی کوششیں کرنے سے دینِ حق کا استحکام ممکن نہیں۔

 نماز سے پہلے پڑھا جانے والاوظیفہ:

            حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نماز شروع کرنے سے پہلے ایک وظیفہ پڑھا کرتے تھے ، اس کے بارے میں حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَجب نماز شروع کرنے کے لئے کھڑے ہوتے تو یہ پڑھا کرتے تھے  ’’وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَحَنِیْفًا  وَمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِنَّ صَلَا تِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ  لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنََ‘‘ میں نے ہر باطل سے جدا ہو کر اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کامجھے حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمان ہوں۔ (مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب الدعاء فی صلاۃ اللیل وقیامہ، ص۳۹۰، الحدیث: ۲۰۱(۷۷۱))

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links