DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Anam Ayat 121 Translation Tafseer

رکوعاتہا 20
سورۃ ﷱ
اٰیاتہا 165

Tarteeb e Nuzool:(55) Tarteeb e Tilawat:(6) Mushtamil e Para:(07-08) Total Aayaat:(165)
Total Ruku:(20) Total Words:(3442) Total Letters:(12559)
121

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌؕ-وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓـٕهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْۚ-وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠(۱۲۱)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے نہ کھاؤ اور بیشک یہ نافرمانی ہے اور بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں تا کہ وہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم ان کا کہنا مانوگے تو اس وقت تم بھی یقینا مشرک ہوگے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{ وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ:اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے نہ کھاؤ۔} جس جانور پر ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا اس کا کھانا حلال ہے، یہ بیان فرمانے کے بعد اب اس جانور کو کھانے سے منع کیا جا رہا ہے کہ جسے ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر اس پر اللہ تعالیٰ کا نام ذکر نہیں کیا گیا۔ لہٰذا حکم یہ ہے کہ جس جانور پر مسلمان یا کتابی نے جان بوجھ کراللہ تعالیٰ کا نام ذکر نہ کیا وہ حرام ہے اور اگر بھول کر نام لینا رہ گیا تو حلال ہے اور مسلمان و کتابی کے علاوہ کسی دوسرے کا ذبح کیا ہوا مُطْلَقاً حرام ہے۔ یاد رہے کہ یہاں کتابی سے مراد وہ اہلِ کتاب ہیں جو اپنے نبی اور کتاب پر ایمان رکھتے ہیں۔ محض نام کے عیسائی اور حقیقت میں دَہریہ مراد نہیں ہیں۔

{ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓـٕهِمْ:اور بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں۔} اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ شیطان اپنے دوستوں یعنی مشرکوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں تاکہ وہ مردار کھانے کے معاملے میں تم سے جھگڑا کریں جیسا کہ اوپر کافروں کا ایک اعتراض نقل کیا گیا ہے۔ مزید فرمایا گیا کہ اے مسلمانو! اگر تم نے اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ کو حلال کہنے میں ان کافروں کی بات مانی تو اس وقت تم بھی یقینا مشرک ہوگے کیونکہ دین میں حکمِ الٰہی کو چھوڑنا اور دوسرے کے حکم کو ماننا اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور کو حاکم قرار دینا شرک ہے۔

علم کے بغیر دینی مسائل میں جھگڑنا شیطانی لوگوں کا کام ہے:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ’’ بغیر علم دینی مسائل میں جھگڑنا یا محض جھگڑے کی نیت سے مناظرہ کرنا شیطانی لوگوں کا کام ہے لیکن تحقیقِ حق کے لئے مناظرہ کرنا عبادت ہے۔

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links