DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Hud Ayat 88 Translation Tafseer

رکوعاتہا 10
سورۃ ﷷ
اٰیاتہا 123

Tarteeb e Nuzool:(52) Tarteeb e Tilawat:(11) Mushtamil e Para:(11-12) Total Aayaat:(123)
Total Ruku:(10) Total Words:(2140) Total Letters:(7712)
88

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًاؕ-وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُؕ-اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُؕ-وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِؕ-عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ(۸۸)
ترجمہ: کنزالعرفان
شعیب نے فرمایا: اے میری قوم! بھلا بتاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں او راس نے مجھے اپنے پاس سے اچھی روزی دی ہو(تو میں کیوں نہ تمہیں سمجھاؤں ) اور میں نہیں چاہتا کہ جس بات سے میں تمہیں منع کرتا ہوں خود اس کے خلاف کرنے لگوں ، میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں جتنی مجھ سے ہوسکے اور میری توفیق اللہ ہی کی مدد سے ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{قَالَ یٰقَوْمِ:فرمایا: اے میری قوم!} حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو ان کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اے میری قوم! مجھے بتاؤ کہ اگر میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی طرف سے روشن دلیل یعنی علم ،ہدایت،دین اور نبوت سے سرفراز کیا گیا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے پاس سے بہت زیادہ حلال مال عطا فرمایا ہوا ہو تو پھر کیا میرے لئے یہ جائز ہے کہ میں ا س کی وحی میں خیانت کروں اور اس کا پیغام تم لوگوں تک نہ پہنچاؤں۔ یہ میرے لئے کس طرح روا ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اتنی کثیر نعمتیں عطا فرمائے اور میں اس کے حکم کی خلاف ورزی کروں۔ (تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۸۸، ۶ / ۳۸۷-۳۸۸)

{وَ مَاۤ اُرِیْدُ:اور میں نہیں چاہتا ہوں۔} امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ قوم نے حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حلیم و رشید ہونے کا اعتراف کیا تھا اور ان کا یہ کلام طنز اور مذاق اڑانے کے طور پرنہ تھا بلکہ اس کلام سے مقصود یہ تھا آپ حلم اور کمالِ عقل کے باوجود ہم کو اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنے سے کیوں منع فرماتے ہیں ؟اس کا جواب جو حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تم میرے کمالِ عقل کا اعتراف کر رہے ہو تو تمہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ میں نے اپنے لئے جو بات پسند کی ہے وہ وہی ہوگی جو سب سے بہتر ہو اور وہ خدا تعالیٰ کی توحید اور ناپ تول میں خیانت نہ کرنا ہے اورمیں چونکہ اس کا پابندی سے عامل ہوں تو تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہی طریقہ بہتر ہے۔(تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۸۸، ۶ / ۳۸۸)

{اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ:میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں۔} یعنی میرا تمہیں نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے سے مقصود یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے تمہاری اصلاح ہو جائے اور جب میں نے دیکھا کہ تم نے اپنے اعمال درست کر لئے ہیں تو میں تمہیں منع کرنا بھی چھوڑ دوں گا۔ ان تینوں جوابات میں اس بات کی تنبیہ کی گئی ہے کہ ہر عقلمند انسا ن کو چاہئے کہ وہ جو کام کر رہا ہے اور جس کام کو چھوڑ رہا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کے حقوق، اپنی جان کے حقوق اور لوگوں کے حقوق کی رعایت کرے۔( بیضاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ / ۲۵۴)

{وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ:اور میری توفیق اللہ ہی کی مدد سے ہے۔} یعنی میں نے اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا کیونکہ مجھے اسی پر اعتماد اور تمام کاموں میں اسی پربھروسہ ہے ، تمام نیک اعمال اور توبہ کرنے میں ،میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ (تفسیر طبری، ہود، تحت الآیۃ: ۸۸، ۷ / ۱۰۲) حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس کلام شریف میں اس جانب اشارہ ہے کہ کوئی شخص رب تعالیٰ کی دستگیری کے بغیر محض اپنی عقل سے ہدایت نہیں پاسکتا۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links