DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Hud Ayat 11 Translation Tafseer

رکوعاتہا 10
سورۃ ﷷ
اٰیاتہا 123

Tarteeb e Nuzool:(52) Tarteeb e Tilawat:(11) Mushtamil e Para:(11-12) Total Aayaat:(123)
Total Ruku:(10) Total Words:(2140) Total Letters:(7712)
11

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱)
ترجمہ: کنزالعرفان
مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ:مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے۔} اس آیت کا معنی یہ ہے ’’لیکن وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کئے تو وہ ان کی طرح نہیں ہیں کیونکہ انہیں جب کوئی مصیبت پہنچی تو انہوں نے صبر سے کام لیا اور کوئی نعمت ملی تو اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا، جو ایسے اَوصاف کے حامل ہیں ان کے لئے گناہوں سے بخشش اور بڑا ثواب یعنی جنت ہے۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۱، ۲ / ۳۴۲)

مومن کی شان:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ نعمت چھن جانے پر صبر کرنا اور راحت ملنے پر شکر کرنا اور بہر صورت اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں مصروف رہنا مومن کی شان ہے، لیکن افسوس! یہاں جو طرزِ عمل کفار کا بیان کیا گیا ہے وہ آج مسلمانوں میں بھی نظر آ رہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان سے اپنی دی ہوئی نعمت واپس لے لیتا ہے تو یہ اس قدر اَفْسُردہ اور مایوس ہو جاتے ہیں کہ ان کی زبانیں کفر تک بکنا شروع کر دیتی ہیں اور جب ان میں سے کسی پر آئی ہوئی مصیبت اللہ تعالیٰ دور کر دیتا ہے تو وہ لوگوں پر فخرو غرور کا اِظہار شروع کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقلِ سلیم اور ہدایت عطا فرمائے،اٰمین۔

مصیبت پر صبر کرنے اور رضائے الٰہی پر راضی رہنے کے 6فضائل:

            موضوع کی مناسبت سے یہاں ہم مصیبت پر صبر و شکر کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے کے فضائل اور نعمت ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنے کی برکات ذکر کرتے ہیں تاکہ ان سے مسلمانوں کو صبر و شکر کرنے کی ترغیب ملے اور وہ کفار کے طرزِ عمل سے بچنے کی کوشش کریں۔

(1)… حضرت ابو سعید خُدری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ’’ جو صبر کرنا چا ہے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے صبر کی توفیق عطا فرما دے گا اور صبر سے بہتر اور وسعت والی عطا کسی پر نہیں کی گئی۔( مسلم، کتاب الزکاۃ، باب فضل التعفف والصبر، ص۵۲۴، الحدیث: ۱۲۴(۱۰۵۳))

(2)…حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ۔ نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ ’’صبر نصف ایمان ہے اور یقین پورا ایمان ہے۔ (معجم الکبیر، خطبۃ ابن مسعود ومن کلامہ، ۹ / ۱۰۴، الحدیث: ۸۵۴۴)

(3)… حضرت صہیب رومی  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ مومن کے معاملے پر تعجب ہے کہ اس کا سارا معا ملہ بھلائی پرمشتمل ہے اور یہ صرف اُسی مومن کے لئے ہے جسے خو شحالی حاصل ہوتی ہے تو شکر کرتا ہے کیونکہ اس کے حق میں یہی بہتر ہے اور اگر تنگدستی پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے ۔(مسلم، کتاب الزہد والرقائق، باب المؤمن امرہ کلّہ خیر، ص۱۵۹۸، الحدیث: ۶۴(۲۹۹۹))

(4)…حضرت عبد اللہ بن عبا س  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ’’ جس کے مال یا جان میں مصیبت آئی پھر اس نے اسے پوشیدہ رکھا اور لوگوں پر ظاہر نہ کیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ پر حق ہے کہ اس کی مغفرت فرمادے۔ (معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ احمد، ۱ / ۲۱۴، الحدیث: ۷۳۷)

(5)…حضرت ابو سعید خدری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرور ِدو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا، ’’مسلمان کو پہنچنے والا کوئی دکھ،تکلیف،غم،ملال، اَذِیَّت اور درد ایسا نہیں ،خواہ اس کے پیر میں کانٹا ہی چبھے مگر اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔(بخاری، کتاب المرضی، باب ما جاء فی کفارۃ المرض، ۴ / ۳، الحدیث: ۵۶۴۱-۵۶۴۲)

(6)…حضرت جابر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا’’ قیامت کے دن جب مصیبت زدہ لوگوں کو ثواب دیا جائے گا تودنیا میں عافیت کے ساتھ رہنے والے تمنا کریں گے کہ’’ کاش! ان کے جسموں کوقینچیوں سے کاٹ دیا جاتا۔ (ترمذی، کتاب الزہد، ۵۹-باب، ۴ / ۱۸۰، الحدیث: ۲۴۱۰)

            اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر کرنے کی توفیق اور عافیت عطا فرمائے اور اگر کوئی مصیبت آ جائے تو اس پر صبر کرنے کی توفیق نصیب فرمائے،اٰمین۔

نعمت ملنے پر شکر کرنے کی برکات:

            نعمت ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی بہت برکتیں ہیں ، ان میں سے دو برکتیں درج ذیل ہیں :

(1)… نعمت ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی صورت میں بندہ عذاب سے محفوظ رہتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

’’مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا‘‘(النساء:۱۴۷)

ترجمۂکنزُالعِرفان:اور اگر تم شکر گزار بن جاؤ اور ایمان لاؤ تو اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اور اللہ قدر کرنے والا، جاننے والاہے۔

(2)…نعمت کا شکر ادا کرنے پر اللہ تعالیٰ نعمتوں میں مزید اضافہ فرما دیتا ہے ،چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

’’وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ‘‘(ابراہیم:۷)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان فرمادیا کہ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گااور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔

            اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین۔

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links