DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Hud Ayat 8 Translation Tafseer

رکوعاتہا 10
سورۃ ﷷ
اٰیاتہا 123

Tarteeb e Nuzool:(52) Tarteeb e Tilawat:(11) Mushtamil e Para:(11-12) Total Aayaat:(123)
Total Ruku:(10) Total Words:(2140) Total Letters:(7712)
8

وَ لَىٕنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗؕ-اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠(۸)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور اگر ہم ان سے کچھ گنتی کی مدت تک کے لئے عذاب میں دیر کردیں تو ضرور کہیں گے : کس چیز نے روکا ہوا ہے؟ خبردار! جس دن وہ عذاب ان پر آئے گا تو ان سے پھیرا نہیں جائے گا اور جس (عذاب) کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہی ان کو گھیرے ہوئے ہوگا۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ لَىٕنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ:اور اگر ہم ان سے کچھ گنتی کی مدت تک کے لئے عذاب میں دیر کر دیں۔} اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا کہ یہ قرآن کو کھلا جادو کہہ کر میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو جھٹلاتے ہیں اور ا س آیت میں ان کفار کی ایک اور باطل گفتگو ذکر فرمائی، وہ یہ کہ نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے کفار کو جس عذاب کا وعدہ دیا تھا وہ جب ان سے مُؤخَّر ہوا تو کفار تکذیب اور اِستہزاء کے طور پر کہنے لگے کہ کس وجہ سے ہم سے عذاب روک دیاگیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں جواب دیا کہ جب وہ وقت آجائے گا کہ جسے اللہ تعالیٰ نے عذاب کے لئے متعین فرمایا ہے تو ہم وہ عذاب ان پر ناز ل کر دیں گے جس کا یہ مذاق اڑا رہے ہیں اور وہ عذاب ان سے پھیرا نہ جائے گا بلکہ ان سب کوگھیر لے گا۔ (تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۸، ۶ / ۳۲۱)

 اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بے خوفی ہلاکت کا سبب ہے:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بے خوف ہونا ہلاکت کا سبب ہے، اس لئے ہر عقلمند انسان پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے سے ڈرتا رہے اور اس کے عذاب سے کبھی بے خوف نہ ہو۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’میری عزت کی قسم! میں اپنے کسی بندے پر نہ دو خوف جمع کرو ں گا اور نہ دو اَمن جمع کروں گا، اگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرے گا تو میں قیامت کے دن اسے امن دوں گا اور اگر وہ دنیا میں مجھ سے امن میں رہے گا تو میں قیامت کے دن اسے خوف میں مبتلا کروں گا۔ (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الافعال، الباب الاول فی الاخلاق المحمودۃ، الفصل الثانی، الخوف والرجائ، ۲ / ۲۸۳، الحدیث: ۸۵۲۵، الجزء الثالث)

            ہمارے اَسلاف اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے انتہائی دور اور اس کی اطاعت و فرمانبرادری میں بے حد مصروف رہنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بہت ڈرا کرتے تھے ،چنانچہ ایک مرتبہ حضرت فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا کہ ’’مجھے مقربین پر اس لئے رشک نہیں آتا کہ یہ سب قیامت اور اس کی ہَولناکیوں کا مُشاہدہ کریں گے البتہ مجھے صرف اس پر رشک آتا ہے جو پیدا ہی نہیں ہوا کیونکہ وہ قیامت کے اَحوال اور ا س کی سختیاں نہیں دیکھے گا، اور حضرت سری سقطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا ’’ میری خواہش ہے کہ میں بغداد کے علاوہ کسی اور جگہ انتقال کروں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اگر میری قبر نے مجھے قبول نہ کیا تو کہیں میں لوگوں کے سامنے رسوا نہ ہو جاؤں۔ (روح البیان، ہود، تحت الآیۃ: ۸، ۴ / ۱۰۱)اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عذاب سے بے خوف ہونے سے بچائے اور ہمارے دلوں میں اس کا ڈر پیدا فرمائے ،اٰمین۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links