DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Hud Ayat 7 Translation Tafseer

رکوعاتہا 10
سورۃ ﷷ
اٰیاتہا 123

Tarteeb e Nuzool:(52) Tarteeb e Tilawat:(11) Mushtamil e Para:(11-12) Total Aayaat:(123)
Total Ruku:(10) Total Words:(2140) Total Letters:(7712)
7

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ-وَ لَىٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ(۷)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور اس کا عرش پانی پر تھا (تمہیں پیدا کیا ) تا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے اور اگر تم کہو: (اے لوگو!) تمہیں مرنے کے بعد اٹھایا جائے گا تو کافر ضرور کہیں گے کہ یہ (قرآن) تو کھلا جادو ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ:اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا۔} آسمان بھی سات ہیں اور زمین بھی سات، لیکن آسمانو ں کی حقیقتیں مختلف ہیں ، جیسے کوئی لوہے کا،کوئی تانبے کا، کوئی چاندی کا اور کوئی سونے کا ہے اور تمام زمینوں کی حقیقت صرف مٹی ہے، نیز آسمانوں میں فاصلہ ہے اور زمین کے طبقات میں فاصلہ نہیں ، یہ ایک دوسرے سے ایسی چمٹی ہیں جیسے پیاز کے چھلکے کہ دیکھنے میں ایک معلوم ہوتی ہے، اس لئے آسمان جمع فرمایا جاتا ہے اور زمین واحد بولی جاتی ہے۔ خیال رہے کہ آسمانوں کی پیدائش دو دن میں ، زمین کی پیدائش دو دن میں اور حیوانات، درخت وغیرہ کی پیدائش دو دن میں ہوئی اور دن سے مراد اتنا وقت ہے، ورنہ اس وقت دن نہ تھا کیونکہ دن تو سورج سے ہوتا ہے اور اس وقت سورج نہ تھا۔(روح البیان، ہود، تحت الآیۃ: ۷، ۴ / ۹۷-۹۸، ملخصاً) قرآنِ پاک کی متعدد آیات میں آسمان و زمین کو چھ دن میں بنانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ مفسرین نے یہ بھی فرمایا ہے کہ چھ دنوں سے مراد چھ اَدوار ہیں۔

{ وَ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ:اور اس کا عرش پانی پر تھا۔} یعنی عرش کے نیچے پانی کے سوا اور کوئی مخلوق نہ تھی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عرش اور پانی آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش سے پہلے پیدا فرمائے گئے۔ (مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۷، ص۴۹۰)

عرش پانی کے اوپر ہونے کے معنی:

            علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ عرش کے پانی کے اوپر ہونے کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’یعنی عرش اور پانی کے درمیان کوئی چیز حائل نہ تھی بلکہ عرش اسی مقام میں تھا جہاں اب ہے یعنی ساتویں آسمان کے اوپر اور پانی اسی جگہ تھا جہاں اب ہے یعنی ساتویں زمین کے نیچے (اگرچہ اس وقت سات آسمان اور سات زمینیں نہ تھیں ) (صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۷، ۳ / ۹۰۱)

قدرت ِالٰہی کے دلائل:

            اما م فخر الدین رازی  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ یہ آیت کئی اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظمت اور کمال پر دلالت کرتی ہے۔

(1)… عرش کے زمین و آسمان سے بڑا ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ا سے پانی پر قائم فرمایا لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ کسی ستون کے بغیر وزنی چیز کو رکھنے پر قادر نہ ہوتا تو عرش پانی پر نہ ہوتا۔

(2)…پانی کو بھی بغیر کسی سہارے کے قائم کیا۔

(3)…عرش جو کہ تمام مخلوقات سے بڑا ہے اسے اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان کے اوپر قائم کیا ہوا ہے، اس کے نیچے کوئی ستون ہے نہ اوپر کوئی اور علاقہ۔ (تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۷، ۶ / ۳۱۹-۳۲۰)

{لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا:تا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے ۔} یعنی آسمان و زمین اور ان میں تمہارے جو مَنافع اور مَصالح ہیں ، انہیں پیدا کرنے میں حکمت یہ ہے کہ ان نعمتوں کی وجہ سے نیک وبد میں اِمتیاز ہو جائے اور یہ ظاہر ہو جائے کہ کو ن (ان نعمتوں کے باوجود) فرمانبردار ہے تاکہ آخرت میں اسے اس کی اطاعت گزاری کا ثواب دیا جائے اور کون (ان نعمتوں کی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے غافل ہوتا ہے اور) گناہگار بنتا ہے تاکہ آخرت میں اسے اس کے گناہوں کی سزا دی جائے۔(جلالین مع صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۷، ۳ / ۹۰۱)

نعمتیں پیدا کئے جانے میں بھی ہماری آزمائش مقصود ہے:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے جو نعمتیں پیدا فرمائی ہیں اِن کے ذریعے بھی اُنہیں آزمایا اور اُن کا امتحان لیا جا رہاہے کہ وہ ان نعمتوں کے ملنے پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری اور اس کی شکر گزاری کرتے ہیں یا غفلت کا شکار ہو کر اس کی نافرمانی و ناشکری میں مبتلا ہو جاتے ہیں ، اب ہر عقلمند انسان اپنی حالت پر خود ہی غور کر لے کہ وہ اس آزمائش و امتحان میں کس حد تک کامیاب ہوا ہے۔ حضرت حاتم اَصَم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’جب تم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرو اور صبح اس حال میں کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اپنے اوپر فراوانی کے ساتھ دیکھو تو اس سے بچو کیونکہ یہ آہستہ آہستہ عذاب کی طرف جانا ہے۔(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل من اخلاق السلف الصالح، ومن اخلاقہم رضی اللہ عنہم کثرۃ خوفہم من اللہ تعالی فی حال بدایتہم۔۔۔ الخ، ص۴۹)

{ وَلَئِنۡ قُلْتَ:اور اگر تم کہو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر آپ اپنی قوم کے کفار سے فرمائیں کہ اے لوگو! تمہیں مرنے کے بعد حساب اور جزاء کیلئے اٹھایا جائے گا تو کافر ضرور کہیں گے کہ یہ  قرآن شریف جس میں مرنے کے بعد اُٹھائے جانے کا بیان ہے یہتو کھلا جادو یعنی باطل اور دھوکا  ہے۔ (مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۷، ص۴۹۰، خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۷، ۲ / ۳۴۲، ملتقطاً)

 

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links