DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Hud Ayat 29 Translation Tafseer

رکوعاتہا 10
سورۃ ﷷ
اٰیاتہا 123

Tarteeb e Nuzool:(52) Tarteeb e Tilawat:(11) Mushtamil e Para:(11-12) Total Aayaat:(123)
Total Ruku:(10) Total Words:(2140) Total Letters:(7712)
29

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًاؕ-اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاؕ-اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ(۲۹)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور اے قوم! میں تم سے اس پر کوئی مال نہیں مانگتا، میرا اجر تو اللہ ہی پر ہے اور میں مسلمانوں کو دور نہیں کروں گا بیشک یہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں لیکن میں تم لوگوں کو بالکل جاہل قوم سمجھتا ہوں ۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{ وَ یٰقَوْمِ:اور اے قوم!} امام فخر الدین رزای  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’’گویا کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا ’’تم میرے ظاہری حالات کی طرف دیکھتے ہو کہ میں مال و دولت نہیں رکھتا جس کی وجہ سے تمہارا یہ گمان ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کا یہ کام اس لئے شروع کیا ہے تاکہ اس پرتم سے مال و دولت حاصل کروں۔ تمہارا یہ گمان غلط ہے ،میں رسالت کی تبلیغ پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا ،میرا اجر تو اللہ ربُّ العالَمین عَزَّوَجَلَّ کے ذمۂ کرم پر ہے، لہٰذا تم اس فاسد گمان کی وجہ سے اپنے آپ کو اُخروی سعادتوں کے حصول سے محروم نہ کرو۔(تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۲۹، ۶ / ۳۳۹)

{وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:اور میں مسلمانوں کو دور نہیں کروں گا۔} حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگ آپ سے کہتے تھے  کہ اے نوح! گھٹیا لوگوں کو اپنی مجلس سے نکال دیجئے تاکہ ہمیں آپ کی مجلس میں بیٹھنے سے شرم نہ آئے۔ اُن کی اس بات کے جواب میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا کہ میں تمہاری وجہ سے مسلمانوں کو اپنے آپ سے دور نہیں کروں گا، کیونکہ ان کی شان تو یہ ہے کہ یہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّسے ملنے والے ہیں اور اس کے قرب سے سرفراز ہوں گے تو میں اُنہیں کیسے نکال دوں ، ہاں اس کے برعکس  میں تم لوگوں کو بالکل جاہل سمجھتا ہوں کیونکہ تم ایمانداروں کو گھٹیا کہتے ہو اور اُن کی قدر نہیں کرتے اور نہیں جانتے کہ وہ تم سے بہتر ہیں۔

مالداروں کو قریب کرنا اور غریبوں کو دور کرنا درست نہیں :

            اس سے پیر صاحبان، علماء و خطباء کو بھی درس حاصل کرنا چاہیے کہ مالداروں کو اپنے قرب میں جگہ دینا، ان کی فرمائش پر فوراً ان کے گھر حاضر ہوجانا جبکہ غریبوں کو خود سے کچھ فاصلے پر رکھنا اور ان کی بار بار کی فریادوں کے باوجود بھی ان پر شفقت نہ کرنا درست نہیں اور نہ ہی ان حضرات کے شایانِ شان ہے۔ نیز مالداروں کیلئے بھی اس آیت میں عبرت ہے کہ دیندار غریبوں کو حقیر سمجھنا کفار کا طریقہ ہے جیسے غریب علماءِ کرام، طُلباءِ دین، مُبلِّغین وغیرہ کو مالدار، سیٹھ صاحبان دو کوڑی کی عزت دینے کو تیار نہیں ہوتے ، چندہ بھی دینا ہو تو دس چکر لگوا کر دیں گے اور ماتھے پر تیوری چڑھا کر دیں گے اور دینے کے بعد انہیں اپنا نوکر سمجھیں گے۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links