کہانی سے حقیقت تک
سوچ بدلے تو زندگی بدلے
*حاجی محمد امین عطاری
ماہنامہ فیضانِ مدینہ جون 2026ء
ایک 55 سالہ شخص ڈِپریشن کا شکار تھا۔اُس کا جوان بیٹا اپنے والد کو لے کر ایک ڈاکٹر کے کلینک میں آیا۔ڈاکٹر صاحب اس وقت کسی اور مریض کا چیک اپ کر رہے تھے۔پہلا مریض گیا تو نوجوان نے آہستگی سے کہا:”ڈاکٹر صاحب! میرے والد صاحب آج کل بہت پریشان اور فکرمند رہنے لگے ہیں۔ آپ ان کا کچھ علاج کریں۔“ڈاکٹر صاحب نے مسکرا کر کہا: آپ تھوڑی دیر کے لیے باہر بیٹھ جائیں، میں اِن سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔بیٹا باہر چلا گیا۔ڈاکٹر صاحب نےبزرگ سے پوچھا: آپ کیسے ہیں؟اورآپ کو کیا پریشانی ہے؟ اُس بزرگ نے ایک گہری سانس لی اور بولے: ڈاکٹر صاحب! میں بہت تھک چکا ہوں۔زندگی کے بوجھ نے مجھے توڑ کر رکھ دیا ہے۔ نوکری کا دباؤ، بچوں کی تعلیم، مکان کا کرایہ، گھر کے اخراجات، بیٹیوں کی شادی... سب کچھ سر پر ہے۔ میرے بچے اور دوست مجھے نفسیاتی مریض سمجھنے لگے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں یہ سب سوچ کر بہت پریشان رہتا ہوں کہ زندگی کے یہ مسائل کب اور کیسے حل ہوں گے۔ ”ڈاکٹرصاحب خاموشی سے سنتے رہے پھر مسکرا کر بولے:آپ بالکل ٹھیک ہیں، اللہ کا شکر ہے آپ کو کوئی بڑی بیماری نہیں ہے۔
اچھا یہ بتائیے،آپ نے میٹرک کہاں سے کی تھی؟ وہ بزرگ حیران ہوکر بولے: میٹرک؟ جی وہ فلاں گورنمنٹ اسکول سے۔ڈاکٹر صاحب بولے:تو پھر ایک کام کریں۔ اپنے اسکول کے دوستوں کے نام یاد کریں، اُن سے ملاقات کریں، اُن کے حالات جانیں اور جو کچھ دیکھیں، وہ ایک ڈائری میں لکھیں۔ اور ایک مہینے بعد مجھے دوبارہ چیک اپ کروائیےگا۔
اس بزرگ نےکلینک سے باہر نکلتے ہوئے اپنے بیٹے سے کہا: عجیب ڈاکٹر ہے یار! میں اپنی بیماری بتا رہا ہوں اور یہ دوستوں سے ملاقات کا کہہ رہا ہے۔ خیر، دیکھتے ہیں۔اگلے دن انہوں نے بیٹے کے ساتھ اپنے پرانے دوستوں سے ملاقات کی۔۔۔ کچھ ہنستے مسکراتے ملے،کچھ بیمار تھے، کچھ معذور،کچھ دنیا سے رخصت ہو چکے تھے اور کچھ دوستوں کی غربت، تنہائی اور دکھ دیکھے۔یہ سب دیکھتے گئے، اور ایک ایک احساس کو ڈائری میں نوٹ کرتے گئے۔ ایک مہینے بعد وہ پھر ڈاکٹر کے پاس آئے۔ ڈاکٹر صاحب نے مسکرا کر پوچھا:اب کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ اُس بزرگ کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔ڈائری آگے بڑھاتے ہوئے بولے: ڈاکٹر صاحب، جیسا آپ نے کہا تھا، میں نے سب لکھا ہے۔ میرے کچھ دوست دنیا میں نہیں رہے،کچھ بیمار ہیں، کچھ تنہا ہیں،کچھ معذور ہیں اور کچھ غربت میں جی رہے ہیں۔ اور میں نے سوچا...میں کتنا خوش نصیب ہوں! میرے بچے سلامت ہیں، میرا گھر آباد ہے، کوئی جھگڑا نہیں، کوئی مقدمہ نہیں،میں اپنے رب کا شکر گزار ہوں۔
کہانی سے حاصل ہونےوالے نکات
موجودہ دور میں ذہنی دباؤ اور ڈپریشن ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔ ہر شخص کسی نہ کسی فکر، پریشانی یا مقابلے کی دوڑ میں اُلجھا ہوا ہے۔ بظاہر خوشحال نظر آنے والے افراد بھی اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں انسان کو اپنی زندگی کو مثبت انداز میں دیکھنے اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو پہچاننے کی اشد ضرورت ہے۔زیرِنظر واقعہ بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ اصل خوشی مسائل کے ختم ہونے میں نہیں بلکہ سوچ کے بدلنے میں ہے۔
دنیا دکھوں سے بھری ہے، مگر ہم بہت سے دکھوں سے محفوظ ہیں۔ جب ہم دوسروں کے دکھ دیکھتے ہیں تب ہمیں اپنی زندگی میں حاصل ہونےوالی نعمتیں محسوس ہوتی ہیں۔ دوسروں کی پلیٹ میں جھانکنے کی عادت چھوڑیں، اپنی پلیٹ کا کھانا پیار اور شکر سے قبول کریں۔دوسروں سے موازنہ (Comparison) مت کریں،کیونکہ خوشی موازنہ کرنے میں نہیں بلکہ قناعت اور شکر میں ہے۔
شکر گزاری اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نہایت عظیم نعمتوں میں سے ایک ایسی نعمت ہے جو انسان کے دل کو سکون، زبان کو نرمی اور زندگی کو اطمینان بخشتی ہے۔ شکر گزاری انسان کو ناشکری، بے صبری اور مایوسی جیسے منفی جذبات سے بچاتی ہے اور اس کے دل میں امید، قناعت اور رضا پیدا کرتی ہے۔
شکر گزاری کی اہمیت کو رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک فرمان سے سمجھیے، چنانچہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے :اللہ پاک کے آخری نبی حضرت محمد مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جسے چار چیزیں مل گئیں اسے دنیاوآخرت کی بھلائی مل گئی، (1)شکر کرنے والادل(2)ذکر کرنے والی زبان(3)آزمائش پر صبر کرنے والا بدن (4)اپنے آپ اور شوہر کے مال میں خیانت نہ کرنے والی بیوی۔(معجم اوسط،5/244،حدیث:7212)
ساری دنیا مِل گئی
اسی طرح اپنے بدن اور اہل و عیال کا عافیت میں ہونا بھی بہت بڑی نعمت ہے چنانچہ حضرت عبید الله بن مِحْصَن انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےارشاد فرمایا:جو شخص صبح اس حال میں کرے کہ وہ اپنے اور اہل و عیال کے بارے میں بے خوف ہو، جسمانی طور پر عافیت میں ہو، ایک دن کا کھانا بھی اُس کے پاس ہو تو گویا اس کے لیے دنیا پوری کی پوری جمع کردی گئی۔(ابن ماجہ،4/443،حدیث:4141)
صحت کی اہمیت
جسمانی صحت اس وقت آدمی کو نظر آتی ہے جب وہ بیمار ہوتا ہے، جیسا کہ مشہور مقولہ ہے:صحت و تندرستی صحت مند لوگوں کے سر کا تاج ہے، مگر اسے صرف بیمار لوگ ہی دیکھ سکتے ہیں۔
زندگی میں خوشی کا دارومدار حالات پر نہیں بلکہ ہمارے رویّے پر ہوتا ہے۔ اگر ہم ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد رکھیں تو دل مطمئن رہتا ہے، اور اگر ہم صرف محرومیوں پر نظر رکھیں تو بے چینی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم روزانہ کچھ وقت نکال کر اپنی زندگی کی نعمتوں پر غور کریں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* رکن مرکزی مجلس شوریٰ دعوتِ اسلامی
Comments