DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Az Zumar Ayat 6 Translation Tafseer

رکوعاتہا 8
سورۃ ﳨ
اٰیاتہا 75

Tarteeb e Nuzool:(59) Tarteeb e Tilawat:(39) Mushtamil e Para:(23-24) Total Aayaat:(75)
Total Ruku:(8) Total Words:(1274) Total Letters:(4795)
6

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍؕ-یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍؕ-ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُؕ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ(۶)
ترجمہ: کنزالعرفان
اس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور تمہارے لیے چوپایوں میں سے آٹھ جوڑے بنائے، تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تین اندھیروں میں پیدا کرتا ہے، ایک حالت کی تخلیق کے بعد دوسری حالت کی تخلیق ہوتی ہے۔ یہ اللہ تمہارا رب ہے ،اسی کی بادشاہی ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ تو تم کہاں پھیرے جاتے ہو؟


تفسیر: ‎صراط الجنان

{خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ: اس نے تمہیں  ایک جان سے پیدا کیا۔} اس سے پہلی آیت میں  اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت اور قدرت پر آفاقی نشانیوں  سے دلائل بیان کئے گئے اور اس آیت میں  زمینی نشانیوں  سے وحدانیّت اور قدرت پر دلائل دئیے جا رہے ہیں :

          پہلی دلیل یہ ارشاد فرمائی کہ اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہیں  ایک جان حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پیدا فرمایا ،پھر انہی سے حضرت حوا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کو پیدا فرمایا ۔

             دوسری دلیل یہ ارشاد فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اونٹ،گائے،بکری اوربھیڑ سے آٹھ جوڑے پیدا کئے، جوڑوں  سے مراد نر اور مادہ ہیں ۔

          تیسری دلیل یہ ارشاد فرمائی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں  تمہاری ماؤں کے پیٹ میں  تین اندھیروں  میں  پیدا کرتا ہے، ایک حالت کی تخلیق کے بعد دوسری حالت کی تخلیق ہوتی ہے۔ تین اندھیروں  سے مرادپیٹ، بچہ دانی اور ا س کی جھلی کا اندھیرا ہے اور ایک حالت کے بعد دوسری حالت کی تخلیق سے مراد یہ ہے کہ پہلے نطفہ،پھر جمے ہوئے خون،پھر گوشت کے ٹکڑے اور پھر مکمل بچے کی تخلیق ہو تی ہے۔آیت کے آخر میں  ارشاد فرمایا کہ جس نے اپنی کامل قدرت سے ان چیزوں  کو پیدا فرمایا صرف وہی اللہ تعالیٰ تمہارا رب ہے ،اسی کی بادشاہی ہے نہ کہ کسی اور کی، اس کے سوا نہ کوئی خالق ہے اور نہ ہی کوئی عبادت کے لائق ہے ،تو تم کہاں  پھیرے جاتے ہو اور اس بیان کے بعدحق راستے سے دور ہوتے ہو کہ اس کی عبادت چھوڑ کر غیر کی عبادت کرتے ہو۔( مدارک، الزمر، تحت الآیۃ: ۶، ص۱۰۳۱، خازن، الزمر، تحت الآیۃ: ۶، ۴ / ۴۹، ملتقطاً)

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links