بیٹیوں کو توکل علی اللہ کی تربیت دیں
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں آزمائش کے لیے بھیجا ہے اور ہر حال میں اپنی ذات پر بھروسا کرنے کی تعلیم دی ہے۔ قرآنِ کریم میں بار بار اہلِ ایمان کو توکل کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ(۱۲۲)
ترجَمۂ کنز الایمان: اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے۔ ([1])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
ایک اور مقام پر فرمایا:
وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗؕ-
ترجَمۂ کنز الایمان: اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔([2])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
والدین خصوصاً ماؤں کی یہ اہم ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی ایسی تربیت کریں کہ ان کے دل میں اللہ پاک پر کامل اعتماد، اس کی رحمت پر یقین اور ہر حال میں اسی پر بھروسا کرنے کا جذبہ پیدا ہو، کیونکہ یہی ایمان کی مضبوطی اور زندگی کے سکون کا اصل راز ہے۔
آج کے دور میں والدین اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ دنیاوی تعلیم، جدید ہنر، اچھی ملازمت اور روشن مستقبل دینے کے لیے تو بہت فکر مند نظر آتے ہیں، لیکن یہ فکر نسبتاً کم دکھائی دیتی ہے کہ ہماری بیٹی اللہ تعالیٰ پر کتنا اعتماد رکھتی ہے؟ وہ مشکلات کے وقت کس کی جانب توجہ کرتی ہے؟ اس کا دل اسباب پر زیادہ بھروسا کرتا ہے یا اسباب پیدا کرنے والے رب پر؟ اگر صحیح تربیت کی وجہ سے بیٹی کے دل میں توکل پیدا ہوجائے تو وہ کامیابی پر غرور نہیں کرے گی اور ناکامی پر مایوس بھی نہیں ہوگی بلکہ ہر حال میں اپنے رب کے فیصلے پر راضی رہنے کی کوشش کرتی رہے گی۔
بیٹیوں میں توکل کی تربیت کا آغاز بچپن ہی سے ہونا چاہیے۔ سب سے پہلے والدین خود اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرنے والے ہوں، کیونکہ بچے نصیحت سے زیادہ والدین کے کردار سے سیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں کسی بیماری، مالی پریشانی یا کسی اور آزمائش کے وقت والدین بے صبری اور شکوہ کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں، صبر اختیار کریں اور بچوں کے سامنے یہ کہیں کہ ”اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر فیصلہ فرمائے گا“ تو اس طرح کے الفاظ اور رویہ بیٹیوں کے دل میں اللہ پاک پر اعتماد پیدا کرے گا۔
بیٹیوں کو یہ بھی سمجھایا جائے کہ توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں بلکہ جائز اسباب اختیار کرنے کے بعد نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دینا ہے۔ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اگر تم اللہ پر ایسا بھروسا کرو جیسا اس پر بھروسا کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں اسی طرح رزق عطا فرمائے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔([3]) غور کیجیے کہ پرندے اپنے گھونسلوں میں بیٹھے نہیں رہتے بلکہ کوشش کرتے ہیں اور اپنے رب پر اعتماد بھی رکھتے ہیں۔ یہی حقیقی توکل ہے جس کی تعلیم بیٹیوں کو دی جانی چاہیے۔
بیٹیوں کے دل میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کا یقین پیدا کرنے کے لیے قرآنِ کریم کے ایمان افروز واقعات سنائے جائیں۔ انہیں بتایا جائے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں ڈالا گیا تو انہوں نے اپنے رب پر بھروسا رکھا، اللہ تعالیٰ نے آگ کو ان کے لیے ٹھنڈا اور سلامتی والا بنا دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب دریا کے کنارے پہنچے اور پیچھے فرعون کا لشکر تھا تو آپ نے فرمایا:
قَالَ كَلَّاۚ-اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ(۶۲)
ترجَمۂ کنز الایمان: بےشک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے اب راہ دیتا ہے۔([4])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اللہ تعالیٰ نے دریا میں راستہ بنا دیا۔ اسی طرح حضرت مریم رضی اللہ عنہا کی کفالت اور رزق کے واقعات بیٹیوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
بیٹیوں کو دعا کی عادت ڈالنا بھی توکل کی بہترین تربیت ہے، کیونکہ دعا بندے کی طرف سے اللہ پاک پر اعتماد کا عملی اظہار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-
ترجَمۂ کنز الایمان: مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔([5])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
بچیوں کو سکھایا جائے کہ ہر کام سے پہلے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں، امتحان سے پہلے، سفر سے پہلے، بیماری کے وقت اور ہر ضرورت میں سب سے پہلے اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔ جب ان کی زندگی کا ہر مرحلہ دعا سے وابستہ ہوگا تو ان کا توکل بھی مضبوط ہوتا جائے گا۔
بیٹیوں کو یہ بھی سکھایا جائے کہ مشکلات زندگی کا حصہ ہیں اور مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: حقوقِ الٰہی کی حفاظت کرو، اللہ تمہاری حفاظت فرمائے گا، جب مانگو تو اللہ ہی سے مانگو اور جب مدد چاہو تو اللہ ہی سے مدد چاہو۔([6]) یہ حدیث بچوں اور نوجوانوں کی تربیت کا بہترین اصول ہے، کیونکہ اس سے دل صرف اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتا ہے۔
بیٹیوں میں توکل پیدا کرنے کے لیے دینی مطالعہ بھی بہت ضروری ہے۔ انہیں قرآنِ کریم کا ترجمہ و تفسیر، انبیائے کرام علیہم السّلام کے واقعات، سیرتِ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور بزرگانِ دین کے حالات پر مشتمل کتابیں پڑھنے کی ترغیب دی جائے۔ بالخصوص مکتبۃ المدینہ کی ایسی کتابیں جن میں ایمان، دعا، صبر، شکر اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد کے مضامین آسان انداز میں بیان کیے گئے ہوں ان کا مطالعہ کروایا جائے۔ ماؤں کو چاہیے کہ خود بھی دینی کتابوں کا مطالعہ کریں تاکہ بیٹیاں ان کے نقشِ قدم پر چلیں۔
اسی طرح مدنی چینل پر نشر ہونے والے اصلاحی پروگراموں خصوصاً ”مدنی مذاکرہ“ سے بیٹیوں کا تعلق قائم کیا جائے۔ ان پروگراموں میں قرآن و حدیث کی روشنی میں توکل، صبر، دعا، شکر، حسنِ اخلاق اور اسلامی طرزِ زندگی کی نہایت آسان انداز میں راہنمائی کی جاتی ہے۔ اگر گھر کے تمام افراد مل کر ایسے پروگرام دیکھیں اور ان میں بیان ہونے والی باتوں پر گفتگو بھی کریں تو بیٹیوں کی دینی اور روحانی تربیت میں بہت مدد ملے گی۔
گھر کے ماحول کو بھی ایسا بنایا جائے جہاں ہر نعمت پر ”اَلحمدُ لِلّٰہ“ کہا جائے، ہر جائز و نیک کام سے پہلے ”بسم اللہ“پڑھی جائے، ہر مشکل میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا جائے اور ہر معاملے میں دعا کا اہتمام ہو۔ بیٹی جب اپنی ماں کو ہر خوشی اور غم میں اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرتے دیکھے گی تو اس کے دل میں بھی یہی یقین پیدا ہوگا کہ اصل سہارا صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
یاد رکھیں!بیٹیوں کی بہترین تربیت صرف انہیں دنیاوی کامیابی دلانا نہیں بلکہ انہیں ایسا مضبوط ایمان عطا کرنا ہے کہ زندگی کی ہر خوشی اور ہر آزمائش میں ان کا دل اپنے رب سے وابستہ رہے۔ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ میری امت میں ستر ہزار ایسے خوش نصیب لوگ ہوں گے جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، ان کی صفات میں یہ بھی ہے کہ وہ اپنے رب پر کامل بھروسا کرتے ہیں۔ ([7])یہ فضیلت اس بات کی دلیل ہے کہ توکل اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔
اللہ تعالیٰ خود ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ(۱۵۹)
ترجَمۂ کنز الایمان: بے شک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں۔([8])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس لیے والدین، خصوصاً ماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کی قدرت پر یقین، دعا کا ذوق، صبر و شکر کی عادت اور توکل علی اللہ کی عظیم دولت پیدا کریں، انہیں قرآن و سنت سے وابستہ کریں، دینی مطالعے کی ترغیب دیں، مدنی چینل اور مدنی مذاکرہ سے جوڑیں اور ایسا دینی ماحول فراہم کریں جہاں ہر معاملے میں اعتماد صرف اللہ پاک کی ذات پر ہو۔ یہی تربیت بیٹیوں کو مضبوط ایمان، پُرسکون زندگی اور دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی عطا کرے گی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*(نگران عالمی مجلس مشاورت(دعوتِ اسلامی) اسلامی بہن)

Comments