بیٹیوں کو صبر و تحمل کی تربیت دیں
بڑی سے بڑی مشکلات اور آزمائشیں ختم ہو کر رہتی ہیں اور کڑوے لہجے میٹھے بھی ہو جاتے ہیں، لیکن اس کے لیے صبر کرنا پڑتا ہے۔صبرو تحمل ایک ایسا ہتھیار ہے، جس سے طوفانوں کا رُخ موڑا اور مشکل سے مشکل مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے۔ صبر انسان کی شخصیت بھی نکھارتا ہے۔
مردوں اور عورتوں کی زندگی میں کئی معاملات کی کیفیت الگ ہوتی ہے۔ اسی طرح پریشانیوں اور مصائب میں صبر و تحمل کی کیفیت بھی الگ ہوتی ہے ۔ ایسی صورتِ حال میں ماں باپ پر بیٹیوں کی تربیت کے معاملے میں بڑی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔
مائیں اپنی بیٹیوں کو کم عمری ہی سے پوری توجہ، شفقت و محبت کے ساتھ مثبت شخصیت کی حامل بنانے کی کوشش کریں۔ کیونکہ بچپن کا سکھایا ہوا پختہ رہتا ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے: مَثَلُ الَّذی یَتَعَلَّمُ الْعِلْمَ فِیْ صِغَرِہ کالنَّقْشِ عَلَی الحَجَر بچپن میں علم حاصل کرنے والے کی مثال پتھر کے نقش کی سی ہے۔ ([1])
صبر کی اہمیت اور صبر اپنانے کی ذہن سازی کے لیے سب سے پہلے تو بیٹی کو بتائیں کہ ’’صبر‘‘ركنے،ٹھہرنے یا باز رہنے کا نام ہے اور نفس کو اس چیز سے روکنا (یعنی ڈٹ جانا) جس سے رکنے (ڈٹے رہنے)کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو صبر ہے۔ صبر دو طرح کا ہوتا ہے: پہلا بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اوران پر ثابت قدم رہنا۔ دوسرا طبعی خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے صبر کرنا۔([2])قرآنِ مجید میں ہے:
وَ اصْبِرُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶)
’’ ترجَمۂ کنزُالایمان: اور صبر کرو بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔‘‘([3])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
بیٹی کو بتائیں کہ مسلمان کے لیے صبر میں بڑی بھلائی ہے، اللہ پاک نے مسلمان کے لیے خیر ہی خیر رکھی ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: مؤمن کا معاملہ کتنا عجیب ہے کہ اس کے لیے ہر معاملے میں خیر ہی خیر ہے اگر اسے خوشی پہنچے اور شکر کرے تو یہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر مصیبت پہنچے اور اس پر صَبْر کرے تو یہ اس کے لیے بَھلائی ہے۔([4])
ہماری زندگی میں جو مشکلات آئیں گی اس وقت ہم نے نماز نہیں چھوڑنی، صبر کا دامن نہیں چھوڑنا۔ بلکہ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حیاتِ طیبہ میں کیسے کیسے درد انگیز لمحے آئے لیکن آپ نے ہمیشہ صبر کیا، جیسا کہ
(1)جب آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مکہ میں دعوتِ اسلام کا آغاز فرمایا تو کفار نے آپ کو جھٹلایا، طعنے دیے، حتیٰ کہ جسمانی اذیتیں بھی پہنچائیں۔ لیکن آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کبھی بدلہ نہیں لیا بلکہ ہمیشہ صبر اور نرمی کا راستہ اختیار فرمایا۔اس میں سبق ہے کہ مشکل حالات میں بھی اخلاق اور حوصلہ نہیں چھوڑنا چاہیے۔
(2)تین سال تک آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور آپ کے صحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم نے شعبِ ابی طالب میں شدید بھوک، پیاس اور تنگی برداشت کی۔ کھانے کو کچھ نہ ہوتا، بچے بھوک سے روتے، مگر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اللہ پر بھروسا اور صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ یہ مثال سکھاتی ہے کہ آزمائشیں وقتی ہوتی ہیں، صبر کرنے والوں کے لیے آسانی ضرور آتی ہے۔
(3)جب آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم طائف تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگوں نے نہ صرف دعوت کو رد کیا بلکہ آپ پر پتھر برسائے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم لہولہان ہو گئے، مگر اس کے باوجود آپ نے بددعا کے بجائے ان کے لیے ہدایت کی دعا فرمائی۔ اس میں سبق ہے کہ اگر کبھی آپ کی جائز باتیں اور مطالبات بھی نہیں مانے جاتے تو صبر کریں اور تکلیف دینے والوں کے لیے بھی خیر خواہی کا جذبہ رکھنا چاہیے۔
(4)جب مکہ فتح ہوا تو وہی لوگ جو برسوں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ستاتے رہے، آپ کے سامنے بے بس کھڑے تھے۔ لیکن آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سب کو معاف فرما دیا اور فرمایا: ”آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔“ یہ اعلیٰ درجے کے صبر اور برداشت کی مثال ہے کہ طاقت ہونے کے باوجود انتقام نہ لیا جائے۔ آپ آسودہ حال ہوجائیں تو جنہوں نے کمزوری میں تنگ کیا تھا ان کو بدلے میں تنگ نہ کریں۔
(5)نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ازواجِ مطہرات کے گھروں میں کبھی کبھی کئی کئی دن چولہا نہیں جلتا تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایسا بھی ہوتا تھا کہ دو دو مہینے گزر جاتے اور گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، صرف کھجور اور پانی پر گزارا ہوتا تھا۔([5]) اس کے باوجود ازواجِ مطہرات نے کبھی شکایت نہ کی بلکہ صبر، شکر اور قناعت کے ساتھ زندگی گزاری۔یہ مثال بیٹیوں کو سکھاتی ہے کہ تنگی اور کمی بیشی زندگی کا حصہ ہے، اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان ہر حال میں صبر کرے، اللہ پر بھروسا رکھے اور ناشکری سے بچے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* نگران عالمی مجلس مشاورت (دعوتِ اسلامی) اسلامی بہن

Comments