نفاق
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:نفاق

(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 48  ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کیے جا رہے ہیں۔)


زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنا اور دل میں اسلام سے انکار کرنا نفاق اعتقادی اور زبان و دل کا یکساں نہ ہونانفاق عملی کہلاتاہے۔اسلام نے انسان کو ظاہر و باطن کی ایک جیسا رکھنے کا درس دیا ہے اور سچائی و اخلاص کو ایمان کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اس کے برعکس جو بظاہر ایمان کا دعویٰ کرے مگر دل میں کفر یا اسلام دشمنی چھپائے رکھے اسے منافق کہا جاتا ہے۔

نفاق ایسا خطرناک مرض ہے جو انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں رسوائی سے دوچار کر دیتا ہے۔اسی لئے قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں نفاق کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔

فرمانِ الٰہی ہے:

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ5،النسآء:145)

ترجمہ:بیشک منافق دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تفسیر خزائن العرفان میں اس آیت کے تحت ہے:منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں اظہارِ اسلام کر کے مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا رہا ہے اور کفر کے باوجود مسلمانوں کو مغالطہ دینا اور اسلام کے ساتھ استہزاء (مذاق) کرنا اس کا شیوہ رہا ہے۔([1]) اس سے واضح ہوتا ہے کہ نفاق ایک نہایت خطرناک صفت ہے جو انسان کو دنیا و آخرت میں نقصان پہنچاتی ہے۔منافق بظاہر اسلام کے ساتھ نظر آتا ہے لیکن دل میں اللہ پاک اور دین کے خلاف خیالات رکھتا ہے۔قرآنِ کریم میں منافقین کے لیے سخت وعید بیان کی گئی ہے اور انہیں دوزخ کے سب سے نچلے درجے کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ صرف ظاہری عمل یا دعویٰ کافی نہیں،بلکہ ایمان کی سچائی اور اخلاص ضروری ہے۔

حضور نبیِ کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بھی نفاق کی علامات اور اس کے اثرات بیان فرمائے ہیں۔چنانچہ

ایک روایت میں ہے:چار علامتیں جس میں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا اور ان میں سے ایک علامت ہوئی تو اس میں نفاق کی ایک علامت پائی گئی یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے:جب امانت دی جائے تو خیانت کرے،جب بات کرے تو جھوٹ بولے،جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالی بکے۔([2])

منافقت کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ کوئی باہم مخالف دو لوگوں میں سے ہر ایک کے پاس جائے اور ہر ایک سے اس کے موافق بات کرے،یہ عین نفاق ہے،ایسوں کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو دنیا میں دو چہروں والا (دو غلا) ہو،قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی دو زبانیں ہوں گی ۔ ([3])

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک مقام پر منافقوں کے سردار عبدُ اللہ بن اُبی کو مخاطب کر کے فرمایا:خدا سے ڈر اور نفاق سے باز  آ! کیونکہ منافقین بدترین مخلوق ہیں۔([4])

یہ تمام آیات،احادیث اور  اقوال  ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ نفاق صرف ظاہری فریب یا جھوٹ نہیں بلکہ دل و زبان،قول و فعل میں پیدا ہونے والا خطرناک رویہ ہے۔منافقت انسان کے ایمان و کردار دونوں کو متاثر کرتی ہے اور معاشرے میں بد اعتمادی، فساد اور اختلاف کو جنم دیتی ہے۔ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اعمال اور نیتوں کا جائزہ لیتا رہے،دل میں اخلاص رکھے،قول و فعل میں سچائی اختیار کرے،وعدوں اور امانت کا لحاظ کرے،نیز جھوٹ اور منافقت سے بچے۔

محترمہ بنتِ غلام جیلانی عطاریہ

(طالبہ:درجۂ رابعہ،فیضانِ رضا سرجانی ٹاؤن کراچی)

زبان سے مسلمان ہونے کا دعوی کرنا اور دل میں اسلام سے انکار کرنا نفاقِ اعتقادی اور زبان و دل کا یکساں نہ ہونا نفاقِ عملی کہلاتا ہے۔([5])

ظاہر و باطن کا تضاد بہت بڑا عیب ہے۔منافقت ایمان کے اندر ہو تو سب سے بدتر ہے اگر عمل میں ہو تو ایمان میں منافقت سے کم لیکن فی نفسہ سخت خبیث ہے جس آدمی کے قول و فعل اور ظاہر و باطن میں تضاد ہوگا تو وہ لوگوں کی نظر میں سخت قابلِ نفرت ہوگا لیکن فی زمانہ آدمی یا تو مسلمان ہوگا یا کافر تیسری کوئی صورت نہیں ہے کہ نفاق زبان سے دعویٔ اسلام کرنا اور دل سے اسلام سے انکار،یہ بھی خالص کفر ہے۔([6])

ارشادِ الٰہی ہے:

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ﳍ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ ﳌ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِلَا تَعْلَمُهُمْؕ-نَحْنُ نَعْلَمُهُمْؕ-سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ(۱۰۱) (پ11،التوبۃ:101)

ترجمہ: اور تمہارے آس پاس دیہاتیوں میں سے کچھ منافق ہیں اور کچھ مدینہ والے(بھی)وہ منافقت پر اڑگئے ہیں۔تم انہیں نہیں جانتے،ہم انہیں جانتے ہیں۔عنقریب ہم انہیں دو مرتبہ عذاب دیں گے پھر انہیں بڑے عذاب کی طرف پھیرا جائے گا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

ایک روایت کے مطابق  منافق اس بکری کی طرح ہے جو دو بکروں کے درمیان گھومے(چکر لگائے)ایک بار اس بکرے کے پاس پہنچ جائے اور ایک بار اس بکرے کے پاس۔([7])اس حدیثِ  پاک کی شرح میں ہے کہ دونوں کو راضی کرنے اور دونوں سے لذّت اور نفع حاصل کرنے کے لیے جس سے اس کا بچہ ولدِ نا معلوم ہو۔خیال رہے کہ کافر و مومن سب کو راضی کرنے کی کوشش میں رہنا خطرناک بیماری ہے جس سے اس کا خود اپنا کوئی دین نہیں رہتا۔اسی لئے یہاں ایسی گندی چیز سےتشبیہ دی گئی ہے تاکہ دلوں میں اس سے نفرت پیدا ہو۔([8])

ایک روایت میں ہے:مقتولین تین طرح کے ہیں:(1)وہ مومن جو اپنی جان و مال سے راہِ خدا میں جہاد کرے،جب دشمن سے مقابلہ ہو تو جہاد کرے یہاں تک کہ شہید ہو جائے۔یہ وہ شہید ہے جو امتحان میں ڈالا گیا،عرش کے نیچے اللہ پاک کے خیمے میں ہو گا،حضرات انبیا کو اس پر درجۂ نبوت کے سوا  فضیلت حاصل نہ ہوگی۔(2)وہ مومن جس نے اچھے برے کام کیے، اس نے اپنی جان و مال سے راہِ خدا میں جہاد کیا،دشمن سے جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔یہ ایک پاک کرنے والی چیز ہے جس نے اس کے گناہ اور خطائیں مٹادیں۔بے شک تلوار خطاؤں کو مٹانے والی ہے اور وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو گا۔(3)منافق جو اپنے جان و مال سے جہاد کرے،پھر دشمن سے لڑتے ہوئے مارا جائے تو یہ دوزخ میں ہے کیونکہ تلوار نفاق کو نہیں مٹاتی۔([9])

معلوم ہوا کہ  نفاق بہت خبیث باطنی مرض ہے  کہ منافق کا کوئی عمل قابلِ قبول نہیں۔نفاقِ اعتقادی کفر کا سب سے بڑا درجہ ہے،منافقِ اعتقادی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ڈالا جائے گا جبکہ نفاقِ عملی گناہِ کبیرہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔اللہ کریم دونوں طرح کے نفاق سے مسلمانوں کو امان عطا فرمائے اور ایمانِ کامل نصیب فرمائے۔آمین



[1]تفسیر خزائن العرفان،ص196

[2] بخاری،1/25،حدیث:34

[3] ابو داود،4/352،حدیث:4873

[4] تفسیر روح البیان،1/62

[5] باطنی بیماریوں کی معلومات ص 219

[6] بہار شریعت،1/182،حصہ:1

[7] مسلم،ص 1147،حدیث:7043

[8] مراۃ المناجیح،1/75

[9] دارمی،2/272،حدیث:2411


Share