اعتقادات و توہمات (قسط 02)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:اعتقادات و توہمات (قسط2)

بزرگوں کے نام کا چراغ جلانا

معاشرے میں مختلف قسم کے رسم و رواج اور عقائد پائے جاتے ہیں۔بعض خالصتاً توہمات اور قدیم روایات کا نتیجہ ہوتے ہیں جبکہ بعض کا تعلق مذہب سے جوڑ دیا جاتا ہے۔انہی میں ایک رسم گھروں میں چراغ جلانے کی منت ماننا بھی ہے۔بعض لوگ یہ نذر مانتے ہیں کہ وہ کسی بزرگ کے نام پر چراغ جلائیں گے، پھر اسے گھر کے کسی ایسے کونے میں روشن کر دیتے ہیں جہاں اس کی روشنی کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔آج کل بعض عورتیں حضور غوثِ پاک شیخ عبد القادر جیلانی یا دیگر بزرگوں کے نام پر چراغ جلانے کی منت مانتی ہیں اور اسے ثواب کا ذریعہ سمجھتی ہیں،حالانکہ یہ عمل نہ شرعاً ثابت ہے اور نہ ہی عقل کے مطابق درست ہے۔ایسی رسمیں محض جہالت، نادانی اور اسراف پر مبنی ہیں،جن سے بچنا ضروری ہے۔

اسی طرح بعض لوگ کسی خاص دن،خصوصاً جمعرات کو اس عقیدے سے چراغ جلاتے ہیں کہ کسی بزرگ کا یہاں سے گزر ہوتا ہے،اس لیے چراغ روشن کیا جائے۔حالانکہ یہ محض بے بنیاد خیال ہے جس کی کوئی شرعی اصل نہیں۔شریعتِ مطہرہ میں ایسے عقائد کی نہ ترغیب دی گئی ہے اور نہ ہی اس کی اجازت ہے۔لہٰذا اس نیت سے چراغ جلانا نہ صرف ناجائز ہے بلکہ اس میں بلا ضرورت مال خرچ کرنے کی وجہ سے اسراف بھی پایا جاتا ہے،جس سے بچنا لازم ہے۔جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے:

اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠(۳۱)(پ8،الاعراف:31)

ترجمہ:بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

البتہ!اگر چراغ ایسی جگہ جلایا جائے جہاں واقعی ضرورت ہو ، مثلاً:سرِراہ کہ اس سے راہ گیروں کو فائدہ پہنچے،یا دینی تعلیم کے مقامات پر تاکہ پڑھنے پڑھانے والوں کو سہولت حاصل ہو،یا ایسی جگہ جہاں ذکر،عبادت اور تلاوت کرنے والوں کو نفع پہنچے،تو یہ عمل درست ہے۔اسی طرح اگر کسی بزرگ کے مزار مبارک، چلہ گاہ یا اس مقام پر جہاں انہوں نے عبادت کی ہو،بطورِ تعظیم چراغ جلایا جائے تو یہ بھی جائز ہے،بشرطیکہ اس میں اسراف اور کسی غلط عقیدے کی آمیزش نہ ہو۔چونکہ یہ تعظیم اور فائدہ پہنچانے میں آتا ہے،لہٰذا ثواب کی امید بھی کی جا سکتی ہے اور اسے ایصالِ ثواب کا ذریعہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔علامہ اسماعیل حقی فرماتے ہیں: اولیائے کرام اور نیک لوگوں کی قبروں پر چراغ جلانا جائز ہے کہ یہ ان کی تعظیم ہے اور یہ اچھا مقصد ہے۔([1])

اسی ضمن میں اعلیٰ حضرت  رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں:اگر شمعیں روشن کرنے میں فائدہ ہو کہ موضع قبور میں مسجد ہے یا قبور سرِ راہ ہیں یا وہاں کوئی شخص بیٹھا ہے یا مزار کسی ولی اللہ یا محققین علما میں سے کسی عالم کا ہے وہاں شمعیں روشن کریں ان کی روح مبارک کی تعظیم کےلئے جو اپنے بدن کی خاک پر ایسی تجلی ڈال رہی ہے جیسے آفتاب زمین پر،تاکہ اس روشنی کرنے سے لوگ جانیں کہ یہ ولی کا مزار پاک ہے تاکہ اس سے تبرک حاصل کریں اور وہاں اللہ عزوجل سے دعا مانگیں کہ ان کی دعا قبول ہو تو یہ امر جائز ہے اس سے اصلاً(ہرگز)ممانعت نہیں اور اعمال کا مدار نیتوں پر ہے۔([2])

الغرض بلا ضرورت چراغ جلانا جائز نہیں،اگرچہ کسی بزرگ کے نام پر ہی کیوں نہ ہو۔البتہ!مزار یا چلہ گاہ پر بطورِ تعظیم چراغ جلایا جائے،یا کسی ایسی جگہ روشن کیا جائے جہاں واقعی روشنی کی ضرورت ہو اور لوگوں کو فائدہ پہنچے،یا کسی موقع پر عمومی چراغاں کی صورت ہو تو یہ جائز ہے۔اس کے علاوہ اگر نہ کوئی ضرورت ہو اور نہ ہی کوئی دینی یا دنیاوی منفعت،تو چراغ جلانا فضول خرچی اور اسراف کے زمرے میں آتا ہے،جس سے بچنا چاہیے۔

گھر کی بنیادوں میں خون ڈالنا

معاشرے میں رائج دیگر لغو وباطل رسومات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ نئے مکان کی بنیادوں میں خون ڈالا جاتا ہے۔اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگ بکرے کو ذبح کر کے اس کا ناپاک خون ان جگہوں پر ڈال دیتے ہیں جہاں ستون یا بنیادیں قائم کی جاتی ہیں۔اس عمل کے پیچھے عموماً یہ تصور پایا جاتا ہے کہ اس طرح نحوست سے حفاظت،گھر کی سلامتی اور خیر و برکت حاصل ہوگی۔بعض افراد یہ عجیب عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ اگر بنیادوں میں خون ڈال دیا جائے تو عمارت  انسان کا خون نہیں پئے گی،یعنی نہ گرے گی اور نہ جانی نقصان کا باعث بنے گی۔ حالانکہ یہ محض بے بنیاد اور غیر منطقی سوچ ہے جس کی نہ کوئی شرعی اصل ہے اور نہ ہی عقلی بنیاد۔حقیقت یہ ہے کہ بکرے اور انسان کے خون میں واضح فرق ہے،لہٰذا ایسا خیال سراسر غلط فہمی ہے جس سے بچنا ضروری ہے۔

یاد رہے!عمارتیں آخر کار گرتی ہی ہیں اور جب گرتی ہیں تو بارہا بندوں کو بھی لے کر جاتی ہیں اور لوگوں کا خون پیتی ہیں۔ جو لوگ بکرے کا خون مکان کی بنیاد میں ڈالتے ہیں انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ یہ غلط طریقہ ہے۔مزید براں اگر کوئی اس موقع پر بکرا ذبح کرنا چاہے تو اس کا مقصد صرف اللہ کے لیے صدقہ کرنا یا شکر ادا کرنا ہو،نہ کہ بنیادوں میں خون ڈالنا یا کسی توہم کو پورا کرنا ہو اور اس کا گوشت غریبوں میں بانٹیں اور اگر کوئی امیر بھی ہاتھ بڑھا دے تو اس کا دل بھی نہ توڑیں اسے بھی گوشت دے دیں تو یہ نفلی صدقہ ہے اور ایک نیک عمل ہے اِس سے معاشرتی بھلائی بھی حاصل ہوگی اور ثواب بھی مگر مکان کی بنیادوں پر خون لگا کر انہیں ناپاک کرنا ہر گز درست نہیں ہے۔

اس حوالے سے دار الافتا اہلِ سنت کا فتویٰ ملاحظہ کیجیے، چنانچہ مفتی صاحب فرماتے ہیں:مکان کی تعمیرات شروع کرنے سے پہلے جانور کو ذبح کر کے بنیادوں میں اُس کا خون ڈالنا یہ لغو کام ہے،شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں،ہاں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرنے اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے جانور ذبح کر کے اُس کا گوشت غریبوں میں صدقہ کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔وقار الفتاوی میں ہے:مکان کی بنیادوں میں خون ڈالنا ایک لغو کام ہے۔اس کی کوئی اصل نہیں۔اگر صدقے کا جانور ذبح کر کے گوشت غریبوں میں تقسیم کریں تو یہ اچھا ہے۔([3])

بعض مقامات پر جب گھر کی چھت ڈالی جاتی ہے تو اس خوشی میں دیگ پکا کر مزدوروں کو کھلائی جاتی ہے۔ایسا کرنا بھی بہت اچھا ہے۔بعض جگہ یہ رائج ہے کہ جب بہن کے گھر کی چھت ڈالی جاتی ہے تو والدین یا بھائی دیگوں کا اہتمام کرتے ہیں یہ بھی جائز ہے جبکہ انہیں مجبور نہ کیا جائے اور نہ دینے پر طعنہ زنی نہ ہو،البتہ!ایسا کرنا ضروری نہیں ہے۔یاد رہے!گھر کی مضبوطی اچھی تعمیر،معیاری مواد اور درست منصوبہ بندی سے حاصل ہوتی ہے،نہ کہ کسی غیرشرعی رسم سے۔اسی طرح گھر کی برکت اللہ پاک کی اطاعت،نماز،تلاوتِ قرآن اور نیک اعمال سے آتی ہے۔ لہٰذا ایک باشعور مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے لغو اور بےبنیاد رسومات سے خود بھی بچے اور دوسروں کو بھی حکمت اور نرمی کے ساتھ اس کی اصلاح کی دعوت دے۔اللہ پاک ہمیں باطل رسومات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* طالبہ:فیضان آن لائن اکیڈمی گرلزبحرین عرب



[1] تفسیر روح البیان،3/400

[2] فتاویٰ رضویہ،9/490

[3] فتاویٰ اہل سنت غیرمطبوعہ،فتوی نمبر:Fmd 0097-وقار الفتاوی،2/524


Share