63 نیک اعمال
(نیک عمل نمبر 41)
الحمدُ للہ!ہم مسلمان ہیں اور اللہ پاک نے ہمیں ایمان جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمایا ہے۔اسلام نہ صرف عبادات کا دین ہے بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو ظاہری و باطنی پاکیزگی کی تعلیم دیتا ہے۔دینِ اسلام میں ایک مسلمان کی عزت و حرمت کو بہت بلند مقام حاصل ہے،یہاں تک کہ کسی مسلمان کی دل آزاری کو بھی سخت ناپسند فرمایا گیا ہے۔ایک مہذب اسلامی معاشرہ اسی وقت وجود میں آتا ہے جب اس کے افراد ایک دوسرے کی عزت کا خیال رکھیں، عیبوں پر پردہ ڈالیں اور خیر خواہی کا جذبہ اپنائیں۔لیکن افسوس!آج کے دور میں دوسروں کے عیوب تلاش کرنا اور انہیں بیان کرنا ایک عام عادت بنتی جا رہی ہے،جس کے باعث معاشرتی بگاڑ اور دلوں میں دوریاں پیدا ہو رہی ہیں۔
اسی خرابی سے بچانے اور ہماری اصلاح کے لیے امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ نے نیک اعمال کے رسالے میں فکر انگیز سوالات عطا فرمائے ہیں تاکہ ہم اپنی زندگی کو سنوار سکیں۔ انہی سوالات میں سے ایک نہایت اہم سوال یہ ہے:
سوال نمبر 41:آج آپ نے کسی مسلمان کا عیب ظاہِر ہو جانے پر (بِلا مصلحتِ شرعی) اُس کا عیب کسی اور پر ظاہر تو نہیں کیا؟
اسلام نے مسلمان کو عزت کا تاج پہنایا ہے۔جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے:
وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ (پ28،المنافقون:8)
ترجمہ: حالانکہ عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لیے ہے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان عزت والا ہے کسی مسلم قوم کو ذلیل جاننا حرام ہے۔([1]) مزید ارشادِ باری ہے:
وَّ لَا تَجَسَّسُوْا (پ26،الحجرات:12)
ترجمہ:اور(پوشیدہ باتوں کی)جستجو نہ کرو۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے پوشیدہ عیب تلاش کرنا اور پھر انہیں بیان کرنا ممنوع ہے۔([2])
تجسس یعنی لوگوں کی پوشیدہ باتوں اور عیوب کو جاننے کی کوشش کرنا ایک خطرناک باطنی بیماری ہے۔اس کا نتیجہ عموماً غیبت،چغل خوری اور دل آزاری کی صورت میں نکلتا ہے۔نیز حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بھی اس عمل سے سختی سے منع فرمایا۔چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے:اے وہ لوگو!جو زبان سے تو ایمان لائے ہو لیکن ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا!مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کے عیبوں یعنی چھپی ہوئی باتوں کے پیچھے مت پڑو،اس لئے کہ جو اپنے مسلمان بھائی کے عیبوں کے پیچھے پڑے گا اللہ پاک اس کے عیب ظاہر فرما دے گا اور اسے رسوا کر دے گا اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہو۔([3]) اسی طرح ایک اور حدیث میں یہ سخت وعید بیان ہوئی ہے کہ غیبت کرنے والوں،چغل خوروں اور پاک باز لوگوں کے عیب تلاش کرنے والوں کو اللہ پاک قیامت کے دن کتوں کی شکل میں اٹھائے گا۔([4])
یہ احادیث ہمیں جھنجھوڑ کر بتا رہی ہیں کہ عیب جوئی معمولی بات نہیں بلکہ ایسا گناہ ہے جو دنیا و آخرت میں رسوا کر سکتا ہے۔ چنانچہ ہمیں چاہیے کہ دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکر کریں،کیونکہ ہر شخص خود بھی خامیوں کا مجموعہ ہے۔اسلام نے صرف عیب تلاش کرنے سے ہی منع نہیں فرمایا بلکہ عیب چھپانے کی بھی فضیلت بیان کی ہے۔چنانچہ بخاری شریف کی حدیث ہے:جس نے کسی مسلمان کے عیب چھپائے اللہ پاک قیامت کے دن اس کے عیب چھپائے گا۔([5])یہ بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اگر ہم دوسروں کی پردہ پوشی کریں گی تو اللہ پاک ہماری پردہ پوشی فرمائے گا۔اس کے برعکس اگر ہم دوسروں کے عیوب ظاہر کریں گی تو ہمیں بھی اسی انجام کا سامنا ہو سکتا ہے۔
پارہ26،سورۂ حجرات آیت نمبر 12 میں ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-
ترجمہ:اے ایمان والو!بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے اور (پوشیدہ باتوں کی) جستجو نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہ آیت مبارکہ ہمیں ایک مکمل اخلاقی ضابطہ فراہم کرتی ہے کہ بدگمانی،تجسس اور غیبت یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے گناہ ہیں اور معاشرے کو تباہ کر دیتے ہیں۔حالانکہ ایک روایت میں ہے:مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔([6])اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو دوسروں کو تکلیف نہ دے۔کسی کے عیب ظاہر کرنا بھی ایک بڑی تکلیف کا سبب ہے،اس لیے اس سے بچنا ضروری ہے۔
بزرگوں کا طرزِ عمل:
ہمارے بزرگانِ دین اس معاملے میں نہایت محتاط تھے۔حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃُ اللہ علیہ کا واقعہ اس حوالے سے سبق آموز ہے کہ جب آپ پر لوگوں کے عیوب ظاہر ہونے لگے تو آپ نے دعا کی کہ یہ کیفیت ختم ہو جائے تاکہ کسی کے عیب ظاہر نہ ہوں۔([7]) اس سے معلوم ہوا کہ نیک لوگ دوسروں کے عیب جاننے کے بھی خواہش مند نہیں ہوتے تو انہیں بیان کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا!
تجسس کے اسباب اور علاج:
تجسس کے کئی اسباب ہیں جن سے بچنا ضروری ہے:
بغض و کینہ:دشمنی انسان کو عیب تلاش کرنے پر ابھارتی ہے۔ علاج:دل میں محبت پیدا کی جائے اور مسلمانوں کے لیے خیر خواہی رکھی جائے۔
حسد:دوسروں کی نعمت برداشت نہ ہونا۔علاج:اللہ پاک کی تقسیم پر راضی رہا جائے اور حسد کے نقصانات پر غور کیا جائے۔
چغل خوری:لوگوں کی باتیں ادھر ادھر پہنچانا۔علاج:اس کی وعید کو یاد رکھا جائے:چغل خور جنت میں داخل نہ ہو گا۔([8])
چاپلوسی:ذاتی فائدے کے لیے دوسروں کے عیب بیان کرنا۔
علاج:اخلاص اختیار کیا جائے اور دنیاوی فائدے کے بجائے آخرت کو مقدم رکھا جائے۔
نفاق:منافق ہمیشہ عیب تلاش کرتا ہے۔علاج:اپنے باطن کی اصلاح کی جائے اور اخلاص اپنایا جائے۔
منفی سوچ:ہر چیز میں برائی تلاش کرنا۔علاج:مثبت سوچ اپنائی جائے اور دوسروں کی خوبیوں پر نظر رکھی جائے۔
الغرض ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر ہمارے اپنے عیب ظاہر کر دیئے جائیں تو ہم کس قدر شرمندگی محسوس کریں گی!جب ہم اپنے لیے پردہ پوشی چاہتی ہیں تو ہمیں دوسروں کے لیے بھی یہی طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ کا عطا کردہ یہ نیک عمل در اصل ہمیں اسی سوچ کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ہم روزانہ اپنا جائزہ لیں اور اس گناہ سے بچنے کی کوشش کریں۔اگر ہم اس سوال کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی زندگی میں نافذ کریں تو ان شاء اللہ نہ صرف ہم اس گناہ سے بچ سکیں گی بلکہ ایک پاکیزہ اور محبت بھرا معاشرہ قائم کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گی۔اللہ پاک ہمیں دوسروں کے عیوب چھپانے،اپنی اصلاح کرنے اور اس نیک عمل کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
[1] تفسیر صراط الجنان،10/169ملتقطاً
[2] تفسیر صراط الجنان،9/437
[3] ابو داود،4/354،حدیث:4880
[4] ترغیب و ترہیب،3/325،حدیث:10 ملتقطاً
[5] بخاری،2/126،حدیث:2442
[6] مسند امام احمد،11/66،حدیث:6515
[7] میزان کبری،جز:1،ص 130
[8] بخاری،4/ 115،حدیث:6056
Comments