موضوع:شرح قصیدۂ معراجیہ (قسط 13)
52
کسے ملے گھاٹ کا کنارہ کدھر سے گزرا کہاں اُتارا
بھرا جو مثل نظر طرارا وہ اپنی آنکھوں سے خود چھپے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:گھاٹ:دریا کی وہ جگہ جہاں پانی کم ہوتا ہے اور وہاں جانور پانی پیتے ہیں۔طرارا:چھلانگ لگانا۔
مفہومِ شعر:بحرِ وحدت کے گھاٹ کا کنارہ ملنا کس کے لیے ممکن تھا؟کوئی کیا بتائے کہ توفیقِ الٰہی کی کشتی حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو کہاں سے لے کر گزری اور پھر جس جگہ اتارا وہاں حضور ایسے غوطہ زن ہوئے کہ آپ دوسرے کو کیا نظر آتے خود اپنی ہی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔
شرح:فنا کے جس سمندر میں حضور غوطہ زن ہوئے تھے اس تک رسائی کسی کے لیے ممکن نہ تھی،وہاں حضور ذاتِ باری کے جلووں میں ایسے گم ہوئے کہ خود اپنی خبر نہ رہی۔کیونکہ معراج کی رات حضور کو سب سے بڑا جو اعزاز و انعام عطا کیا گیا وہ اللہ پاک کا دیدار تھا۔
حضور نے سر کی آنکھوں سے ربِّ کریم کا دیدار کیا۔وہاں نہ پردہ تھا نہ کوئی حجاب،زمانہ تھا نہ کوئی مکان،فرشتہ تھا نہ کوئی اِنسان،نیز بےواسطہ کلام کا شرف بھی حاصل کیا۔یہ وہ انعام ہے جو کسی بھی نبی یا رسول کو حاصل نہیں ہوا۔
53
اُٹھے جو قصرِ دنیٰ کے پردے کوئی خبر دے تو کیا خبر دے
وہاں تو جا ہی نہیں دوئی کی نہ کہہ کہ وہ بھی نہ تھے ارے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:قصرِ دنٰی:قرب کا محل۔دوئی:دو ذاتوں کا جمع ہونا۔
مفہومِ شعر:دناکے محل سے جب پردے اٹھائے گئے تو آپ اندر تشریف لے گئے اور اندر کی خبر کون دے سکتا ہے وہاں تو دو کی گنجائش ہی نہیں ہے،لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہاں حضور بھی نہیں تھے ارے وہاں آپ ہی تو تھے،آپ کے علاوہ کوئی نہ تھا۔
شرح:حضور کے لیے جب دنا کے محل سے پردے اٹھائے گئے جس کے بارے میں رب کا ارشاد ہے:
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ(۸) (پ 27، النجم: 8)
ترجمہ:پھر وہ جلوہ قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
ترمذی شریف کی حدیثِ پاک ہے:میں نے اللہ پاک کا دیدار کیا تو اللہ پاک نے اپنا دستِ قدرت میرے کندھوں کے درمیان رکھا،میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی، پس میرے لئے ہر چیز روشن ہوگئی اور میں نے ہر چیز کو پہچان لیا۔ ([1]) چنانچہ،
اس منظر کی خبر کون دے سکتا ہے؟وہاں تو کسی اور کی گنجائش ہی نہیں تھی،کیونکہ وہ تو صرف مقامِ وحدت ہےاور ایسا بھی نہیں کہ حضور بھی وہاں نہیں تھے،بلکہ آپ ہی تو تھے اور آپ کا ہونا وحدت کے منافی نہیں تھا،اس لئے کہ جس طرح ایک قطرہ سمندر میں شامل ہو کر اپنے وجود کو کھو دیتا ہے،اسی طرح حضور بھی فنا میں جا کر بقا پا گئے۔
اعلیٰ حضرت حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے مقامِ وحدت میں یوں گم یعنی فنا ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
میں نے کہا کہ جلوۂ اصل میں کس طرح گُمیں
صبح نے نورِ مہر میں مٹ کے دکھا دیا کہ یوں
یعنی جس طرح سورج نکلتا ہے تو صبح کی روشنی سورج کی روشنی میں ضم ہوجاتی ہے،اسی طرح نورِ مصطفےٰ بھی نورِ خدا سے مل گیا۔
الغرض اس شعر میں دوئی کی نفی اللہ و رسول کے علاوہ کی نفی ہے،یعنی رب سے ملاقات کے وقت آپ کے علاوہ کسی دوسرے کی وہاں جگہ نہیں تھی،کوئی نبی یا فرشتہ وہاں نہیں تھا، جیسا کہ ایک حدیثِ پاک میں ہے:میرے لیے خدا کے ساتھ ایک ایسا وقت ہے جس میں کسی مقرب فرشتے یا مرسل نبی کی گنجائش نہیں۔([2])
54
وہ باغ کچھ ایسا رنگ لایا کہ غنچَہ و گل کا فرق اُٹھایا
گرہ میں کلیوں کی باغ پھولے گلوں کے تکمے لگے ہوئے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:غنچہ:کلی۔گُل:پھول۔گرہ:بندش ۔تکمے: گریبان کا حلقہ۔
مفہومِ شعر:وہ باغ کچھ ایسا پھلا پھولا کہ کلی اور پھول کا فرق ہی ختم ہوگیا،کلیوں کے دامن میں بھی پھول کھلنے لگے،گویا کہ ان کے گریبان کے بٹن کی جگہ بھی پھول سجے ہوئے تھے۔
شرح:گلشنِ وحدت میں کچھ ایسے منظر رونما ہوئے کہ غنچہ وگل کا فرق ہی ختم ہو گیا،دونوں ایک ہو گئے،کلیاں بھی چٹک کر پھول بن گئیں۔
اس کا مطلب دو کا ایک ہوجانا نہیں بلکہ ایک جیسا ظاہراً دکھائی دینا ہے،جیسے بندے اور رب کی بعض صفات لفظی اعتبار سے ایک جیسی ہیں مثلاً:سمیع وبصیر،مومن وغنی،بندہ بھی ہے اور اللہ بھی،مگر اس کے باوجود قدیم وحادث،مستقل وغیر مستقل، ذاتی وعطائی کا فرق برقرار ہے۔
کلیاں ہمیشہ باغ کے اندر پھولتی ہیں،لیکن یہ ایسی کلیاں تھیں کہ جن کے اندر باغ بسے ہوئے تھے،کلیوں کے دامن میں بھی پھول کھلنے لگے اور گریبان کے بٹن کی طرح ان کلیوں سے متصل مزید پھول کھلے تھے۔
55
محیط و مرکز میں فرق مشکل رہے نہ فاصِل خطوط واصِل
کمانیں حیرت میں سر جھکائے عجیب چَکر میں دائرے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:محیط:دائرہ۔مرکز:درمیانی نقطہ۔ فاصل: جدا کرنے والا۔واصل:ملانے والا۔
مفہومِ شعر:دائرہ ومرکز میں فرق مشکل ہوگیا تھا جدائی اور وصال کی تمام لکیریں آپس میں مل گئیں،کمانیں حیرت سے سر جھکائے کھڑی تھیں اور دائرۂ کائنات عجیب چکر میں تھا۔
شرح:یہاں ہو سکتا ہے مرکز سے مراد اللہ پاک کی ذات اور محیط سے مراد حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذات ہو کہ حضور معراج کی رات فنائیت کے اس مقام تک پہنچے کہ محیط و مرکز میں فرق کرنا مشکل ہو گیا یا اس سے مراد دائرۂ کائنات ہے کہ سفرِ معراج اتنی تیزی سے طے ہوا کہ کمانیں یعنی مشرق و مغرب بھی سر جھکا کر کھڑے ہیں کہ عجیب چکر کے دائرے ہیں جو سمجھ سے باہر ہیں۔
56
حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے
عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:حجاب:پردہ۔فرقت:جدائی۔
مفہومِ شعر:ایک ایک حجاب کے اندر لاکھوں پردے اور ہر پردے میں لاکھوں جلوے نمایاں تھے،ملاقات کا منظر بھی عجیب تھا!ایسا لگ رہا تھا کہ وصل وجدائی کا ملن ہو رہا ہو۔
شرح:جب تجلی کے حجابات اٹھے تو بظاہر یوں لگ رہا تھا کہ ایک ہی حجاب ہے مگر اس ایک حجاب کے اندر لاکھوں پردے تھے اور ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے تھے۔
وصل کہتے ہیں ملنے کو اور فرقت دور ہونے کو،یہ دونوں ضدیں ہیں اور جو چیزیں ضد ہوتی ہیں وہ کبھی ملتی نہیں ہیں،مگر ملنا اور جدا ہونا جو اپنی پیدائش سے الگ الگ تھے یہاں آکر گلے مل گئے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ڈبل ایم اے (اردو،مطالعہ پاکستان)
گوجرہ منڈی بہاؤ الدین
Comments