موضوع:قصیدہ معراجیہ (قسط 10)
38
قوی تھے مرغانِ وَہم کے پَر اُڑے تو اُڑنے کو اَور دَم بھر
اُٹھائی سینے کی ایسی ٹھوکر کہ خونِ اَندیشہ تھوکتے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:قوی:طاقتور۔مرغانِ وہم:سوچ کے پرندے۔دم بھر:ایک لمحہ۔اٹھائی:لگی/پڑی۔اندیشہ:خوف۔
مفہومِ شعر:تصور میں جو چاہے سوچا جا سکتا ہے لیکن معراج کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی رفتار کچھ ایسی تھی کہ اگر تصور و خیال نے اس تک پرواز کی کوشش بھی کی تو ایسی ٹھوکر کھائی کہ اسے خون کی قے آنے لگی یعنی تھک ہار کر بیٹھ گیا۔
شرح:واقعۂ معراج پر عقل و سمجھ کی حیرانی اور بے بسی کے منظر کا بیان جاری ہے کہ سفرِ معراج ایک ایسا معجزہ ہے جس کا تصور کرتے ہوئے انسانی عقل بھی چکرا جاتی ہے،کیونکہ ایک ہی رات میں مکہ مکرمہ سے چل کر مسجدِ اقصی،عرش و کرسی، جنت اور دوزخ کی سیر،انبیا سے ملاقات،ساتوں آسمانوں کی سیر اور اللہ پاک کا دیدار وغیرہ یہ سارا سفر اگر عقل سے پرکھا جائے تو شاید لاکھوں سالوں میں مکمل ہو،لیکن یہاں بات عقل کی نہیں بلکہ عشق اور ایمان کی ہے،اس سفر کی تیزی کا تصور بھی کریں تو تصور خود ڈگمگا جاتا ہے۔بس حقیقت یہ ہے کہ اس سفر کے بارے میں جانے والا جانے یا لے جانے والا جانے،انسانی عقل بس یقین کر سکتی ہے کیونکہ یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے لیکن اس سفر کا تصور عقلاً نا ممکن ہے۔
39
سنا یہ اتنے میں عرشِ حق نے کہ لے مبارک ہوں تاج والے
وہی قدم خیر سے پھر آئے جو پہلے تاجِ شرف تِرے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:عرشِ حق:عرش الٰہی۔شرف:بزرگی۔
مفہومِ شعر:عرشِ الٰہی نے حضور کی آمد کی خبر سنی تو جھوم اٹھا کہ اسے حضور کی قدم بوسی کا شرف ملنے والا ہے۔
شرح:ہر بادشاہ کا ایک تخت ہوتا ہے جس پہ بیٹھ کر وہ بادشاہت کرتا ہے۔حضور کی حکومت چونکہ دونوں جہاں پر ہے اس لئے عرشِ الٰہی آپ کا تخت ہے اور اللہ پاک آپ کے مرتبے کو خوب پہچانتا ہے۔
تخت تمہارا عرش خدا کا مُلکِ خدا ہے مُلک تمہارا
ربّ کی اعلیٰ خِلافت والے تم پر لاکھوں سلام
وہی قدم خیر سے پھر آئے:اس مصرعے میں ایک بہت خوبصورت نکتہ بیان کیا گیا ہے کہ عرش ان قدموں کی عظمت کو پہلے سے پہچانتا اور ان کے چھونے کو اپنے لئے شرف اور اعزاز جانتا ہے،جبھی تو وہ حضور کی آمد پر فخر کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ یہ وہی مبارک قدم ہیں جن کے آنے سے میری عزت کو چار چاند لگ گئے اور جو حقیقت میں میرے لئے تاج کی طرح ہیں۔معلوم ہوا کہ عرش کی بلندی اپنی جگہ،مگر حضور کے قدموں کی عظمت اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔
40
یہ سن کے بے خود پکار اُٹھا نثار جاؤں کہاں ہیں آقا
پھر ان کے تلووں کا پاؤں بوسہ یہ میری آنکھوں کے دِن پھرے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:بے خود:مست و بے ہوش۔نثار ہونا: قربان ہونا۔تلوا:پاؤں کا نچلا حصہ۔
مفہومِ شعر:حضور کی آمد کی نوید سن کر عرشِ اعظم اپنی قسمت پر ناز کرتے ہوئے وجد میں آکر کہنے لگا کہ قربان جاؤں!کہاں ہیں میرے آقا؟کب تشریف لا کر میرے سینے پر اپنی نعلین رکھ رہے ہیں تاکہ میں ان کے قدموں کا بوسہ لوں،نعلین کے تلووں کو چوموں!میرے تو نصیب جاگ گئے ہیں کہ ان کی زیارت کا موقع مل رہا ہے۔
شرح:مواہبِ لدنیہ میں ہے:جب حضور عرش پر پہنچے تو عرشِ معلیٰ نے آپ کے دامن کو مضبوطی سے تھام لیا ۔([1])
سبحٰن اللہ!معلوم ہوا کہ عشق کا ذوق صرف انسان ہی نہیں رکھتے بلکہ کائنات کی ہر چیز عشقِ مصطفےٰ کی لذت و حلاوت کو محسوس کرتی ہے جیسے کھجور کے تنے کا حضور کی جدائی میں بلک بلک کر رونا،([2]) پتھر کا حضور کو سلام کرنا،([3]) درختوں کا حکم پر عمل کرنا،([4]) احد پہاڑ کا جھومنا وغیرہ۔([5])تو وہ انسان کتنا خوش قسمت ہے جو عقل و شعور کے ساتھ عشقِ الٰہی سے معمور ہو اور حضور کی شان و عظمت کو بھی بخوبی تسلیم کرے!
41
جھکا تھا مجرے کو عرشِ اَعلیٰ گرے تھے سجدے میں بزمِ بالا
یہ آنکھیں قدموں سے مَل رہا تھا وہ گرد قربان ہو رہے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:مجرے کو جھکنا:تعظیماً سلام و آداب کے لئے جھکنا۔بزمِ بالا: مقدس فرشتوں کی جماعت۔
مفہومِ شعر:معراج کی رات عرش اعلیٰ تعظیماً جھک گیا اور اپنی آنکھیں حضور کے قدموں سے مَلنے لگا،جبکہ فرشتے حضور کے گرد قربان ہو رہے تھے اور سجدۂ شکر ادا کر رہے تھے۔
شرح:حضور کی عرش وکرسی تک رسائی اور عرش کی محبت و جانثاری کا ذکر جاری ہے کہ حضور جب عرش پر پہنچے تو عرش با ادب جھک کر اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے سلامی دینے لگا جبکہ مقدس فرشتے سجدے میں گرگئے کہ اے اللہ!تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمیں گھر بیٹھے ہی اپنے محبوب کا دیدار کرا دیا۔ عرش کی عقیدت کا انداز تو یہ تھا کہ وہ آپ کے قدموں پہ اپنی آنکھوں کو مَل مَل کے تلووں کے خوب بوسے لے رہا تھا اور اپنی خوش نصیبی پہ رشک کر رہا تھا جبکہ فرشتے آپ کے اردگرد قربان ہو رہے تھے اور گویا یوں کہہ رہے تھے:
انہی کی محفل سجا رہے ہیں چراغ ہمارا ہے رات ان کی
انہی کے مطلب کی کہہ رہے ہیں زباں ہماری ہے بات ان کی
امیرِ اہلِ سنت اس کی منظرکشی یوں فرماتے ہیں:
ہیں صَف آرا سب حور و ملک اور غِلماں خلد سجاتے ہیں
اِک دھوم ہے عرشِ اعظم پر مہمان خدا کے آتے ہیں
42
ضیائیں کچھ عرش پر یہ آئیں کہ ساری قندیلیں جھلملائیں
حضورِ خورشید کیا چمکتے چراغ منھ اپنا دیکھتے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:ضیائیں:روشنیاں۔قندیلیں:فانوس۔
مفہومِ شعر:آپ کی تشریف آوری سے عرش معلیٰ پر کچھ ایسی روشنیاں اٹھیں جن کے سامنے تمام فانوس مدھم پڑ گئے، آفتابِ رسالت کے سامنے گویا یہ سب چراغ اپنا منہ دیکھنے لگے۔
شرح:جب حضور عرش پر جلوہ گر ہوئے تو ایسی روشنی پھیلی کہ عرش کی تمام قندیلیں،چاند،سورج اور ستارے مدھم پڑ گئے، جیسے سورج کے سامنے چراغ کی روشنی کیا کرے،وہ بھی بس اپنا سا منہ لئے رہ گئے اور ویسے بھی ان چاند ستاروں میں جو نور ہے وہ سب حضور کے نور کا ہی صدقہ ہے۔جیسا کہ حدیثِ نور میں مذکور ہے(جو شعر نمبر 15 کے تحت بیان ہو چکا ہے۔)
تیرے ہی ماتھے رہا اے جان سہرا نور کا
بخت جاگا نور کا چمکا ستارا نور کا
تو ہے سایہ نور کا ہر عضو ٹکڑا نور کا
سایہ کا سایہ نہ ہوتا ہے نہ سایہ نور کا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ڈبل ایم اے (اردو،مطالعہ پاکستان)
گوجرہ منڈی بہاؤ الدین
[1] مواہب لدنیہ،2/388
[2] بخاری،2/496،حدیث:3583
[3] مسلم،ص 962،حدیث:5939 ماخوذاً
[4] مسلم،ص1227،1226،حدیث:7518ماخوذاً
[5] بخاری،2/524،حدیث:3675 ماخوذاً
Comments