رات دیر تک جاگنے کے نقصانات
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع: رات دیر تک جاگنے کے نقصانات


محترمہ بنتِ محمد اختر انصاری(فرسٹ پوزیشن)

(طالبہ جامعۃ المدینہ عبدالغفار منزل آفندی ٹاؤن حیدر آباد)

اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا(۴۷) (پ19،الفرقان: 47)

ترجمہ:اور وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لئے پردہ اور نیند کو آرام بنایا اور دن کو اٹھنے کے لئے بنایا۔یعنی رات بنانے کی ایک اہم وجہ نیند ہے جس سے جسم چین پاتا ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تفسیر صراط الجنان جلد 7 صفحہ 36 میں ہے:نیند کو تمہارے بدنوں  کے لئے راحت اور کام کاج چھوڑ دینے کا وقت بنایا  دن کو نیند سے اٹھنے کے لئے بنایا تاکہ تم دن میں روزی تلاش کرو اور کام کاج میں مشغول ہو۔([1])

معلوم ہوا!انسانی جسم کے لئے پرسکون نیند بہت اہم ہے جس کے حصول کے لئے اللہ پاک نے ایک مکمل وقت پیدا فرمایا اور کلام اللہ میں اس کا ذکر فرمایا تاکہ انسان دن بھرکے کام کاج سے فارغ ہو کر کچھ گھڑی جسم کو آرام دے کر پھر سے اگلے دن کے لئے تیاری کرے۔تجربہ بھی ہے کہ رات کو جلد سونے کی روٹین رکھنے والے بہترین جسمانی صحت کے حامل ہوتے ہیں جبکہ رات جاگ کر گزارنے والے کا اگلا سارا دن تھکا تھکا اور بے ربط گزرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی 70 فیصد آبادی ڈپریشن و جسمانی تھکاوٹ جیسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہے،کیونکہ تحقیق کے مطابق دماغ کے خلئے Cells اگر مسلسل حرکت میں رہیں اور انہیں آرام کا وقت نہ ملے تو ان سےFree Radicals خارج ہوتے ہیں جو جسم کے تندرست خلیوں پر حملہ آور ہو کر انہیں کمزور کر دیتے ہیں اور انسان مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جن میں  انزائٹی و ڈپریشن نمایاں بیماریاں ہیں۔

مزید چند نقصانات درج ذیل ہیں:

1۔رات دیر تک جاگنے سے چونکہ نیند میں کمی آتی ہے اور نیند کی کمی سے قوتِ مدافعت میں واضح کمی ہوتی ہے، لہٰذا جب طرح طرح کے امراض حملہ آور ہوتے ہیں تو جسم اس کے خلاف بچاؤ کی کوئی طاقت نہیں رکھ پاتا، یہ رات جاگنے کا سب سے بڑا نقصان ہے۔

2۔دیر تک جاگنے سے انسان کو بھوک بھی ستاتی ہے اور تحقیق کے مطابق انسان کو رات کے وقت کیلوریز کھانے کا دل کرتا ہے جس سے وزن میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے اور انسان موٹاپے کا شکار ہو کر مزید بیماریوں کو دعوتِ عام دے رہا ہوتا ہے۔

3۔نیند کی مسلسل کمی ہارٹ اٹیک اور فالج کے خطرے کو بھی جنم دیتی ہے۔

4۔نیند کی کمی یادداشت میں بھی کمی لاتی ہے اور انسان کو دیگر ذہنی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

5۔آج کل لڑکیوں سے ہارمونز ڈسٹربنس کی شکایت بھی بہت سننے کو ملتی ہے جس کی ایک اہم وجہ رات دیر تک جاگنا ہے۔

 ہمارے یہاں طلبہ و طالبات میں رات جاگ کر پڑھنے کا رجحان ہوگیا ہے حالانکہ طالبِ علم کے لئے رات دیر تک جاگنا زہرِ قاتل ہے۔درست طریقہ یہ ہے کہ نمازِ عشا سے پہلے اپنے تمام معاملات نمٹا کر بعد نمازِ عشا ایک لمبی نیند لی جائے اور بجائے رات جاگ کر پڑھنے کے عشا کے بعد کی ایک نیند لے کر نمازِ تہجد کا اہتمام کرکے اسباق کا مطالعہ کیا جائے ان شاء اللہ الکریم دین و دنیا کی راحتیں نصیب ہوں گی۔اللہ پاک ہمیں صحت جیسی عظیم نعمت کی قدر کی توفیق نصیب فرمائے۔

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

محترمہ بنتِ ارشد عطاریہ

(طالبہ:درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ)

رات دیر تک جاگتے رہنا صحت کے لئے بہت نقصان ثابت ہوتا ہے۔ہمارا دینِ اسلام بھی ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ رات کو جلدی سویا جائے اور صبح سویرے اٹھا جائے،چنانچہ فرمانِ الٰہی  ہے:

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًاؕ- 11، یونس:67)

ترجمہ:وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو آنکھیں کھولنے والا بنایا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تفسیر صراط الجنان جلد 4 صفحہ 353 پر ہے:وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ اس میں راحت و سکون حاصل کرو  اور آرام کر کے دن بھر کی تھکان دور کرو اور دن کو آنکھیں کھولنے والا بنایا تاکہ تم اس کی روشنی میں اپنی ضروریاتِ زندگی اور اسبابِ معاش فراہم کر سکو۔([2])

رات دیر تک جاگنے کے نقصانات

روحانی نقصان:

رات دیر تک جاگنے کا ایک سب سے بڑا روحانی نقصان یہ ہے کہ فجر کی نماز قضا ہونے کا بہت خطرہ ہوتا ہے،اسی وجہ سے حضور  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  عشا سے پہلے سونے کو اور عشا کے بعد گفتگو کو مکروہ جانتے تھے۔([3])

اس حدیثِ پاک کے تحت شارحِ بخاری علامہ بدرالدین عینی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:نماز کے بعد گفتگو کرنا مکروہ اس لئے ہےکہ یہ ساری رات کی بیداری کی طرف لے جاتا ہے  اور اس سے قیام اللیل اوررات میں ذکر یا  فجر کی نماز  کے وقت نیند کے غلبے کا خوف ہے۔([4])بہارِ شریعت میں ہے:جب یہ اندیشہ ہو کہ صبح کی نماز جاتی رہے گی تو بلا ضرورتِ شرعیہ رات میں دیر تک جاگنا ممنوع ہے۔([5])

معاشی نقصان:

رات دیر تک جاگنا اور صبح دیر سے اٹھنا رزق میں تنگی کا باعث ہے خاص طور پر چھٹی کے دن بہت دیر تک سونا قابلِ توجہ ہے۔ حديثِ پاک میں ہے:صبح کے وقت سونا رزق کو روک دیتا ہے۔([6])

خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃ الزہرا  رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں: حضور  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم صبح کے وقت میرے پاس سے گزرے،میں اس وقت  لیٹی ہوئی تھی تو آپ نے اپنے پاؤں مبارک سے مجھے ہلایا اور فرمایا:اے میری بیٹی!کھڑی ہوجاؤ! اپنے رب کے رزق کے لئے حاضر ہوجاؤ اور غفلت والوں میں سے نہ ہو،بے شک اللہ پاک  طلوعِ فجر سے طلوعِ شمس کے درمیان  لوگوں میں رزق تقسیم فرماتا ہے۔([7])

طبی نقصانات:

جدید سائنسی تحقیق کے مطابق رات دیر تک جاگنے والوں کو یہ امراض لاحق ہو جاتے ہیں:*اچانک موت کا خطرہ* دل کے امراض اور فالج*ذیابیطس*نفسیاتی مسائل* حیاتیاتی گھڑی Circadian Rhythm میں خلل وغیرہ۔

اللہ پاک ہمیں رات کو وقت پر سونے اور صبح تہجد کے وقت اٹھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم




[1] تفسیر خازن،3/374

[2] تفسیر خازن،2/324

[3] بخاری،1/208،حدیث:568

[4] عمدۃ القاری،4/93،تحت الحدیث:568

[5] بہار شریعت،1/701،حصہ:4

[6] شعب الایمان،4/ 180،حدیث:4731

[7] شعب الایمان،4/ 181،حدیث:4735


Share