موضوع:محروم کرنے کی مذمت
(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 43ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کیے جا رہے ہیں۔)
محروم کرنے کے معنی ہیں کسی کو کسی نعمت، حق، فائدے یا موقع سے دور رکھنا یا اس سے باز رکھنا۔محرومی صرف مال یا دولت سے نہیں بلکہ محبت،انصاف،علم اور عزت سے بھی ہو سکتی ہے۔اسلام انسانیت،انصاف اور بھائی چارے کا دین ہے۔اس میں کسی کو اس کے حق سے محروم کرنا سخت گناہ قرار دیا گیا ہے چاہے وہ حق مالی ہو، تعلیمی ہو یا اخلاقی۔کسی کو محروم کرنا ظلم کی ایک شکل ہے اور اسلام ظلم کے ہر پہلو کی مذمت کرتا ہے، کیونکہ ظلم معاشرے کے سکون اور عدل کو ختم کر دیتا ہے۔ذیل میں محروم کرنے کی مختلف صورتوں کی مذمت بیان کی جارہی ہے:
وارث کو وراثت سے محروم کرنا:
شریعت کے مطابق میراث تقسیم نہ کرنا یا کسی وارث کو محروم کرنا اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نافرمانی ہے۔اللہ پاک فرماتا ہے:
یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ-لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ
(پ 4، النسآء:11)
ترجمہ:اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے،بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اسی طرح حدیثِ پاک میں ہے:جس نے اللہ و رسول کی مقرر کردہ میراث کو کاٹا،اللہ پاک اس وجہ سے جنت میں اس کی میراث کو کاٹ دے گا۔([1])
میاں بیوی کا ایک دوسرے کو حقوق سے محروم کرنا:
اسلام میں میاں بیوی کے حقوق کو بہت اہمیت دی گئی ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:خبردار! بیویوں کا تم پر حق ہے کہ اوڑھنے پہننے اور کھانے پینے کے معاملات میں اُن کے ساتھ بھلائی سے پیش آؤ۔([2])اور عورتوں کے متعلق فرمایا: عورت جب تک شوہر کا حق ادا نہ کرے،ایمان کی مٹھاس حاصل نہیں کرسکتی۔([3])
بچوں کو شفقت سے محروم کرنا:
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا اور بڑوں کا ادب نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں۔([4])یہ حدیث ان سنگ دل لوگوں کے لئے سببِ عبرت ہے جو بچوں پر ظلم کرتے یا بلا وجہ ڈانٹتے رہتے ہیں۔بچوں سے شفقت اور محبت ہی اُن کی بہتر تربیت کی بنیاد ہے۔
لوگوں کو اچھے اخلاق سے محروم کرنا:
جو لوگ دوسروں سے اچھے اخلاق سے پیش نہیں آتے وہ انفرادی طور پر لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرتے اور اجتماعی طور پر معاشرے کے بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔برا اخلاق انسان کے اچھے اعمال بھی ضائع کروا دیتا ہے جیسا کہ ایک روایت میں ہے:برا اخلاق عمل کو اس طرح خراب کرتا ہے جیسے سرکہ شہد کو خراب کرتا ہے۔([5])
لوگوں کو اُن کے جائز حقوق سے محروم کرنا:
جو شخص اپنے فائدے کے لئے دوسروں کے حقوق دباتا ہے، وہ اپنا ایمان کمزور کر دیتا ہے، اللہ پاک فرماتا ہے:
فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ
(پ8،الاعراف:85)
ترجمہ:تو ناپ اور تول پورا پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اولاد کو تعلیم و تربیت سے محروم کرنا:
تعلیم انسان کے مقام کو بلند کرتی ہے۔جو والدین اپنی اولاد کو اچھی تعلیم و تربیت سے محروم رکھتے ہیں،وہ در اصل اُن کے ساتھ نا انصافی کرتے اور اُنہیں جہالت و گمراہی کے اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ
(پ 28، التحریم:6)
ترجمہ:اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہ آیت والدین کو اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کی ذمہ داری یاد دلاتی ہے۔
اللہ کریم ہمیں دوسروں کے حقوق ادا کرنے اور کسی کو بھی محروم کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
محترمہ بنتِ ساجد علی
(جامعۃ المدینہ فیضان رضا سرجانی ٹاؤن کراچی)
انسانی معاشرہ عدل،انصاف اور مساوات کے مضبوط اصولوں پر قائم ہوتا ہے،جب کبھی ان اصولوں کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو محرومی جنم لیتی ہے۔یہ محرومی کئی صورتوں میں ظاہر ہو سکتی ہے:عورتوں کے حقوق کی پامالی، بچوں کو تعلیم کے مواقع سے محروم رکھنا، یا کمزور طبقے کو انصاف سے دور کر دینا۔اس طرح کی محرومیاں نہ صرف افراد کو متاثر کرتی ہیں بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے کو کمزور کر دیتی ہیں اور باہمی اعتماد کو مجروح کر دیتی ہیں۔دینِ اسلام نے ان محرومیوں کو سختی سے منع فرمایا ہے اور ہر سطح پر عدل و انصاف کے قیام پر زور دیا ہے۔اسلام انسان کو سکھاتا ہے کہ ہر حق دار کو اس کا حق دیا جائے اور معاشرہ رحمت،توازن اور انصاف کی بنیاد پر قائم رکھا جائے۔فرمانِ الٰہی ہے
وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ(۱) الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ(۲) وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ(۳)
(پ 30، المطففین، 1 تا3)
ترجمہ:کم تولنے والوں کے لئے خرابی ہے وہ لوگ کہ جب دوسرے لوگوں سے ناپ لیں تو پورا وصول کریں اور جب انہیں ناپ یا تول کر دیں تو انہیں کم کر دیں۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہ آیت انصاف سے محروم کرنے والوں کی مذمت کرتی ہے۔ایک مقام پر ہے:
كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُم
(پ 28، الحشر:7)
ترجمہ:تاکہ وہ دولت تمہارے مالداروں کے درمیان (ہی)گردش کرنے والی نہ ہوجائے۔معلوم ہوا!دولت اور وسائل کو امیروں تک محدود رکھنا بڑی محرومی کی صورت ہے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
محرومی کے اسباب
حسد:
حسد ایک باطنی مرض ہے۔حاسد محسود کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتا اور اسی حسد کی وجہ سے وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے محروم کرنے کی:تعلیم سے،حقوق العباد سے،عورتوں کو جائیداد سے، غریبوں کو زکوٰۃ سے، اہل کو منصب سے۔
برتری:
جس کے اندر اپنی برتری کا سکہ بٹھانے کا جذبہ ہو وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ ہر طرف میرا ہی چرچا ہو اور اس مذموم جذبے کے تحت وہ مقابل کو محروم کرنے کی کوشش کرتا ہے،جبکہ اصل برتری تو لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں ہے نہ کہ محروم کرنے میں۔
مال ودولت کا لالچ:
مال و دولت کا حریص یہ چاہتا ہے کہ سب سے سب کچھ چھین کر بس مجھے مل جائے اور اسی وجہ سے وہ دوسروں کو محروم کر کے سکون حاصل کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے جبکہ اگر ہم اسلامی تعلیمات پر غور کریں تو ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ امیر لوگ اپنی زکوۃ غریب لوگوں کو دیں تاکہ ان کی ضرورتیں پوری ہوں۔
ایک مومن کو چاہیے کہ وہ خود بھی کسی پر ظلم نہ کرے اور لوگوں کو بھی ظلم کرنے سے روکے ورنہ معاشرے میں تفریق،فسادات اور بغاوت بڑھنے کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے انسانی رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور محبت ختم ہو جاتی ہے۔
[1] شعب الایمان، 6/224، حدیث:7965
[2] ترمذی، 2/387، حدیث:1166
[3] مستدرک، 5/ 240، حدیث:7405
[4] ترمذی، 3/369، حدیث:1926
[5] معجم اوسط، 1/247، حدیث:850
Comments