اُمت مسلمہ پر ظلم اور مسلمانوں کی مجرمانہ خاموشی
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


اہم نوٹ:ان صفحات میں ماہنامہ خواتین کے 43ویں تحریری مقابلے میں موصول ہونے والے152مضامین کی تفصیل یہ ہے:


عنوان

تعداد

عنوان

تعداد

عنوان

تعداد

حضورکی اللہ پاک سے محبت

65

محروم کرنے کی مذمت

42

مسلمانوں پر ظلم اور اُمّتِ مسلمہ کی مجرمانہ خاموشی

45

مضمون بھیجنے والیوں کے نام

حضور کی اللہ پاک سے محبت:

حیدر آباد:لطیف آباد نمبر 8:بنت سید جاوید اقبال۔سیالکوٹ:پاکپورہ:بنت سید ابرار حسین،بنت شاہد۔تلواڑہ مغلاں: بنت وسیم علی،بنت جاوید،بنت عارف  حسین،بنت محمد عاصم شہزاد،بنت طارق محمود،بنت محمد لطیف،بنت شمس الزماں،بنت شفیق،بنت اظہر حسین، بنت محمد انور،بنت محمد ارشد،بنت جواد،بنت ناصر محمود،بنت شاہد،بنت محمد اسلم،بنت فیصل مجید،بنت منیر احمد،بنت محمد اسلام،بنت فیصل مجید۔شفیع کا بھٹہ:ہمشیرہ محمد منیب،بنت ندیم جاوید،بنت سید حسنین شاہ،ہمشیرہ حامد،بنت سید عاشق حسین شاہ،بنت سعید،بنت نواز،بنت خوشی محمد، بنت عثمان علی،بنت محمد سلیم،بنت اشفاق احمد،بنت فضل الٰہی،ہمشیرہ حنظلہ صابر،بنت شاہ حسنین،بنت طارق محمود،بنت محمد احسن،بنت رزاق بٹ، بنت تنویر اختر،ہمشیرہ محمد اسماعیل۔گلبہار:بنت محمد شہباز،اخت فیصل خان،بنت ایاز خان،بنت علی احمد،بنت محمد ارشد۔مظفر پورہ:بنت حافظ محمد شبیر، بنت محمد نواز۔معراج کے:بنت محمد افضل بھٹی،بنت محمد ذو الفقار،بنت محمد ادریس،بنت نور حسین،بنت محمد منیر،بنت عبد الستار،بنت محمد جاوید،بنت محمد شفیق۔نند پور:بنت محمد الیاس،ہمشیرہ امیر حمزہ،بنت عبد الستار مدنیہ۔نواں پنڈ آرائیاں:بنت سوداگر حسین،بنت اختر۔کراچی:فیضان رضا:بنت اسلم۔ گوجرانوالہ:کامونکی:بنت رمضان۔ملتان:جلال پور:بنت اسلم۔عرب شریف:بنت اسلم ۔

محروم کرنے کی مذمت:

سیالکوٹ:تلواڑہ مغلاں:خوشبوئے مدینہ،بنت نصیر احمد،بنت اعجاز احمد،بنت جاوید اقبال،بنت مطہر محمود،بنت ذو الفقار،بنت محمد جمیل،بنت غلام مصطفےٰ،بنت محمود،بنت شکور،بنت محمد عمر۔شفیع کا بھٹہ:بنت محمد ندیم،بنت عارف محمود،بنت ہمایوں،بنت محمد جمیل،ہمشیرہ علی حسن کریمی،بنت محمد نعیم،ہمشیرہ عمر جٹ،بنت محمد اصغر مغل،ہمشیرہ حنظلہ صابر،بنت شمس پرویز،ہمشیرہ حامد،بنت امجد پرویز۔گلبہار:بنت محمد شہباز۔ مظفر پورہ:بنت محمد طارق،بنت عاشق،بنت نعمان شہزاد۔معراج کے:بنت اظہر علی،بنت محمد یونس،بنت محمد رفیق،بنت محمد اشرف۔نند پور:بنت محمد الیاس،ہمشیرہ امیر حمزہ،بنت عبد الستار مدنیہ۔نواں پنڈ آرائیاں:بنت اختر۔فیصل آباد:جھمرہ سٹی:بنت محمد انور۔چباں:بنت ارشد محمود۔قصور: تلونڈی: بنت اصغر علی۔کراچی:فیضان رضا:بنت ساجد علی۔گلشن معمار:بنت محمد اکرم۔گوجرانوالہ:کامونکی:بنت رمضان۔عرب:بحرین:بنت مقصود ۔

مسلمانوں پر ظلم اور اُمّتِ مسلمہ کی مجرمانہ خاموشی:

بہاولپور:یزمان:بنت یونس۔حیدر آباد:عبد الغفار منزل:بنت سید جاوید اقبال۔خانیوال:کوہی والا: بنت اللہ نور۔ساہیوال:طارق بن زیاد کالونی:بنت شفقت علی۔سیالکوٹ:تلواڑہ مغلاں:بنت رزاق احمد،بنت مدثر اقبال،بنت احمد رضا،بنت اظہر بخاری،بنت رضا مصطفےٰ،بنت محمد خلیل تبسم،بنت فیصل،بنت عدنان حبیب،بنت شہباز،بنت سائیں ملنگا،بنت بشارت علی،بنت محمد یاسین، بنت محمد نعیم،بنت ناصر محمود۔شفیع کا بھٹہ:بنت آصف اقبال،بنت کرامت علی،بنت عبد المجید،بنت عرفان،بنت صغیر احمد۔گلبہار:بنت فیاض احمد، بنت خالد حسین۔مظفر پورہ:بنت محمد طارق،بنت محمد نواز۔معراج کے:بنت محمد عارف،بنت لیاقت علی،بنت طاہر حسین۔نند پور:بنت محمد الیاس، بنت عبد الستار مدنیہ۔نواں پنڈ آرائیاں:بنت اختر۔کراچی:فیضان رضا:بنت ساجد علی،بنت محمد ندیم صدیقی۔گلشن معمار:بنت محمد اکرم۔ناظم آباد 1: بنت منور خان۔گوجرانوالہ:کامونکی:بنت رمضان۔لاہور:جوہر ٹاؤن:بنت صابر۔گلبرگ ٹاؤن:بنت سلطان۔ملتان:جلال پور:بنت اسلم۔میانوالی:ڈھبہ کرسیال:بنت محمد اقبال،بنت محمد شوکت۔


اُمتِ مسلمہ پر ظلم اور مسلمانوں کی مجرمانہ خاموشی

(فرسٹ پوزیشن) محترمہ بنتِ طاہر حسین(معراج کے سیالکوٹ )

ظلم کا مطلب ناانصافی،زیادتی اور حق کے خلاف کوئی بھی عمل ہے،جس میں کسی کی چیز چھین لینا،استحصال یا سختی کرنا بھی شامل ہے۔ اسی طرح گناہ اور غلط کاری بھی ظلم کہلاتی ہے۔ظلم انتہائی قابلِ مذمت ہے۔آج بعض جگہوں پر مسلمان شدید مظالم کا شکار ہیں،مگر دیگر مقامات کے مسلمان خاموش ہیں، حالانکہ سب ایک جسم کی طرح ہیں۔جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ مسلمانوں کی باہم دوستی،رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے۔جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں  ہوتا ہے تو پورا جسم بے خوابی اور بخار کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔([1])

اگر ہاتھ یا پاؤں کی ایک انگلی کے ناخن میں معمولی تکلیف بھی ہو تو پورا جسم بے قرار ہو جاتا ہے، کیونکہ جسم کے تمام اجزا ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔اسی طرح جب ایک مسلمان کسی تکلیف یا پریشانی میں مبتلا ہو تو تمام مسلمانوں کو بے چین ہو جانا چاہیے،کیونکہ ان کے درمیان ایمان کا رشتہ موجود ہے۔کسی مسلمان بھائی کو دکھ میں دیکھ کر رنگ،نسل،وطن یا علاقے کا فرق نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اس کی مدد کے لئے آگے بڑھنا چاہیے۔یہی وہ عظیم جذبہ ہے جو اسلام نے اپنے ماننے والوں میں پیدا کیا کہ ایک کی تکلیف سب کی تکلیف ہے۔

اپنی طاقت کے مطابق ظلم  روکنے کا حکم:

ایک روایت میں ہے: تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے، اسے چاہیے کہ اپنے ہاتھ سے  روکے،اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے،اگر اس کی بھی  طاقت نہ ہو تو دل سے(بُرا جانے)اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔([2])مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ  اس روایت کی شرح میں فرماتے ہیں:بُرائی کو بدلنے کے لئے ہر طبقے کو اس کی طاقت کے مطابق ذمہ داری سونپی گئی کیونکہ اسلام میں کسی بھی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی۔اربابِ اقتدار،اساتذہ،والدین وغیرہ جو اپنے ماتحتوں کو کنٹرول کر سکتے ہیں وہ قانون پر سختی سے عمل کرا کے اور مخالفت کی صورت میں سزا دے کر برائی کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔مبلغینِ اسلام،علما و مشائخ،ادیب وصحافی اور دیگر ذرائع ابلاغ مثلاً ریڈیو اور ٹی وی وغیرہ سے سبھی لوگ اپنی تقریروں تحریروں بلکہ شعرا  اپنی نظموں کے ذریعے برائی کا قلع قمع کریں اور نیکی کوفروغ دیں۔بِلِسَانِہٖ(زبان سے روکنے)کے تحت یہ تمام صورتیں آتی ہیں اور عام مسلمان جسے اقتدار کی کوئی صورت بھی حاصل نہیں اور نہ ہی وہ تحریر و تقریر کے ذریعے برائی کا خاتمہ کر سکتا ہے وہ دل سے اس برائی کو برا سمجھے،اگرچہ یہ ایمان کا کمزور ترین مرتبہ ہے۔کیونکہ کوشش کر کے زبان سے روکنا چاہیے لیکن دل سے جب برا سمجھے گا تو یقیناً  خود برائی کے قریب نہیں جائے گا اور اس طرح معاشرے کے بے شمار افراد خود بخود راہِ راست پر آ جائیں گے۔حدیث شریف سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ جو آدمی برائی کو دل سے بھی برا نہ جانے اسے اپنے آپ کو مومنین میں شمار کرنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ دل سے برا سمجھنے میں تو کسی کا ڈر نہیں،پھر بھی برا نہیں سمجھتا  تو معلوم ہوا وہ اس پر راضی ہے۔([3])

مظلوم کی مدد کا حکم:

فرمانِ مصطفےٰ  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  ہے:اپنے بھائی کی مدد کرو،خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ایک شخص نے عرض کی:یا رسولَ اللہ!مظلوم کی تو میں مدد کرتا ہوں لیکن ظالم کی مدد کس طرح کروں؟ارشاد فرمایا:اسے روکو یا ظلم کرنے سے منع کرو کیونکہ یہی اس کی مدد ہے۔([4])

حدیثِ پاک کا مفہوم:

شارح حدیث سید محمود احمد رضوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:روحِ حديث یہ ہے کہ تمام  دنیا کے مسلمانوں کے درمیان اسلامی رشتے کی بنیاد پر ایک دوسرے پر جو حقوق ہیں ان کا لحاظ رکھنا چاہیے۔بلا وجہ کسی مسلمان پر ظلم وزیادتی کرنا تو حرام و نا جائز ہے لیکن اسلامی رشتے کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو نشانۂ ظلم بننے کے لئے بے مدد نہ چھوڑا جائے اور حتی المقدور اس کی قانونی،مالی اور اخلاقی امداد کی جائے۔([5])  لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اُمتِ مسلمہ پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اور ان کی مدد کے لئے عملی اقدامات کریں۔اللہ پاک ہمیں ظلم کے خلاف قدم اٹھانے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم




([1])مسلم،ص1071،حدیث:6586

([2])مسلم،ص49،حدیث:177

([3])مراٰۃ المناجیح، 6 /503 مکتبہ اسلامیہ

([4])بخاری،4/389 ، حدیث:6952

([5]) فیوض الباری ،9 /238


Share