عطا کیجئے
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:عطا کیجئے

ویسے تو کسی بڑے کا اپنے سے چھوٹے کو کچھ دینا عطا کہلاتا ہے مگر مطلقاً کسی کو بغیر طلب اور بغیر کسی بدلے کے کچھ دینے، بخشش وسخاوت کرنے کو بھی عطا سے تعبیر کیا جاتا ہے، چاہے وہ دی جانے والی چیز مال،علم، وقت، توجہ، حقوق، دعا اور مسکراہٹ ہی کیوں نہ ہو۔پیارے آقا نے افضل ترین اعمال کے متعلق ارشاد فرمایا:جو تم سے تعلق توڑے اس سے تعلق جوڑو،جو تمہیں محروم کرے اسے عطا کرو اور جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کر دو۔([1])عطا کے پیچھے نیت اور جذبہ ہی اصل قیمت رکھتا ہے، نہ کہ مقدار۔ ایک مسکراہٹ، ایک مشورہ، ایک دعا یا ایک قطرہ پانی بھی عطا میں شامل ہے اگر اس میں اخلاص موجود ہو۔ عطا کرنا ایک ایسا عمل ہے جو انسان کی اعلیٰ ظرفی، دل کی نرمی اور روح کی بلندی کی عکاسی کرتا ہے، عطا کرنے میں رب کی شانِ کریمی کی جھلک اور اس کی محبت کا اثر پایا جاتا ہے۔حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:خالص محبت کی ایک علامت کسی کے مانگے بغیر اس کو عطا کرنا بھی ہے۔([2])

عطا کرنے والیوں کے اوصاف:

عطا کرنے والیاں با ہمت، لوگوں کی پسندیدہ،معاف کرنے  وخیال رکھنے والیاں،اللہ سے ڈرنے اور حضور کی اطاعت کرنے والیاں ہوتی ہیں۔عطا کرنا سعادت مندوں کا کام ہے کہ جسے عطا کرنے کا حوصلہ ملا اسے حسنِ اخلاق کے بہت سارے حصے مل گئے،ارشادِ نبوی ہے: لوگوں کو حُسنِ اخلاق سے زیادہ کوئی اچھی چیز عطا نہیں کی گئی۔([3])

والدین پر عطائیں:

عطا کے سب سے پہلے حق دار والدین ہیں، ان کو وقت اور مال عطا کیجئے، وہ بڑھاپے کی وجہ سے چڑچڑے ہوجائیں،بیماریوں سے بیزار ہو کر کبھی آپ پر بڑبڑائیں تب بھی اپنی پیار بھری مسکراہٹ ان کو عطا کیجیے،یہ وہ ہستیاں ہیں جن کے حقوق ادا کرنا ممکن نہیں،کیونکہ انہوں نے اپنی چاہت اور محبت سے ہمیں پالا پوسا۔لہٰذا ان سے محبت اور احترام کا اظہار کیجئے۔حضرت بایزید بسطامی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اللہ پاک نے مجھے جو شان و عظمت عطا فرمائی،اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے اپنی والدہ کی بہت خدمت کی ہے۔([4])

اولاد پر عطائیں:

بعض خواتین اپنی اولاد کو وہ وقت نہیں دے پاتیں جو ضروری ہوتا ہے،حالانکہ تربیت کا اصل حق ماں کے خصوصی وقت اور توجہ سے ادا ہوتا ہے۔بچے اگر تنگ کریں تو بھی رویہ نرم رکھیے، کوسنوں کے بجائے دعائیں دیجئے اور غصے پر قابو پائیے۔اپنی اولاد کو وقت، محبت، شفقت اور ضرورت کے مطابق مال عطا کیجئے۔اگر وہ کسی پریشانی میں ہوں تو چند تسلی بخش کلمات بھی بڑی عطا ہوتے ہیں۔اس طرزِ عمل سے آپ اپنے اور بچوں کے دلوں میں مثبت تبدیلی محسوس کریں گی۔ اولاد جوان ہو جائے اور آپ عمر رسیدہ ہوں، تب بھی اپنی عطاؤں کا سلسلہ جاری رکھیے،ان شاء اللہ اس کے ثمرات آپ کی آنکھوں کے سامنے ہوں گے۔

شوہر پر عطائیں:

بعض خواتین اپنے شوہر کی شکر گزار نہیں ہوتیں،حالانکہ شوہر کی طرف سے انہیں بے شمار عطائیں ملتی ہیں۔بیوی کو چاہیے کہ خدمت،محبت اور شکرگزاری کے ذریعے اپنا حصہ ادا کرے،مشکل وقت میں ساتھ دے اور ناگوار رویّے پر صبر کرے۔آج کل بہت سی خواتین یہ سمجھنے لگی ہیں کہ صرف شوہر ہی عطا کرے گا، وہی ہر ضرورت پوری کرے گا اور یہ سب اس کی ذمہ داری ہے لہٰذا یہ کوئی احسان نہیں۔مگر کبھی یہ بھی سوچیں کہ آپ نے اپنے شوہر کو کیا دیا ہے؟سب سے بڑی عطا آپ کا اس کے لئے سکون بن جانا ہے۔شوہر کو سکون دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اُس کے گھر والوں کو خوش رکھیے،خصوصاً اُس کی ماں کی خدمت کیجئے۔غلط سوچ اور بعض اوقات والدین کی بے جا مداخلت گھروں کو برباد کر دیتی ہے، اسی وجہ سے گزشتہ دو دہائیوں میں طلاقوں کی شرح بہت بڑھ گئی ہے۔بزرگ فرماتے ہیں:جو عورت شوہر کے در کی نہیں رہتی، وہ در در کی ٹھوکریں کھاتی ہے۔لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اپنی عطائیں جاری رکھیے، یہی طرزِ عمل زندگی کو خوشگوار بنا دیتا ہے۔

سسرالیوں پر عطائیں:

بعض خواتین صرف میکے والوں کے ساتھ خوش رہتی ہیں،جبکہ نند،جیٹھانی،دیورانی اور ساس انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔یہی رویّہ گھروں میں زیادہ تر خرابیوں کی جڑ بنتا ہے۔اگر انداز بدل لیا جائے تو بہت سی مشکلات خود بخود حل ہو سکتی ہیں۔سسرالی رشتوں کی خوشی اور غم میں شریک ہوں،انہیں محبت اور عزت دیجئے۔ساس کی خدمت و محبت کو اپنی سعادت سمجھیے؛وہ بیمار پڑ جائیں تو دل سے ان کی دیکھ بھال کیجئے،پھر دیکھیے گا کہ ان کی نظر میں آپ چاند سے زیادہ پیاری ہو جائیں گی۔اگرچہ بعض خواتین کے لئے یہ طرزِ عمل مشکل ہے، خاص طور پر جب انہیں سسرال کی طرف سے محرومیاں ملی ہوں،لیکن اصل کامیابی اسی میں ہے جب بدلے کی خواہش دل میں نہ ہو۔عطا اسی وقت با برکت بنتی ہے جب نیت صرف رب کی رضا ہو،کیونکہ اجر دینے والا صرف اللہ پاک ہے۔خلوصِ نیت کے ساتھ کی گئی عطائیں دنیا اور آخرت؛ دونوں جگہ ثمر لاتی ہیں۔

بہن بھائیوں پر عطائیں:

بہن بھائی وہ رشتے ہیں جن کے ساتھ بچپن کی خوشبو،یادوں کی مٹھاس اور محبت کی مضبوطی جڑی ہوتی ہے۔ زندگی کبھی انہیں دور بھی کر دیتی ہے، مگر ایک سچی بہن کے لئے یہ دوری ناقابلِ برداشت ہوتی ہے۔ اگر آپ اپنی طرف سے محبت، نرمی اور عطا کا سلسلہ جاری رکھیں گی تو رشتے کبھی بکھر نہیں پائیں گے۔خواہ انہوں نے کسی وقت آپ کے حق میں کمی کی ہو،پھر بھی حدیثِ مبارک جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو،پر عمل کرتے ہوئے ان سے بھلائی جاری رکھیں۔دل سے معاف کیجئے،تلخی کو نظرانداز کیجئے اور اپنے میٹھے لہجے سے ان کے دلوں کی گرمی دور کیجئے۔یقین رکھیے! عطا اور درگزر رشتوں کو ایسے جوڑتے ہیں کہ برسوں کی دوریاں پل میں سمٹ جاتی ہیں۔

رشتہ داروں پر عطائیں:

خالہ،پھوپھی،ماموں اور چچا؛یہ سب رشتے ہماری بچپن کی خوشیوں کے مرکز تھے۔انہوں نے ہمیں گود میں کھلایا، ہنسایا، پیار دیا اور رونے پر بہلایا۔ان کی یہ بے لوث عطائیں کبھی بھلائی نہیں جا سکتیں۔لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ ان بزرگ رشتوں کا احترام کریں اور اگر کبھی خاندان میں کوئی ناراضی پیدا ہو جائے تو اسے دور کرنے کی کوشش کریں۔ اگر والدین کی خالہ یا پھوپھی سے ٹھن جائے تو صلح کروانے کے لئے اپنا وقت، اپنی سمجھ اور اپنی محنت استعمال کرنا بھی ایک عظیم عطا ہے۔

اسی طرح پڑوسنوں، غریبوں اور عام مسلمان خواتین کے ساتھ بھی بھلائی اور عطا کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ نرم لہجہ بھی ایک بڑی عطا ہے۔اگر کوئی مشکل میں ہو تو مدد کیجئے،کسی کو حقیر نہ جانیے اور کھانا بناتے وقت تھوڑا سا بڑھا کر اس کے گھر بھیج دیجئے؛ یہ سب بھی عطا کی خوبصورت صورتیں ہیں۔

البتہ!یاد رکھیے! عطا کا اصل مقصد اللہ کی رضا ہونی چاہیے۔ اگر کسی بھلائی کے پیچھے ذاتی غرض، لالچ یا فائدے کی نیت ہو تو ایسے عمل کا نتیجہ نہ دنیا میں اچھا نکلتا ہے نہ آخرت میں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکن انٹرنیشنل افئیرز ڈیپارٹمنٹ



[1] ترغیب و ترہیب،3/232،حدیث:27

[2] حلیۃ الاولیاء، 8/411، رقم:12718

[3] معجم کبیر، 1/179، حدیث:463

[4] تذکرۃ الاولیاء، 1/ 132


Share