موضوع: حضور کی اللہ پاک سے محبت
(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 43ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کئے جا رہے ہیں۔)
محبتِ الٰہی انسان کے ایمان کا سب سے بلند درجہ ہے۔اگر اس محبت کی کامل مثال تلاش کی جائے تو وہ صرف اور صرف ہمارے پیارے آقا،حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذاتِ اقدس میں ملتی ہے۔جس طرح حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ذات،صفات اور اخلاق میں کامل ہیں،اسی طرح آپ کی اللہ پاک سے محبت بھی اپنے کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔
حضور کی پوری زندگی اللہ پاک کی رضا اور محبت میں ڈوبی ہوئی تھی۔یہاں تک کہ آپ کی یہ محبت بچپن ہی سے ظاہر تھی۔حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:جب حضور اپنے قدموں پر چلنے کے قابل ہوئے تو باہر نکل کر بچوں کو کھیلتا ہوا دیکھتے،مگر خود کھیل میں شریک نہیں ہوتے تھے۔جب لڑکے آپ کو کھیلنے کے لئے بلاتے تو آپ نہایت سنجیدگی سے فرماتے: میں کھیلنے کے لئے پیدا نہیں کیا گیا۔([1])یہ الفاظ اس بات کا ثبوت ہیں کہ آپ بچپن ہی سے اللہ پاک کی پہچان اور محبت میں ڈوبے ہوئے تھے۔
جب حضور جوانی کی عمر میں پہنچے تو آپ کی ذاتِ اقدس میں ایک عظیم انقلاب ظاہر ہوا۔آپ خلوت پسند ہو گئے اور غارِ حرا کی تنہائیوں میں اللہ پاک کی عبادت میں مشغول رہنے لگے۔ آپ دن رات غور و فکر میں رہتے،کائنات کے مناظر پر تدبر کرتے اور اپنی قوم کے بگڑے ہوئے حالات کی اصلاح کی فکر میں رہتے۔([2]) آپ کے دل میں اللہ پاک کی عظمت، محبت اور قرب کی بے مثال تڑپ پیدا ہوگئی تھی، اسی شوق نے آپ کو زیادہ عبادت، دعا اور یادِ خدا میں مشغول رکھا۔
یہ اللہ پاک کی محبت ہی تھی جس نے حضور کو دنیاوی مشاغل سے ہٹا کر خالقِ حقیقی کے قریب کردیا۔غارِ حرا کی خاموش راتوں میں آپ کی عبادت بندے کے اپنے رب سے عشق کا نہایت حسین منظر پیش کرتی تھی۔انہی تنہائیوں میں آپ اللہ پاک کی عظمت پر غور فرماتے،اسی کے ذکر میں دل لگاتے اور اسی سے التجائیں کرتے۔یہی وہ مبارک لمحات تھے جن میں اللہ پاک نے اپنے محبوب کو اپنے خاص قرب سے مشرف فرمایا۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم رات بھر عبادت میں کھڑے رہتے یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسولَ اللہ!آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟جبکہ اللہ پاک نے آپ کے سبب آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف فرما دئیے؟آپ نے فرمایا: اے عائشہ!کیا میں اللہ پاک کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟([3]) یہ الفاظ آپ کی محبتِ الٰہی کا سب سے اعلیٰ مظہر ہیں۔
آپ کی عبادت،ذکر اور دعا میں عشق اور شکر کے رنگ نمایاں تھے۔دنیا کی کوئی چیز آپ کو اللہ پاک کی یاد سے غافل نہیں کرتی تھی۔حضور کی محبت ہم سب کے لئے بہترین مثال ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنی زندگی کو اللہ پاک کی رضا اور اطاعت کے رنگ میں رنگ لیں۔نماز،ذکر اور خدمتِ خلق وہ راستے ہیں جن سے بندہ اپنے رب کا قرب حاصل کرتا ہے۔ اللہ پاک ہمیں بھی حضور کے نقشِ قدم پر چلنا اور سچی محبتِ الٰہی نصیب فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
(سیکنڈ پوزیشن)محترمہ اُختِ فیصل خان
(درجہ:ثانیہ،فیضانِ اُمِّ عطار گلبہار سیالکوٹ )
ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اللہ پاک سے انتہا درجے کی محبت فرماتے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے خود کو اللہ پاک کی صفات کے رنگ میں رنگ کر دنیا کے سامنے کامل اور حسین نمونہ پیش فرمایا۔حضور کی پوری مبارک زندگی عشقِ الٰہی اور عبادتِ الٰہی میں گزری اور آپ اپنے ربِّ کریم کے تمام احکامات پر کامل پابندی کے ساتھ عمل فرمایا کرتے۔ حضور کی اللہ پاک سے محبت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ آپ حضرت داود علیہ السّلام کی اس دعا کا بہت اہتمام فرماتے:اے اللہ!میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور اس کی محبت بھی جو تجھ سے محبت کرتا ہے۔میں ایسے عمل کی توفیق چاہتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے۔اے اللہ پاک! اپنی اتنی محبت میرے دل میں بھر دے جو میری اپنی ذات، میرے گھر والوں اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ ہو۔ ([4])
سبحان اللہ!حضور نے عشقِ الٰہی کے لئے کتنی پیاری اور جامع دعا اپنی دعاؤں میں شامل فرمائی۔حضور نے اللہ پاک کی محبت حاصل کرنے اور اس پر قائم رہنے کے لئے متعدد دعائیں تعلیم فرمائیں، جو آپ کے قلبِ مبارک میں راسخ عشقِ الٰہی کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہیں۔حضور کے شب و روز اللہ پاک کی عبادت،یاد اور مناجات میں گزرتے تھے۔دنیا کی ظاہری مصروفیات اور راحتوں سے بے نیاز ہو کر حضور صبح وشام اپنے ربِّ کریم کی عبادت میں مشغول رہتے۔آپ اللہ پاک کی رضا کے حصول کے لئے اس قدر عبادت فرماتے کہ کبھی کبھی لمبے قیام کی وجہ سے آپ کے مبارک قدم سوج جاتے۔
ایک مرتبہ جب حضور رات بھر کھڑے ہو کر عبادت فرما رہے تھے تو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسولَ اللہ!آپ ایسا کیوں فرماتے ہیں،جبکہ اللہ پاک نے آپ کے سبب آپ کے اگلوں اور پچھلوں کو معاف فرما دیا ہے؟ اس پر حضور نے انتہائی محبت اور عاجزی کے ساتھ ارشاد فرمایا: اے عائشہ! کیا میں اللہ پاک کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ ([5])
جب اللہ پاک کے گھر سے بلاوا آتا تو حضور لبیک کہتے ہوئے فوراً حاضر ہو جاتے۔بیماری کی حالت میں بھی حضور نماز کو ہرگز ضائع نہ ہونے دیتے تھے۔ ایک مرتبہ گھوڑے سے گر جانے کی وجہ سے جسمِ مبارک کا سیدھا پہلو شدید زخمی ہو گیا اور کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا ممکن نہ رہا،مگر اس کے باوجود آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور باجماعت نماز میں ناغہ نہ فرمایا۔([6])
حضور خوشی میں ہوں یا غم کے عالم میں،سفر میں ہوں یا حضر میں،یہاں تک کہ میدانِ جنگ میں بھی ہوں،ہر حال میں اللہ پاک کی عبادت کرتے اور اپنے ربِّ کریم کی بارگاہ میں انتہائی خشوع کے ساتھ حاضر ہوتے۔
الغرض حضور کے ہر قول و فعل اور ہر عمل سے عشقِ الٰہی و محبتِ الٰہی نظر آتی۔اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمارے سینے کو پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی محبت میں مدینہ بنائے۔
اٰمین بِجاہِ خاتمِ النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
[1] مدارج النبوت، 2/ 21
[2] بخاری،4 /401،حدیث:6982ماخوذاً
[3] مسلم،ص1160،حدیث:7126
[4] ترمذی،5/296،حدیث:3501
[5] مسلم،ص1160،حدیث:7126
[6] بخاری،1/247،حدیث:689 ملخصاً
Comments