نمازوں کے ابتدائی ، انتہائی اور مستحب اوقات
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


نمازوں کے ابتدائی،انتہائی اور مستحب اوقات

نمازِ فجر کا وقت:

صبح ہوتے وقت مشرق کی طرف سے آسمان کی لمبائی (شرقاً غرباً)میں کچھ سفیدی دکھائی دیتی ہے،اسےصبحِ کاذب کہاجاتا ہے،اس کے تھوڑی دیر بعد آسمان کے کنارے پر سفیدی چوڑائی میں (شمالاً جنوباً)دکھائی دیتی ہے اور بالکل روشنی ہوجاتی ہے اسےصبحِ صادق  کہا جاتا ہےجس سے فجر کا وقت شروع ہوجاتا ہےاور سورج نکلنے تک باقی رہتا ہے،جب سورج تھوڑا سا بھی طلوع ہوجائے تب فجر کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔فجر کی نماز  وقت ختم ہونےسے اتنا پہلے پڑھنا مستحب ہے کہ اگر کسی وجہ سے نماز فاسد ہوجائے تو وضو کے بعد سنت کے مطابق قراءت کرکے نماز ادا کی جاسکے۔ایک روایت میں ہے:فجر کی نماز کو روشنی پھیلنے کے بعد پڑھو کہ اس میں زیادہ اجر ہے۔([1])

نمازِ ظہر کا وقت:

سورج طلوع ہوکر جتنا اونچا ہوتا جاتا ہےہر چیز کا سایہ گھٹتا جاتا ہےسو جب سورج سر پر آ جائے اور سایہ گھٹنا موقوف ہوجائے وہ اصلی سایہ کہلاتا ہے اور جس لمحے سایہ بڑھنا شروع ہوجائے تو اس کو زوال کہتے ہیں،جس سے ظہر کا وقت شروع ہوجاتا ہے اور جب ہر چیز کا سایہ  دوگنا ہوجائے تب ظہر کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔گرمی میں ظہر کو ذرا دیر سے پڑھنا اور سردیوں میں جلدی پڑھنا مستحب ہے۔جیسا کہ ایک روایت میں ہے:(گرمی کے موسم میں )ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو،کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے پیدا ہوتی ہے۔([2])

نمازِ عصر کا وقت:

جب ہر چیز کا سایہ اصلی سایہ کے علاوہ اس کے دو مثل ہوجائے تو عصر کا وقت شروع ہوجاتا ہے جو سورج ڈوبنے تک باقی رہتا ہے۔ جب دھوپ زرد پڑجائے تو عصر پڑھنا مکروہ ہے۔نمازِ عصر میں مطلقاً تاخیر کرنا مستحب ہے۔گرمی ہو یا سردی عصر کے بعد نفل پڑھنا درست نہیں۔حضور جب عصر کی نماز پڑھتے تو سورج بلند اور تیز روشن ہوتا تھا۔([3])

نمازِ مغرب کا وقت:

جب سورج غروب ہوجائے تو مغرب کا وقت شروع ہوجاتا ہے اور جب تک مغرب کی طرف آسمان کے کنارے پر سرخی  کے بعد سفیدی باقی رہے، اس وقت تک مغرب کا وقت باقی رہتا ہے اور شفقِ ابیض(سفیدی کے غروب ہوتے ہی) مغرب کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔ مغرب کی نماز جلدی پڑھنا مستحب ہے۔دو رکعت کی مقدار تاخیر مکروہ تنزیہی اور بلا عذر اتنی تاخیر کرنا کہ ستارے گتھ جائیں مکروہ تحریمی ہے۔بارہا کے مشاہدات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ وقت مغرب کے نصفِ اول(First Half)کے اختتام پر ستارے گتھ جاتے ہیں لہذا اس سے پہلے پہلے نماز پڑھ لینی چاہئے۔ ([4])

نمازِ عشا کا وقت:

جب آسمان کے کنارے کی مغرب کی طرف سرخی  کے بعد آنے والی سفیدی جاتی رہے تو عشا  کا وقت شروع ہوجاتا ہے اور صبحِ صادق ہونے تک باقی رہتا ہے۔مستحب یہ ہے کہ عشا کی نماز تہائی رات سے کچھ دیر پہلے پڑھی جائے۔ آدھی رات کے بعد عشا(جماعت کے ساتھ)پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے کہ تقلیلِ جماعت کا سبب ہے۔البتہ!انفرادی پڑھنے والا آدھی رات کے بعد بھی پڑھے تو مکروہ نہیں۔([5])

وتر کا وقت:

وتر کے لئے مستحب یہ ہے کہ اخیر رات میں تہجد کے بعد پڑھے،بشرطیکہ تہجد پڑھنے اور رات کو اٹھنے کا اہتمام ہو،لیکن اگر جاگنے کا اعتبار نہ ہو  اور سوتے رہ جانے کا ڈر ہو تو سونے سے پہلے پڑھ لینا چاہیے۔

عورتوں کے لئے ہمیشہ فجر کی نماز اول وقت میں پڑھنا مستحب ہے، جبکہ باقی نمازوں میں بہتر یہ ہے کہ مردوں کی جماعت کا انتظار کریں، جب جماعت ہو چکے تو پڑھیں۔

نوٹ: Prayer time app ڈاؤنلوڈ کر کے نمازوں کی حفاظت کیجئے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رائیونڈ




[1]ترمذی،1/205،حدیث:154

[2]بخاری،1/199،حدیث:538

[3]بخاری،1/202،حدیث: 550

[4]نصاب توقیت،1/ 156

[5] رد المحتار،1/368 ملخصاً


Share